Al-Risala · August 1989

Can you tell me what my true nationality is?

Al-Risala, August 1989, pp. 32–40

By Maulana Wahiduddin Khan

میرا اندازہ ہے کہ یہی ان تمام لوگوں کا حال ہے جنھوں نے یہاں کی شہریت حاصل کرلی ہے۔ ہر ایک دہر اشخصیت کا انسان بنا ہوا ہے ۔ کچھ لوگ کش مکش میں مبتلا ہیں۔ کچھ لوگ چھوڑ کر دوبارہ اپنے سابق وطن چلے گیے۔ اور کچھ لوگوں نے اس جھنجھٹ سے نجات حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو اس حد تک امریکی بنالیا کہ اب وہ غیر ذبیحہ کھاتے ہیں۔ اور ”عید“ کے بجائے ”کرسمس کو اپنے تیوہار کے طور پر مناتے ہیں ۔

مسلمان اگر مغربی ملکوں میں داعی بن کر آتے تو وہ وہی تاریخی کارنامہ انجام دیتے جو صحابہ کرام نے عرب کے باہر دوسرے ملکوں میں جا کر انجام دیا۔ مگر وہ داعی بن کر نہیں آئے نتیجہ یہ ٣٢ الرسائل اگست ۱۹۸۹

ہو کر وہ صرف دوسری قوموں کے مدعو بن کر رہ گئے ۔

امریکی مسلمانوں کے بارہ میں ایک رپورٹ پڑھی جس میں بتایا گیا تھا کہ اندازہ کیا گیا ہے کہ امریکہ میں چار ملین کی تعداد میں وہ مسلمان ہیں جو حال میں ہجرت کر کے یہاں آئے ہیں۔ اور چار ملین سے کچھ زیادہ وہ لوگ ہیں جن کو پہلے بلیک مسلم کہا جاتا تھا ، مگر اب وہ بقیہ مسلمانوں کے ساتھ شامل ہو چکے ہیں اور صرف مسلم کہے جاتے ہیں۔ یہ مسلمان چار ہزار سے زیادہ مسجدوں اور کلچرل مراکز میں اپنے مذہبی اعمال ادا کرتے ہیں :

In the U.S. it is estimated that there are 4 million Muslims of recent immigrants, and more than that of what was referred to, and is no more, of the black Muslims, because now the black Muslims have joined ranks with the rest and are all called Muslims. These Muslims practice their religion in over 400 smaller or larger mosques or cultural centres. امریکہ کے کالے باشندوں (نیگرو) کو پہلے غلام سمجھا جاتا تھا۔ تاہم اب انھیں قانونی طور پر یکساں شہری حقوق حاصل ہیں۔ اگر چہ اپنی تعلیمی پسماندگی کی بنا پر وہ اس قانونی امکان سے ابھی پورا فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔

امریکہ کے بعض نئے مفکرین نے سفید فام باشندوں اور سیاہ فام باشندوں کے درمیان یکساں حقوق کی وکالت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے سیاہ فام باشندے مختلف مگر یکساں (Different but equal) یہ نہایت صحیح تعبیر ہے۔ ٹھیک یہی معاملہ عورت اور مرد کے فرق کا بھی ہے۔ عورت مرد سے مختلف ہے ، مگر حقوق اور انسانی احترام میں وہ یکساں ہے۔ لیکن امریکی مفکرین نے جس حقیقت کو سیاہ فام اور سفید فام باشندوں کے معاملہ میں سمجھ لیا ہے ، وہ اس حقیقت کو ابھی تک عورت اور مرد کے معاملہ میں سمجھ نہ سکے ۔

اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ سفید فام اور سیاہ فام کے مسئلہ پر انھوں نے کھلے ذہن کے تحت سوچا ، اس لیے وہ اس کی حقیقی نوعیت کو سمجھ گئے۔ مگر عورت اور مرد کے معاملہ میں سوچتے ہوئے ان کی خواہش رکاوٹ بن گئی ۔ اس نفسیاتی پیچیدگی کی بنا پر وہ اس دوسرے معاملہ میں اس کی حقیقی نوعیت کو سمجھنے میں ناکام رہے۔

