خبر نامه اسلامی مرکز - ۵۳
Al-Risala, August 1989, pp. 25–47
By Maulana Wahiduddin Khan
الرسالہ کے مضامین خدا کے فضل سے ہر حلقہ اور ہر جماعت کے پرچوں میں نقل کیے جا رہے ہیں۔ اس طرح وہ ہر حلقہ میں پھیل رہے ہیں اور عام مسلمانوں کے دل کی آواز بنتے جارہے ہیں مثال کے طور پر جمعیۃ علماء ہند کے موقر ہفت روزہ الجمعیۃ دہلی نے حسب ذیل مضامین مکمل طور پر اور نمایاں طور پر شائع کیے ہیں:
الجمعیۃ ۹ فروری ۱۹۸۹ میں تحریک بابری مسجد الجمعیۃ یکم جون ۱۹۸۹ میں حقیقت بے نقاب الجمعیۃ ۸ جون ۱۹۸۹ میں تصویر کے دو رخ ہم الجمعیۃ کا اور دوسرے ان پرچوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو تعمیری افکار کی بیش از بیش اشاعت میں ہمارا تعاون کر رہے ہیں۔
۱۲ مئی ۱۹۸۹ کو نئی دہلی کے پاکستانی سفارت خانہ میں ایک خصوصی تقریب ہوئی۔ سفارت خانہ کے افسران کے علاوہ شہر کے لوگ بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر سفیر پاکستان مسٹر نیاز اے نائک نے تقریر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ صدر اسلامی مرکز کی کتاب پیغمبر انقلاب (انگریزی) کو پاکستان میں ہونے والے انٹر نیشنل سیرت مقابلہ میں اول انعام کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ مقابلہ عالمی سطح پر کیا گیا تھا اور انگریزی، فرانسیسی، جرمن، اسپینی، ترکی، فارسی وغیرہ زبانوں کی کئی سو کتابیں ججوں کے سامنے پیش کی ان میں سے جج صاحبان نے پیغمبر انقلاب (انگریزی) کو اول درجہ کی کتاب قرار اس تقریب کی رپورٹ انگریزی، ہندی، اردو اخبارات میں ۱۳ مئی کو شائع ہوئی۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ہفت روزہ نئی دنیا، ۲۶ مئی ۱۹۸۹ اسلامی مرکز اور الرسالہ کے مشن کے بارہ میں عالمی سطح پر جاننے کا شوق بڑھ رہا ہے۔ ۲۵ مئی ۱۹۸۹ کو مرکز میں آسٹریلیا کی ایک ٹی وی ٹیم آئی۔ وہ صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لینا مگر اس وقت صدر اسلامی مرکز ایک سفر میں تھے، اس لیے انٹرویو نہ لیا تاہم وہ مرکز کا انگریزی لٹریچر اپنے ساتھ لے گئے۔
الالالالرسالہ کے مضامین اپنی عمومی پسندیدگی کی بنا نہ صرف اردو اخبارات اور رسائل میں نقل ہو کر وسیع پیمانہ پر پھیل رہے ہیں بلکہ دوسری زبانوں کے پرچوں میں بھی ترجمہ ہو کر شائع کیے جا رہے ہیں۔ مثلاً گوالیار کے ہندی روزنامہ دیش بندھو (۷ مئی ۱۹۸۹) نے رسالہ کا ایک مضمون شائع کیا ہے جس کا عنوان ہے " رمضان " یہ ہندی ترجمہ محمد انوار الحق صدیقی ایم اے نے کیا تھا۔
غازی آباد سے ایک ہندی ہفتہ وار نکلتا ہے جس کا نام ہنڈن پَتھ ہے ۔ اس نے "صدائے حق " کے نام سے ایک مستقل کالم شروع کیا ہے۔ اس کے تحت ہر ہفتہ رسالہ کا کوئی مضمون ہندی میں ترجمہ کر کے شائع کیا جاتا ہے ۔ ہندی ترجمہ کا کام مسٹر ایس ایس بھٹناگر انجام دے رہے ہیں۔
مولانا امیر اللہ خاں (محبوب نگر) لکھتے ہیں : آپ کی نئی کتاب " دین کامل " کے مطالعہ کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے قلم میں سحر رکھا ہے ۔ جو آپ کی تحریر پر پڑھتا ہے مسحور ہو جاتا ہے ۔ " دین کامل " دین کی کامل ترین ترجمانی ہے جو عصری اسلوب میں کی گئی ہے اور اسلام اور مسلمانوں کی بقاء و ترقی اور دین اسلام کی اشاعت کا اہم ترین تقاضا دعوتی شعور اور عملِ دعوت ہے۔ یہ کتاب اپنے موضوع پر منفرد اور اچھوتی ہے۔
