غلطی کی اصلاح
Al-Risala, September 1989, pp. 4–5
By Maulana Wahiduddin Khan
خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایرانیوں اور مسلمانوں کے درمیان جنگ ہوئی۔ ابتدائی مقابلہ میں ایرانی فوجوں کو شکست ہوئی۔ اس کے نتیجہ میں ایرانی گھبرا اٹھے۔ اس وقت رستم ایران کا وزیر اعظم تھا۔ اس نے اپنے فوجیوں کو جمع کر کے مشورہ کیا کہ عربوں کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے کس ایرانی بہادر کو مقرر کیا جائے ۔ سب نے بہمن جادویہ کا نام لیا۔ رستم نے بہمن جادویہ کو ۱۲ ہزار فوج ۳۰ جنگی ہاتھی اور دوسرے ضروری سامان دے کر عربوں کی طرف بہمن جادویہ کو جو سامان دیے گیے ان میں درفش کاویانی بھی تھا۔ جس کی نسبت ایرانیوں کا عقیدہ تھا کہ جس فوج کے ساتھ یہ جھنڈا ہو اس کو کبھی شکست نہیں ہو سکتی۔ یہ واقعہ ۱۳ھ (۶۳۵ ء) ہے۔ بہمن جادویہ چلتا ہوا دریائے فرات کے کنارے مقام ناطف میں آکر مقیم ہوا۔ ابو عبید بن مسعود ثقفی اسلامی لشکر کے ساتھ فرات کے دوسرے کنارے مقام مروصہ میں مقیم تھے۔ جادویہ نے ابو عبیدہ کے پاس پیغام بھیجا کہ تم دریا پار کر کے ادھر آتے ہو یا ہم دریا پار کر کے تمہاری طرف ابو عبید ثقفی نے جوش شجاعت میں یہ کہلا دیا کہ ہم دریا پار کر کے آتے ہیں ۔ اسلامی لشکر نے ایک چھوٹے پل کے ذریعہ فرات کو پار کیا۔ جب وہ دوسری طرف پہنچے تو صورت حال یہ تھی کہ پیچھے کی طرف فرات کا چوڑا دریا تھا جو وسیع جنگی نقل و حرکت میں مانع تھا۔ طرف سامنے بہمن جادویہ کا مسلح لشکر تھا جس کے آگے جنگی ہاتھی صف باندھ کر کھڑے ہوئے تھے ۔ ان ہاتھیوں پر تیر انداز بیٹھے ہوئے تھے تاکہ وہ لشکر اسلام پر بھر پور تیروں کی بارش کر سکیں ۔ مسلمان اس وقت گھوڑوں پر تھے۔ ان کے گھوڑوں نے اس سے پہلے کبھی ہاتھی نہیں دیکھا تھا۔ چنانچہ ان کے گھوڑے ہاتھیوں کو دیکھ کر بدکنے لگے۔ مسلمانوں نے جب دیکھا کہ ان کے گھوڑے ان کے قابو سے باہر ہو رہے ہیں تو وہ گھوڑوں سے کود کر زمین پر آگئے اور پیادہ پا لڑنے لگے۔ مگر یہ طریقہ مزید خطر ناک ثابت ہوا۔ ہاتھیوں نے جب آگے بڑھ کر مسلمانوں کی صفوں پر حملہ کیا اور انہیں کچلنا شروع کیا تو مسلمانوں کی صفیں درہم برہم ہونے لگیں۔
اس خونی معرکہ کی تفصیل بہت لمبی ہے۔ خلاصہ یہ کہ مسلمانوں کے کئی سردار اور خود ابو عبید
مسعود ثقفی کو ہاتھیوں نے اپنے پیروں کے نیچے کچل دیا۔ مسلمانوں نے پیچھے ہٹنا چاہا تو وہاں دریا ان کی راہ میں حائل چنانچہ بہت سے لوگ دریا میں غرق ہو گئے۔ مسلم فوجیوں کی تعداد اس وقت ۹ ہزار تھی ۔ سے تقریباً ۶ ہزار افراد جنگ میں کام آگئے مسلمانوں کی بچی کھچی فوج دریائے فرات کے دوسری طرف جمع ہوئی ۔ اب ایک صورت تھی کہ ان کے شاعر اور خطیب اٹھتے اور اپنی شکست کو شہادت قرار دے کر اس کو گلوریفائی کرتے ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان کرتے ہیں ۔ مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ اس کے برعکس انھوں نے پورے معاملہ پر نظر ثانی کی اور اس کا اعتراف کیا کہ دریا کے اُس پار میدان جنگ بنا کر انھوں نے غلطی کی تھی۔ اب ایک طرف مسلمان مزید فوج جمع کر کے تیاری کرنے لگے ، اور دوسری طرف ایرانیوں نے اپنے سردار مہران ہمدانی کو سالار یہ جنگ بنا کر بہت بڑی فوج کے ساتھ دوبارہ مسلمانوں سے لڑنے کے لیے بھیجا۔ مہران ہمدانی جب فرات کے کنارے پہلا تو اس نے مسلم فوج کے سردار مثنیٰ کو دوبارہ یہ پیغام بھیجا کہ تم دریائے فرات کو پار کر کے ہماری طرف آتے ہو یا ہم دریائے فرات کو پار کر کے تمہاری طرف آئیں ۔ مسلم سردار نے دوبارہ وہ غلطی نہیں کی جو پہلی بار ان سے ہو گئی تھی ۔ نے کہلا دیا کہ تم ہی فرات کو عبور کر کے ہماری طرف آؤ ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اب دونوں فوجوں میں جب لڑائی ہوئی تو معاملہ برعکس تھا۔ ایرانی فوج کے پیچھے دریا تھا اور سامنے اسلامی لشکر۔ دوسری طرف اسلامی لشکر کا معاملہ یہ تھا کہ اس کے آگے ایرانی فوج تھی اور پیچھے کھلی ہوئی اس طرح میدانِ مقابلہ ایرانیوں کے خلاف اور مسلمانوں کے موافق ہو گیا ، ایرانی فوج نے حسبِ سابق زبردست حملے کیے ۔ انھوں نے اپنے ہاتھیوں کو بھی استعمال کیا مگر آخر کار انھیں شکست ہوئی ۔ سپہ سالار مثنیٰ ابن حارثہ نے دریا کے اوپر لکڑی کے پل کو توڑ دیا تھا ۔ چنانچہ ایرانی فوج جب پیچھے کی طرف بھاگی تو اس کے لیے اس کے سوا کوئی راہ نہ تھی کہ وہ مسلمانوں کی تلوار سے بچنے کی کوشش میں دریا کی موجوں میں غرق ہو جائے ۔ ابن خلدون کی روایت کے مطابق ایرانی لشکر کے تقریباً ایک لاکھ آدمی مقتول دوسری طرف مسلمانوں کے لشکر میں جو لوگ اس جنگ میں کام آئے ان کی تعداد صرف ایک سو یہ واقعہ رمضان ۱۳ھ میں پیش آیا ۔
شکست کے بعد فتح کا یہ عظیم واقعہ اپنی غلطی کی اصلاح کا کرشمہ تھا ۔