امریکہ کے سیاہ فام باشندوں کو نیگرو کہا جاتا تھا۔ ان کی حیثیت وہاں بالکل غلام کی سی تھی۔ اس کے رد عمل میں ان کے درمیان مختلف تحریکیں اٹھیں۔ ایک تحریک کے قائد الیا محمد تھے ۔ انھوں نے پیغمبر ہونے کا دعوی کیا اور اپنا مذہب اسلام بتایا۔ ان کے پیرو بلیک مسلم کہے جاتے

۱۹۷۵ میں الیا محمد کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد ان کے لڑکے وارث دین محمد ان کے جانشین مقرر ہوئے۔ وارث محمد نے جلد ہی پورے نظام کو بدل دیا۔ انھوں نے اپنے فرقہ کے لیے "بلیک مسلم" کے بجائے "امریکن مسلم" کی اصطلاح استعمال کی۔ انھوں نے اس سے انکار کیا کہ ان کے والد پیغمبر تھے۔ انھوں نے خالص اسلام (Pure Islam) کو اختیار کرنے کا اعلان کیا، یعنی وہی اسلام جو دوسرے تمام مسلمانوں کا ہے۔ انھوں نے امریکی حکومت سے وہ رقابت بھی ختم کر دی جو ان کے والد غیر ضروری طور پر قائم کیے ہوئے تھے ۔ فرقہ کے کچھ افراد نے ان کی مخالفت کی ، مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ ۱۹۶۰ میں ان لوگوں کی تعداد ۱۰ ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ مگر ۱۹۸۵ میں اس فرقہ کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہو چکی تھی۔ اب ان کی تعداد چار ملین ہے۔ اس فرقہ کے بارہ میں امریکہ میں بہت سی معلوماتی کتابیں شائع ہوئی ہیں ۔ ایک کتاب کا نام یہ ہے : Charles E. Lincoln, The Black Muslims in America, 1982 الیا محمد نے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا۔ تاہم ان کی خوش قسمتی تھی کہ وہ امریکہ میں پیدا ہوئے۔ وہ ہندستان یا پاکستان جیسے ملک میں پیدا ہوتے تو ان کا مستقبل بالکل دوسرا ہوتا ۔ اب تک وہ اور ان کے متبعین کا فرقرار دے کر امت مسلمہ سے الگ کر دیے گیے ہوتے۔ مگر آج الیا محمد کے جانشین وارث محمد اپنے چار ملین پیروؤں کے ساتھ امت مسلمہ کا حصہ بن چکے ہیں ۔

ڈاکٹر میاں محمد سعید ( پروفیسر جارج میسن یونیورسٹی، ورجینیا) نے بتایا کہ ۱۹۷۲ میں وہ نیوزیلا کے شہر کارکس (Carcas) گیے۔ وہ ہوائی اڈہ پر اترے تو وہیں آدمی کا بہت بڑا ہجوم اکٹھا تھا۔ معلوم ہوا کہ یہ سب کے سب مسلمان ہیں ۔ انھوں نے پوچھا کہ یہ لوگ اتنی بڑی تعداد میں ہوائی اڈہ پر کیوں جمع ہیں۔ مجمع میں سے ایک شخص نے کہا کہ آپ نہیں جانتے ، آج محمد علی آنے والے ہیں ۔ یہ سارے لوگ ان کے استقبال کے لیے یہاں آئے ہوئے ہیں ۔ یہ واقعہ بتاتے ہوئے ڈاکٹر ۱۹۸۹ الڑ سال اگست ۳۴

میاں محمد سعید نے کہا کہ محمد علی بلیک مسلم ہونے کی حیثیت سے الیا محمد کا پیرو تھا۔ ممگر ساری دنیا میں اس کا استقبال ایک مسلم ہیرو کی حیثیت سے کیا گیا :

