Al-Risala · August 1989

میرے مولا بلالے مدینے میں

Al-Risala, August 1989, pp. 31–32

By Maulana Wahiduddin Khan

ماہنامہ برہان (نومبر ۱۹۸۸ء) میں ایک واقعہ پڑھا۔ مطبوعہ الفاظ کے مطابق وہ یہ تھا: ’’امریکہ میں مقیم تحریک اسلامی کے ایک ذمہ دار بزرگ ڈاکٹر عرفان احمد صاحب نے ۲-۵ جولائی ۱۹۸۸ء کو علی گڑھ میں انٹرنیشنل اسلامک فیڈریشن آف اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن IFSO کے تحت منعقدہ ٹریننگ کیمپ میں تقریر کرتے ہوئے مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک بات نقل کی۔ دوران گفت گو مولانا نے امریکہ کی آزادی اور سیکولرزم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سوویت سیکولرزم اور ہندوستانی سیکولرزم کے مقابلہ میں امریکی سیکولرازم کم خطرناک ہے۔ اس پر میں نے مولانا کی سادہ لوحی پر تعجب کا اظہار کیا اور عرض کیا کہ مولانا، امریکہ میں بسنے والے مسلمان عالمی دشمن اسلام نمبر ایک امریکہ ہی کو قرار دیتے ہیں، اور وہ اس مسئلے میں اتنے حساس ہیں کہ اگر ان سے سوال کیا جائے کہ دنیا کا سب سے بڑا دشمن کون ہے تو چھوٹتے ہی وہ امریکہ کا نام لیتے ہیں‘‘ (صفحہ ۳۱-۳۲) یہ نہایت عجیب بات ہے کہ امریکہ میں بسنے والے مسلمان شدید حساسیت کی حد تک یہ رائے رکھتے ہیں کہ امریکہ اسلام کا دشمن نمبر ایک ہے۔ اس کے باوجود ان کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے ملکوں کو چھوڑ کر اطمینان کے ساتھ امریکہ میں رہ رہے ہیں تاکہ اس سب سے بڑے دشمنِ اسلام کی مشین کا ایک پرزہ بن سکیں۔ حتیٰ کہ پہلا موقع ملتے ہی وہ امریکہ کی شہریت حاصل کر لیتے ہیں تاکہ اپنی آنے والی نسلوں تک کو اس عظیم دشمنِ اسلام کی خدمت گزاری کے لیے وقف کر سکیں۔ ہو کہ امریکی شہریت کسی کو صرف اس وقت ملتی ہے جب کہ وہ امریکی نظام سے مکمل وفاداری کا فارم بھرے ۔

تاہم اس سے قطع نظر، ذاتی طور پر مجھے دونوں میں سے کسی رائے سے بھی اتفاق نہیں میرے نزدیک یہ بات بالکل اضافی ہے کہ کون دشمن نمبر ۱ ہے اور کون دشمن نمبر ۲۔ اصل چیز دیکھنے کی یہ ہے کہ ظاہری ناموافق حالات کے باوجود امکانی طور پر مواقع کار کہاں پائے جاتے ہیں۔

دیکھنا اور مواقع کو نہ دیکھنا ہی بے بصیرتی ہے، اور موجودہ زمانہ میں ساری دنیا کے مسلمان اُسی بے بصیرتی میں مبتلا ہیں، ان کے اصاغر بھی اور ان کے تمام اکابر بھی۔

محمود السالس ایک مصری انجینئر ہیں۔ انھوں نے مصر کے بعد امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ وہ امریکہ کے ایک بڑے انجینئرنگ ادارہ (Database Systems Services) میں منیجر ہیں۔ کیلی فورنیا کی ایک کمپنی کا ادارہ ہے جو ہوائی جہاز بنانے کا کام کرتی ہے۔ محمود السالس کا کہنا ہے کہ میں (اور اسی طرح دوسرے بہت سے لوگ، جو یہاں ہیں، وہ شناخت کے بحران (Identity crisis) میں مبتلا ہیں۔ انھوں نے امریکی شہریت حاصل کرنے کے لیے ۲۲ فروری ۱۹۸۴ء کو ایک مخصوص فارم بھرا۔ اس کے تحت انھوں نے اس بات کا حلف لیا کہ میں ہر بیرونی وفاداری کو مکمل طور پر ترک کرکے پوری طرح صرف امریکہ کا وفادار رہوں گا۔ مگر دس سال گزرنے کے بعد بھی میں دہرابیات کا شکار ہوں" انھوں نے کہا۔ ایک طرف محمود السالس کے الفاظ میں، ان کے معاہداتی فرائض (Contractual obligations) ہیں جن کا تعلق امریکہ سے ہے۔ دوسری طرف ان کے جذباتی احساسات (Sentimental feelings) ہیں جو ان کے سابق وطن مصر سے وابستہ ہیں۔ یہ بتاتے ہوئے انھوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ ان دونوں چیزوں کے درمیان میں اپنی شخصیت کو متعین نہیں کر پاتا۔ کیا آپ مجھے بتائیں گے کہ۔ میری اصل قومیت کیا ہے :

Printed page