Al-Risala · August 1989

تیوہار اور قومی یک جہتی

Al-Risala, August 1989, pp. 41–44

By Maulana Wahiduddin Khan

تیوہار کو عربی میں عید، ہندی میں تیوہار اور انگریزی میں فیسٹول (Festival) کہتے تیوہار کا بنیادی مقصد اجتماعی روایات کو زندہ رکھنا اور فرد کو فرد سے جوڑنا ہے۔ تہذیب کی پوری تاریخ میں تیوہار کا رواج رہا ہے۔ سال کی خاص تاریخوں میں مشترک طور پر قومی تقریب منعقد کرنا، یا مشترک تصور کے تحت کسی یادگار دن کو اجتماعی خوشی منانا، اسی کا نام

تیوہار عام طور پر سال کی مقرر تاریخوں میں ہوتے ہیں۔ اس روز سب لوگ جمع ہو کر مخصوص انداز میں خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہیں۔ اس طرح تیوہار لوگوں کے اندر اجتماعیت اور یک جہتی پیدا کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔ وہ سماج کے ایک حصہ کو اس کے دوسرے حصہ سے قریب لے آتا ہے۔ تیوہار ملاقات اور تعلق کی مضبوط اور پائیدار زمین فراہم کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔

تیوہار کا ایک حصہ عام طور پر کسی مخصوص سماجی گروہ کے اپنے عقیدہ اور اپنی تاریخ سے تعلق اور ایک حصہ عمومی ہوتا ہے جو صرف ایک سماجی گروہ کی دلچسپی کی چیز نہیں ہوتا بلکہ پورے سماج ، اور وسیع تر معنوں میں تمام انسانوں سے تعلق رکھتا ہے۔

مثلاً عید میں دو گانہ نماز کا تعلق مسلم عقیدہ سے ہے۔ وہ مسلمانوں کے مذہب کا حصہ ہے۔ مگر عید میں شیرینی کھانا اور کھلانا ایک ایسی چیز ہے جس کا تعلق تمام انسانوں سے ہے۔ سطح پر میل جول کو بڑھانے والا ہے۔ وہ ایک عالمی چیز ہے نہ کہ کوئی گروہی چیز۔ دیوالی میں لکشمی کی پوجا کرنا ہندو عقیدہ سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ ہندو مذہب کا جز ہے لیکن گھر کی صفائی ایک ایسی چیز ہے جس میں ہر آدمی کے لئے دلچسپی کا سامان موجود ہے۔ اس کو ہر آدمی خوشی سے اختیار کر سکتا ہے۔

میں آزادی (۱۹۴۷) سے پہلے والے ہندوستان میں پیدا ہوا۔ مجھے اپنے بچپن کی یہ بات اچھی طرح یاد ہے کہ جب دیوالی کا تیوہار آتا تو مسلمان ہندوؤں کے یہاں تحفے بھیجتے۔ ہم لوگ بھی اپنے ال رسالہ اگست ۱۹۸۹

گھروں کی صفائی اُسی طرح کیا کرتے تھے جس طرح ہندو لوگ انس تیوہار میں اپنے گھروں کی صفائی اسی طرح جب عید کا تہوار آتا تو ہندو بچے بھی مسلم بچوں کی طرح نئے کپڑے پہنتے۔ گھروں میں شیرینی کا اہتمام کیا جاتا اور وہ اپنے مسلم پڑوسیوں کی تواضع کر کے خوش ہوتے۔ اِس طرح مسلمانوں نے ہندو وتیوہاروں میں اپنے لئے دلچسپی کا سامان پایا تھا اور ہندو مسلمانوں کے تہواروں میں اپنی دلچسپی کا سامان پار ہے تھے۔ دونوں فرقوں کے تہوار ایک اعتبار سے اُن کے اپنے فرقے کے تہوار ہوتے تھے اور دوسرے اعتبار سے اُن کی حیثیت مشترک تہوار کی ہوتی تھی۔ اِس دوسرے اعتبار سے دونوں گویا ایک دوسرے کے تہواروں کو مل جل کر مناتے اِس طرح دونوں فرقوں میں رواداری کو فروغ ملتا تھا۔ دونوں بار بار ایک دوسرے سے قریب ہوتے رہتے تھے۔