He was welcomed all over the world as a Muslim hero اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ محمد علی کے کلے اپنے آپ کو مسلم ملت کا ایک فرد سمجھنے لگے۔ امریکہ کے کالے مسلمان عمومی طور پر مسلمانوں کے قریب آگئے۔ یہ قربت بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ کالے مسلمانوں کے موجودہ لیڈر وارث محمد نے حج کے لیے جانا چاہا تو ان کو بھی بلا روک ٹوک حج کی اجازت مل گئی۔ وہاں ان کی ملاقات تمام دنیا کے مسلمانوں سے ہوئی۔ اس سے ان کو اپنے خیالات کی تصحیح میں مدد ملی۔ نیو آرک (Newark) میں رابطہ عالم اسلامی کی کانفرنس ہوئی۔ اس میں وارث محمد کو شرکت کی دعوت دی گئی۔ جب وہ وہاں پہنچے تو ان کا خصوصی استقبال کیا گیا۔ یہاں انہوں نے تقریر کرتے ہوئے کھلے طور پر اعلان کیا کہ ان کے باپ الیا محمد عام انسان تھے، وہ پیغمبر نہیں تھے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت آخری طور پر ختم ہو چکی ہے ۔ ہم دوسرے مسلمانوں کے عقیدہ کو مانتے ہوئے ان کے ساتھ یکساں طور پر شامل ہوتے ہیں۔ ان کے والد کا کہنا تھا کہ موجودہ زمانہ میں صرف ان کی جماعت کو امت اسلام کی حیثیت حاصل ہے۔ چنانچہ اپنی جماعت کا نام انہوں نے (Lost-Found Nation of Islam) رکھا تھا۔ وارث محمد نے اس کو بدل کر اپنی جماعت کا نام "امریکن مسلم" رکھ دیا۔ قادیانی لیڈروں اور قادیانی فرقہ کا معاملہ بھی عین یہی تھا۔ مگر یہاں ان کے ساتھ بالکل مختلف سلوک کیا گیا۔ صحیح طریقہ یہ تھا کہ ان کے معاملہ میں دعوت اور نصیحت کے اصول پر اصلاحی عمل کا آغاز کیا جاتا۔ گر مسلم علماء نے یہاں نفرت اور مناظرہ بازی اور تکفیر اور بائیکاٹ سے اپنے عمل کا آغاز وہ پہلے ہی مرحلہ میں ان کے دشمن بن کر کھڑے ہو گئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قادیانیوں میں مزید شدت بڑھتی گئی، وہ قریب ہونے کے بجائے اور زیادہ دور ہو گئے۔

مسلمانوں نے محمد علی کلے کو اپنا ہیرو بنایا۔ مگر انہوں نے ڈاکٹر عبد السلام کو اپنا ہیرو نہیں بنایا حالانکہ محمد علی نے جو کارنامہ باکسنگ کے میدان میں انجام دیا تھا، وہی کارنامہ ڈاکٹر عبد السلام نے سائنس کے میدان میں انجام دیا تھا۔ اگر مسلمان دونوں کے ساتھ یکساں اخلاقی سلوک کرتے تو

عین ممکن تھا کہ جس طرح امریکی قادیانی " تائب ہو کر امت مسلمہ کا جزو بن گیا ، اسی طرح پاکستانی قادیانی " بھی اپنی اعتقادی اصلاح کر کے امت مسلمہ میں شامل ہو جاتا ۔

واشنگٹن سے ایک عربی اخبار نکلتا ہے جس کا نام " الامة " ہے ۔ اس کے چند شمارے دیکھنے کو ملے ۔ یہاں کے انگریزی اخباروں کے مقابلے میں اس کا معیار صحافت بہت کم تھا ۔ شمارہ ۱۲ دسمبر ۱۹۸۸ میں صفحہ اول پر خلیل جبران کے چند اقوال درج تھے ۔ ایک قول یہ تھا : وَيْلٌ لِأُمَّةٍ مُقَسَّمَةٍ إِلَى أَجْزَاءٍ وَكُلُّ جُزْءٍ اس قوم کے لیے خرابی ہے جو بہت سے حصوں میں يَحْسَبُ نَفْسَهُ فِيهَا أُمَّةً بٹ جائے اور ہر جزو یہ سمجھے کہ وہی قوم ہے۔ مغربی ملکوں میں بڑی تعداد میں ہندوستان اور پاکستان کے لوگ آباد ہیں۔ یہ لوگ مختلف اسلامی شخصیتوں سے متاثر ہیں اور اس کے مطابق اپنے اجتماعات کرتے رہتے ہیں ۔ مختلف ناموں سے الگ الگ تنظیمیں بھی قائم کر رکھی ہیں ۔

