کت نا فرق
Al-Risala, September 1989, pp. 8–9
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو مدینہ میں نفاق نے سراٹھایا اور عرب اور عجم میں ارتداد پھیل گیا۔ لوگ کہنے لگے کہ وہ شخص دنیا سے چلا گیا جس کی وجہ سے عرب کو خدا کی مدد ملتی تھی۔ اُس وقت خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق نے مہاجرین اور انصار کو جمع کیا اور کہا کہ ان عربوں نے اپنی بکریوں اور اپنے اونٹوں کو روک دیا ہے۔ اپنے دین سے پھر گئے ہیں ۔ اور عجم کے لوگ نہاوند میں جمع ہیں تاکہ ہم سے جنگ کریں۔ ان لوگوں کا گمان ہے کہ وہ شخص جس کی وجہ سے تمہاری مدد کی جاتی تھی وہ وفات پاگیا ۔ اے لوگو اس معاملہ میں مجھے
راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر کی تقریر کے بعد لوگ سر جھکا کر خاموش ہو گئے اور دیر تک آخر حضرت عمر بن الخطاب گویا ہوئے اور انھوں نے کہا (فَأَطرَقُوا طویلاً ثم تكلم عمر بن الخطاب رضی اللہ عنه، فقال، حياة الصحابه، الجزء الاول، صفحه ۲۳۲) حضرت ابوبکر صدیق کے سوال کے بعد لوگ کیوں دیر تک خاموش رہے۔ اس کی وجہ ان کی سنجیدگی اور ان کا تقویٰ تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو پہلے سوچتے تھے اور اس کے بعد بولتے تھے۔ وہ ہر قول اور ہر فعل سے پہلے اللہ سے ہدایت اور رہنمائی کی دعا کرتے تھے۔ جب خلیفہ اول نے مذکورہ مسئلہ ان کے سامنے رکھا تو اپنے مزاج کے مطابق سب کے سب سوچ میں غرق ہو گیے۔ ہر ایک دل ہی دل میں اللہ کی طرف متوجہ ہوگیا۔ یہی وہ چیز تھی جس نے ہر ایک پر خاموشی طاری کردی۔
حقیقت یہ ہے کہ ان کی یہ خاموشی ایک عظیم گفت گو تھی، ان کا یہ سر جھکانا سب سے بڑا اقدام تھا۔ چنانچہ وہ جب بولے تو ان کا بول تمام بولوں پر بھاری ہو گیا۔ جب وہ اُٹھے تو ان کا اُٹھنا تمام دشمنوں کو پست کرنے کے ہم معنی بن گیا۔ کیوں کہ ان کا بول خدا کی رہنمائی کے تحت تھا، ان کے اقدام میں خدا کی مدد ان کے ساتھ شامل ہوگئی تھی۔
اب دیکھیے کہ اس معاملہ میں موجودہ مسلمانوں، خاص طور پر ان کے رہنماؤں ، کا کیا حال ہے۔ اس کا منظر دیکھنا ہو تو مسلمانوں کی کسی ایسی مجلس میں شریک ہو کر دیکھ لیجیے، جو اس نوعیت کے الـرسالہ ستمبر ۱۹۸۹
هنگامی مسئلہ پر اکٹھا ہوئی ہو۔ مثلاً فلسطین، فرقہ وارانہ فساد، بابری مسجد، سلمان رشدی جیسے مسائل۔ آپ دیکھیں گے کہ موضوع کا ذکر چھڑتے ہی ہر آدمی لسانی جہاد کا شہنشاہ بن گیا ہے۔ ہر آدمی پر جوش طور پر یہ چاہتا ہے کہ وہ سب سے پہلے بولے، اور آتشیں الفاظ کی پوری ڈکشنری کو بیک وقت اپنی زبان سے دہرا ڈالے۔
مگر یہ لفظی جوش دکھانے والے عمل کے وقت پھسڈی ثابت ہوتے ہیں۔ مارچ کے موضوع پر تقریروں کا دریا بہانے والے مارچ کی تاریخ آنے کے بعد خاموش ہو کر گھر میں بیٹھ رہتے ہیں۔ بول میں آگے رہنے والے عمل میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ بحث میں سب سے پہلے کھڑے ہونے والے اس وقت سر جھکا کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں جب کہ عملی اقدام کا وقت سر پر آگیا ہو۔ جو برتن جتنا زیادہ خالی ہو، وہ اتنا ہی زیادہ آواز دیتا ہے۔ اسی طرح جو آدمی جتنا زیادہ بے عمل ہو اتنا ہی زیادہ وہ پر شور الفاظ بولتا ہے۔ بولنے والے کرتے نہیں، اور کرنے والے بولتے نہیں۔ اور حقیقت کی دنیا میں کرنے کی قیمت ہے نہ کہ بڑے بڑے الفاظ ہوا میں بکھیرنے کی ۔ قیمت میں اضافہ مہنگائی میں غیر معمولی اضافے کی بنا پر تمام اخبار اور رسالے اپنی قیمتیں بڑھا چکے ہیں۔ فیصلہ کیا گیا ہے کہ الرساله اردو اور انگریزی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا جائے ۔ ۱۹۸۹ سے دونوں کی قیمتیں حسب ذیل ہوں گی :
صاحبان ایجنسی اگر تعداد میں کوئی تبدیلی کرنا چاہیں تو نو نوراً مطلع فرمائیں ۔