اِس چیز نے اِس زمانہ میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کا مل ہم آہنگی اور یک جہتی پیدا کر رکھی تھی۔ دونوں میں کسی قسم کی اجنبیت حائل نہ تھی۔ دونوں اپنے آپ کو مسلم اور ہندو سمجھتے ہوئے وسیع تر ہندوستانی قوم کا جز بنے ہوئے تھے۔ دونوں اِس عظیم ملک سے یکساں محبت کرتے تھے جس کا نام اب تاریخ میں برصغیر ہند (Indian sub-continent) لکھا جاتا ہے۔ یہی وہ دور ہے جس کی بابت سرسید نے اپنی ایک تقریر (۲۷ جنوری ۱۸۸۳ء) میں کہا تھا: ”ہندو ہو نا یا مسلمان ہو نا انسان کا اندرونی خیال یا عقیدہ ہے، جس کو بیرونی معاملات اور آپس کے برتاؤ سے کچھ تعلق نہیں۔ ہندوستان ہی ہم دونوں کا وطن ہے۔ ہندوستان ہی کی ہوا سے ہم دونوں جیتے ہیں۔ مقدس گنگا اور جمنا کا پانی ہم دونوں پیتے ہیں۔ ہندوستان ہی کی زمین کی پیداوار ہم دونوں کھاتے ہیں۔ مرنے میں، جینے میں دونوں کا ساتھ ہے۔ در حقیقت ہندوستان میں ہم دونوں باعتبارِ اہلِ وطن ہونے کے ایک قوم ہیں۔ اور ہم دونوں کے اتفاق اور باہمی ہمدردی اور آپس کی محبت سے ملک کی اور ہم دونوں کی ترقی اور بہبودی ممکن ہے۔ اور آپس کے نفاق اور ضد و عداوت اور ایک دوسرے کی بدخواہی سے ہم دونوں برباد ہونے والے ہیں۔ پھر یہی وہ ہندوستان ہے جس کا ترانہ اقبال نے اپنے اشعار میں گایا تھا۔ ان کا یہ شعر اس مشترکہ جذبہ کی بہترین عکاسی کرتا ہے جس کو ہندوستان کے تقریباً ہر شخص نے سراہا ہے اور بے شمار

لوگوں نے اس کو گایا ہے :

سارے جہاں اچھا ہندوستان ہمارا ہم بلبلیں ہیں اس کی وہ گلستاں ہمارا اس طرح کے مشترک ماحول اور یک جہتی کی فضا پیدا کرنے میں تہوار نہایت اہم رول ادا حقیقت یہ ہے کہ وہ نفرت اور باہمی دوری کے قائل ہیں۔ اگر تہواروں کو صحیح جذبہ کے ساتھ اور مشترک انداز میں منایا جائے تو ہمارے سماج سے ہر قسم کے جھگڑے سے اور فساد کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو جائے۔

مجھے مذہب پر دلیش کے ایک صاحب نے بتایا وہاں کے ایک قصبہ میں فرقہ وارانہ تناؤ کا ہولی کے تہوار کا زمانہ آیا تو سخت اندیشہ پیدا ہو گیا کہ اس موقع پر فرقہ وارانہ فساد ہو کر ہولی کا رنگ انسانی خون کے رنگ میں تبدیل ہو جائے گا۔

اس وقت ایک بزرگ ہندو، مسلمانوں کے علاقہ میں گئے۔ انھوں نے مسلمانوں سے کہا کہ میں آپ لوگوں کا خیر خواہ ہوں اور آپ لوگوں کو ایک مشورہ دینے آیا ہوں جس میں ہم سب کی اگر آپ میرے اس مشورہ کو قبول کر لیں تو امید ہے کہ ہماری بستی بہت بڑی آفت سے بچ جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت ہماری بستی کے جو حالات ہیں وہ آپ کے سامنے ہیں۔ یقینی معلوم ہوتا ہے کہ یہ حالات باقی رہے تو ہولی کے موقع پر ضرور فرقہ وارانہ فساد ہو جائے گا اور ہماری سڑکوں پر رنگ کے بجائے خون بہے گا۔ اس مسئلہ کے حل کی ایک نہایت آسان تدبیر ہے اور اس وقت میں آپ کو وہی تدبیر بتانے آیا ہوں۔