رسالہ کا تعمیری مشن خدا کے فضل سے دن بدن لوگوں کے ذہنوں پر چھایا جا رہا ہے ۔ سے لوگوں نے اپنی بولیاں بدل دی ہیں ۔ وہ لوگ جو اس سے پہلے شکایت اور احتجاج کو کام سمجھ رہے تھے اب وہ اپنے آپ کو دفاعی پوزیشن میں محسوس کرنے لگے ہیں۔ اظہار مختلف صورتوں میں سامنے آرہا ہے۔ مثلاً ایک مشہور مسلم رہنما نے اپنی ایک تقریر میں کہا: " میں بانگ دہل اعلان کرتا ہوں کہ ہم لوگ جو شکایت کرتے ہیں وہ شکایت بجا ہے، ہم شکایت کرتے رہیں گے۔ شکایت کرنا ہمارا حق ہے۔ ہم کو یہ حق ہے کہ اپنے قومی جلسوں میں اپنی مجلسوں میں اور اخباروں کے کالموں میں اس بات کی شکایت کریں کہ ہمارا فلاں حق نہیں مل رہا ہے۔ ہمارے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے۔ ہم اپنی حکومت سے شکایت
کرتے رہیں گے اور سو بار کریں گے۔ ہمیں اپنی آواز بلند کرنے کا حق ہے۔ ہم ہمیشہ انتظامیہ اور حکمراں جماعت سے شکایت کریں گے؛ (۲۵ مئی ۱۹۸۹) مقرر کے یہ الفاظ واضح طور پر دفاعی نفسیات کے تحت نکلے ہوئے الفاظ ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے شکایتی سیاست میں اپنا یقین کھودیا ہے اور اب لفظوں کے سہارے دوبارہ اس کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کچھ نئی انگریزی، ہندی اور اردو کتا بیں اس وقت پریس میں ہیں۔ اردو میں دو نئی کتابیں چھپ رہی ہیں (۱) اسلام دورِ جدید کا خالق۔ (۲) اقوالِ حکمت۔
ایک کشمیری نوجوان لکھتے ہیں : اللہ کا شکر و احسان ہے کہ اسلام کو صحیح طور پر سمجھنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہوں ۔ میرے شبہات ختم ہو گئے ہیں اور یہ سب آپ کی اعلیٰ تحریروں کا کرشمہ ہے۔ مسلم نوجوانوں کو کسی عالم کا کوئی لٹریچر بدل نہیں سکتا سوا تذکیر القرآن کے۔ یقیناً اس وقت سب سے اہم کام مسلم نوجوانوں کو تذکیر القرآن کی طرف زیادہ سے زیادہ راغب کرنا ہے۔ تذکیر القرآن اپنی نوعیت کی پہلی تفسیر ہے جس میں قرآن کا اصلی مقصد ( ہدایت و نصیحت) سامنے لایا گیا ہے۔ اب میں الرسالہ کی ایجنسی لے رہا ہوں۔ الرسالہ کے مضامین بہت معنی خیز اور بہترین ہوتے ہیں ۔ الرسالہ کے سفرنامے سے ایمان تازہ ہو جاتا ہے ۔ الطاف حسین، ملتن)
ایک صاحب لکھتے ہیں : آپ لوگوں کو سنجیدگی اور حوصلہ مندی کی طرف بلاتے ہیں۔ آپ کی کتابیں پڑھیں۔ آپ دورِ حاضر میں منفرد شخصیت رکھتے ہیں جو حقائق کی طرف ذہنوں کو متوجہ کرتے ہیں ۔ حالاں کہ دنیا میں بے شمارقائدین ہیں جو کہتے ہیں کہ آنکھ بند کرو اور چٹان سے ٹکرا جاؤ اور پھر دیکھو کامیابی تمہارے قدم چومتی ہے۔ چنانچہ ہم چٹان سے ٹکرا جاتے ہیں اور پھر کبھی سر نہیں اٹھا سکتے۔ لیکن آپ کا انداز انتہائی معنی خیز اور دلوں میں اترنے والا ہوتا اس سے متاثر ہو کر میں نے طے کیا ہے کہ میں الرسالہ کی ایجنسی قائم کروں اور دس پرچے ہرماہ منگا کر پھیلاؤں (سید فرید احسن ہاشمی، حیدر آباد)
ایک نئی کتاب زیر طبع ہے ۔ اس کا نام ہوگا : رُشديات : شتمِ رسول کا مسئلہ ۔ اس کتاب میں زیر بحث موضوع پر سنت رسول کی روشنی میں تفصیلی نظر ڈالی گئی ہے۔