اسی قسم کی ایک تنظیم کا اجتماع امریکہ میں جولائی ۱۹۸۸ میں ہوا ، اس کی روداد میں نے پڑھی ۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ہماری تنظیم نے مختلف مقامات پر " دعوتی اجتماعات " کیے ۔ اس کے ساتھ درج تھا کہ " افغانستان ، فلسطین اور ہندوستانی مسلمانوں کے حق میں مختلف شہروں میں مظاہرے اور جہاد کا نفرنسیں منعقد کی گئیں " میں اس اندازِ کار کو عملاً بے فائدہ سمجھتا ہوں ۔ اور دعوت حق کا کام ، دونوں ساتھ ساتھ نہیں کیا جا سکتا ۔

رپورٹ کے مطابق ، تنظیم کے جولائی ۱۹۸۸ کے اجتماع میں اس کے صدر نے جو تقریر اس کا خلاصہ یہ تھا کہ ہمارا نصب العين اسلامی نظام حکومت کا قیام ہے۔ اسی میں دنیا کے تمام مسائل کا حل ہے ، انھوں نے گرجدار آواز میں کہا کہ مسلم نوجوان خالد و طارق کو اپنا آئیڈیل بنائیں اور انسان کو انسان کی غلامی سے نکالنے کے لیے مجاہد بن کر اٹھ کھڑے ہوں ۔ ان کی جذباتی تقریر کے دوران بار بار اللہ اکبر کے نعرے لگتے رہے ۔

اس اجتماع میں مشہور انگریز نو مسلم یوسف اسلام ، سابق کیٹ اسٹوئنس (Cat Stevens) کو بھی بلایا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ، یوسف اسلام کی تقریر کے دوران آڈیٹوریم پر مکمل سناٹا سامعین مبہوت ہو کر ان گفتگو سنتے رہے ۔ ان کی تقریر کا عنوان تھا " روشنی کی طرف سفر

انھوں نے اپنے قبولِ اسلام کا قصہ بتاتے ہوئے کہا کہ دولت، شہرت، عزت سب کچھ میرے پاس موجود تھی، مگر دل کا سکون نہ تھا۔ ساتھیوں نے مشورہ دیا کہ شراب اور منشیات کے ذریعہ سکون حاصل کرو۔ اسی دوران مجھے قرآن کا انگریزی ترجمہ مل گیا۔ اس کو پڑھ کر میرے دل کی دنیا ہی بدل گئی۔ اب مجھے معلوم ہوا کہ سکون کا اصل ماخذ کیا ہے ، قرآن نے میرے دل کے آخری گوشہ تک اپنی جگہ بنا لی۔

ہندوستان اور پاکستان کے " اسلام پسند" جو اپنے ملکوں کو چھوڑ کر امریکہ گئے ہیں۔ بھی سیاست اور جہاد کی تقریریں کرتے رہتے ہیں ، مگر اس قسم کی تقریروں میں وہاں کے باشندوں کے لیے کوئی کشش نہیں۔ البتہ یوسف اسلام جیسے لوگوں کی آواز میں ان کے لیے بے پناہ کشش ہے ۔ مغرب کے سامنے سیاسی انداز میں اسلام کو پیش کرنا مغرب کو اسلام سے دور کرنا ہے ۔ البتہ اگر مغرب کے سامنے فطرت کے انداز میں اسلام کو پیش کیا جائے تو وہاں کا انسان اس کے اندر اپنے لیے بے پناہ کشش پائے گا۔

امریکہ میں اب خدا کے فضل سے بہت سے لوگ پیدا ہوگئے ہیں جو الرسالہ کو خود پڑھتے ہیں اور دوسروں کو پڑھاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ابراہیم مامون صاحب نیویارک میں مقیم ہیں۔ وہ عرصہ سے الرسالہ کے قاری ہیں۔ اب انھوں نے پانچ کی تعداد سے الرسالہ کی ایجنسی شروع ایک تعلیم یافتہ امریکی پروفیسر ٹامس (Prof. Thomas) ان کے ملاقاتیوں میں سے تھے، ان کو انھوں نے الرسالہ انگریزی دیا اور مرکز کی چھپی ہوئی انگریزی کتابیں پڑھائیں۔ ٹامس کو یہ کتابیں بہت پسند آئیں۔ اب وہ اسلام سے مانوس نظر آرہے ہیں ۔ اسی طرح امریکہ کے مختلف مقامات پر لوگ الرسالہ (اردو یا انگریزی) منگاتے ہیں۔ کو خود پڑھتے ہیں اور دوسروں کو پڑھاتے ہیں۔