انھوں نے کہا کہ ہولی کے دن جب ہندو لڑکے ہولی کھیلتے ہوئے مسلمانوں کے محلہ کے پاس پہنچیں تو مسلمان اس سے الگ نہ رہیں۔ بلکہ مسلمان لڑکے بھی باہر نکل کر ان کی پارٹی میں شامل ہو جائیں اور ان کے ساتھ ہولی کھیلنا شروع کر دیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر بالفرض آپ لوگوں کے کپڑوں میں ہولی کا رنگ لگنے کا کچھ عذاب ہو تو میں بھگوان سے کہتا ہوں کہ وہ اس کو میرے حصہ میں ڈال دے اور اس تدبیر سے فساد کے ٹلنے کا جو ثواب ہے وہ سب آپ لوگوں کے حصہ میں لکھ دیا یہ بات مسلمانوں کی سمجھ میں آگئی، چنانچہ انھوں نے ہولی کے موقع پر ایسا ہی کیا۔

ہولی کے دن حسب معمول ہندو نوجوانوں کی پارٹی مسلم محلے سے گزرنے والی سڑک پر آئی۔ اس وقت، پہلے سے طے ہوئے منصوبے کے مطابق، کچھ تفریح پسند مسلم نوجوان اپنے گھروں سے نکلے اور جوش وخروش کے ساتھ ہندو پارٹی میں مل گئے ۔ وہ اس مدت انہیں جیسے بن کر ان کے ساتھ ہولی کھیلنے لگے۔

ایسا کرنے کے بعد اچانک ساری فضا بدل گئی۔ جو دن دو دشمنوں کے ٹکر اؤ کا دن بنتا وہ دو دوستوں کے ملاپ کا دن بن گیا ۔ ہولی کا رنگ جوئتون کے چھٹ کاؤ کی صورت اختیار کرنے والا تھا، وہ پیار و محبت میں بدل کر لوگوں کے اوپر گلاب جل کا چھٹ کاؤ بن گیا۔

اسی طرح مہاراشٹر کے یک شہر کا قصہ ہے۔ وہاں ہر سال ایک خاص تاریخ کو گن پتی کا جلوس نکلتا ہے جو گویا ان کا ایک سالانہ تہوار ہے۔ ہندو اس میں بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔ سال ایسا ہوا کہ جلوس جب مسلم محلے سے گزرنے والی سڑک پر پہنچا تو کسی نہ کسی بات پر دونوں فرقوں میں اشتعال پیدا ہو گیا اور فساد کی نوبت آگئی۔

پچھلے سال وہاں کے مسلمانوں نے مشورہ سے یہ طے کیا کہ وہ جلوس کے خلاف روک ٹوک نہیں کریں گے اور نہ اس کی روٹ بدلنے پر اصرار کریں گے ۔ چنانچہ جب جلوس آیا تو انھوں نے پچھلے سالوں کے برعکس جلوس کا استقبال اور اس کو راحت پہنچانے کی کوششیں کیں۔ مثلاً یہ گرمی کا موسم تھا۔ چنانچہ انھوں نے راستہ میں جگہ جگہ ٹھنڈے پانی کا انتظام کر دیا۔ اس کا نتیجہ نہایت خوشگوار نکلا۔ دو فرقے جو اس سے پہلے ایک دوسرے کو حریف کی نظر سے دیکھتے تھے، وہ ایک دوسرے کو دوست کی نظر سے دیکھنے لگے۔ جلوس کا قافلہ جو عام حالت میں دونوں کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کا سبب بنتا، وہ دونوں کے درمیان دوستی اور یک جہتی پیدا کرنے کا ذریعہ بن گیا۔

تہوار کو اگر صحیح طریقہ سے منایا جائے تو بلاشبہ وہ رو اداری اور اتحاد اور ایک جہتی پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ وہ پورے سماج کو مشترک انسانی رشتہ میں جوڑ کر صالح معاشرہ کی تشکیل کرتا ہے۔ اور صالح معاشرہ سے پیدا ہونے والے نتیجہ ہی کا دوسرا نام یک جہتی ہے۔ نوٹ: یہ تقریر آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے ۲۲ اپریل ۱۹۸۹ کو نشر کی گئی۔

Printed page