ہلٹن ہوٹل کے ایک بہت بڑے ہال کے باہر ایک خوبصورت بورڈ لگا ہوا تھا ۔ پر انگریزی میں لکھا ہوا تھا : بازار - اس کے اندر مختلف "اسلامی" چیزوں کی دکانیں تھیں ۔ اس کے زیادہ بڑے حصہ میں کتابوں کے اسٹال تھے ۔ دو بڑی میزوں پر اسلامی مرکز (دہلی) کا بھی اسٹال تھا جس پر تمام کتابیں اور الرسالہ (اردو ، انگریزی) رکھے گئے تھے۔ بڑی تعداد میں

لوگوں نے اسے آکر دیکھا اور کتابیں حاصل کیں۔ کئی لوگوں نے پورے پورے سیٹ حاصل کیے۔ صغیر احمد اسلم صاحب کے ایک بڑے تاجر ہیں۔ ان کو تذکیر القرآن بہت زیادہ پسند انھوں نے بار بار اصرار کیا کہ پوری تفسیر کو آڈیو کیسٹ پر لے آئیے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں امریکہ میں لوگوں کے پاس پڑھنے کا وقت نہیں، البتہ سننے کا وقت انھیں مل جاتا ہے۔ اور یہ وقت وہ ہے جب کہ وہ کار پر سفر کر رہے ہوتے ہیں۔ یہاں کے آدمی کے پاس اگر کوئی ”خالی وقت“ ہے تو وہی ہے جب کہ وہ کار سے سفر کر رہا ہوتا ہے۔ اور یہ وقت روزانہ اس کو کافی مقدار میں ملتا ہے۔ اگر تذکیر القرآن کو کیسٹ پر منتقل کر دیا جائے تو ہر آدمی اس کو اپنی کار میں رکھے گا اور سفر کے وقت روزانہ اس کو سنتا رہے گا۔

۳۱ دسمبر ۱۹۸۸ء کو واپسی ہوئی۔ پین ایم کی فلائٹ نمبر ۱۲۰ کے ذریعہ لاس اینجلس سے روانہ دن کے بارہ بجے جہاز کے اندر داخل ہوا تو بڑے جہاز کی بیشتر سیٹیں خالی تھیں۔ اس حادثہ کا اثر تھا جو ۲۱ دسمبر کو پین ایم کے جہاز کے ساتھ پیش آیا۔ انسان زندگی کے بعد پیش آنے والی موت سے ڈرتا ہے۔ مگر موت کے بعد پیش آنے والی موت سے کسی کو اندیشہ نہیں۔ اناؤنسر نے اعلان کیا کہ ہمارا جہاز ۳۳ ہزار فٹ کی بلندی پر اُڑتا ہوا لندن کی طرف جا رہا سطح زمین پر بادل چھائے ہوئے تھے ، مگر ۳۳ ہزار فٹ اوپر پہنچ کر ماحول بدل چکا تھا۔ اب جہاز نیلے رنگ کے کھلے آسمان میں اُڑ رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ زندگی کے تمام جھگڑے نچلی سطح پر پیدا ہوتے ہیں۔ اگر آپ اپنے کو اٹھا کر بلندی پر لے جاسکیں تو تمام جھگڑے اور فساد اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔

فرینکفرٹ سے دہلی کے لیے پین ایم کی فلائٹ نمبر66 کے ذریعہ سفر ہوا۔ یہ یکم جنوری ۱۹۸۹ء کی تاریخ تھی۔ جہاز میں بیشتر ہندوستانی مسافر تھے۔ چنانچہ اناؤنسر کی زبان بدل گئی۔ سے پہلے انگلش اور جرمن میں اعلانات کیے جا رہے تھے۔ اب جہاز کے اناؤنسر نے انگلش کے ساتھ ہندی میں اعلان شروع کر دیا:

ہمیں آشا ہے کہ ہمارے ساتھ آپ کی یا ترا سکھت رہے گی ۔ یدی آپ کسی قسم کی سہائتا چاہیں تو ہم آپ کی سیوا میں اُپستت ہیں۔ ہم اپنے سب یاتریوں کو

نئے سال کی شبہ کا منائیں دیتے ہیں۔

ایک تاجر کو معلوم ہے کہ اسے اپنے گاہک سے وہی زبان بولنا ہے جو گاہک کی اپنی زبان ہے۔ موجودہ زمانہ کے داعی اس راز کو نہیں جانتے کہ وہ اپنے مدعو سے خود مدعو کی زبان میں کلام کریں۔ اگر کوئی شخص بظاہر مدعو کی زبان میں بولنے والا ہو تو وہ بھی صرف حروف تہجی کے اعتبار سے ہوگا۔ اسلوب کلام اور انداز بیان کے اعتبار سے دیکھیے تو مدعو کے آشنا اسلوب اور اس کے مانوس انداز میں بولنے والے داعی سرے سے دنیا میں موجود ہی نہیں۔

فرینکفرٹ سے دہلی کا سفر مغرب سے مشرق کی طرف تھا۔ یعنی سورج کے الٹی طرف۔ دن بہت تیزی سے ختم ہوا۔ فرینکفرٹ سے روانگی ہوئی تو دن کے ساڑھے بارہ بجے تھے۔ گھنٹہ کا سفر طے کر کے جب دہلی پہنچے تو یہاں رات کے ڈیڑھ بج رہے تھے۔ یعنی "آٹھ گھنٹہ" میں "تیرہ گھنٹہ" کا سفر طے ہوا۔

۲ جنوری ۱۹۸۹ کو رات کے ڈیڑھ بجے جہاز دہلی پہنچا۔ آٹھ گھنٹہ کی لمبی اُڑان کے بعد جب جہاز حفاظت کے ساتھ زمین پر اترا تو مسافروں نے خوشی سے تالیاں بجائیں۔ لیکن اگر اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ ہم جس زمین پر سے وہ خود بھی ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے خلا میں دوڑ رہی ہے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ہم ایک جہاز اترے اتر کر دوسرے جہاز پر سوار ہوئے۔ ہم انسانی سواری سے نکل کر خدائی سواری میں بلیٹ گئے۔

انسانی سفر مسلسل جاری ہے ۔ انسانی سفر کی منزل موت ہے نہ کہ کوئی ایئر پورٹ ۔ حدیث میں اس طرح کہی گئی ہے کہ دنیا میں اس طرح رہو گویا کہ تم مسافر ہو (کن فی الدنيا كأنك

۲۱ دسمبر ۱۹۸۸ کو ہندوستان سے امریکہ کے لیے روانگی ہوئی تھی۔ یکم جنوری اور ۲ جنوری ۱۹۸۹ کی درمیانی رات کو دوبارہ میں نے ہندوستان کی زمین پر قدم رکھا۔ یہ سفر اگر چہ بہت محدود مدت کے لیے تھا، مگر اس مدت میں پورا کیلنڈر تبدیل ہو گیا۔ تاریخ کے صفحہ پر ۱۹۸۸ کے بجائے ۱۹۸۹ لکھا جا چکا تھا۔ میں "حال" سے نکل کر "مستقبل" میں داخل ہو گیا۔

دہلی سے کیلی فورنیا کے سفر میں میں نے کرہ ارض کے آدھے سے زیادہ حصہ کا سفر کیا۔

جانے اور آنے کو ملا کر، مجموعی طور پر تقریباً ۳۰ ہزار میل کا فاصلہ طے ہوا۔ دس دن کے بعد جب میں اس لمبے سفر سے واپس ہو کر اپنے ٹھکانے پر پہنچا تو میں نے سوچا کہ دنیا کے سفر میں آدمی بہر حال ایک روز اپنے ٹھکانے پر واپس آ جاتا ہے۔ مگر ایک اور سفر ہے جس کا معاملہ بالکل مختلف ہے ۔

یہ موت کا سفر ہے جو ہر ایک کو لازمی طور پر کرنا ہے۔ موت کے سفر کے بعد نہ واپسی کا کوئی امکان ہے اور نہ تلافی مافات کی کوئی صورت ۔ ہر آدمی کو لازماً ایک ایسی سواری پر بیٹھنا ہے جو کبھی اس کو واپس لے کر نہیں آئے گی کہ وہ اپنی کوتاہی اور اپنی سرکشی کی تلافی کر سکے۔ کیسا سخت معاملہ انسان کے ساتھ پیش آنے والا ہے اور وہ کتنا زیادہ اس سے غافل پڑا ہوا ہے۔ دنیا کی تمام عجیب باتوں میں سب سے زیادہ عجیب بات بلاشبہ یہی ہے ۔

Printed page