قربانی کے نام پر بر بادی
Al-Risala, January 1989, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
بابری مسجد کی بازیابی کے لئے نام نہاد قائدین کی تحریک اپنے اصل مقصد میں تو ایک فی صد بھی کامیاب نہیں ہوئی۔ مگر اس نے مسلمانوں کے لئے انتہائی سنگین مسائل پیدا کر دئے۔ ایک مسلم اخبار نے ”دہشت کے مارے مسلمان “ کے عنوان کے تحت لکھا ہے: ” پور ملک فرقہ وارایت کی گھناؤنی آگ کی لپٹوں نفرت، غصہ، انتقام اور کشیدگی سے مل کر جو ماحول بن رہا ہے، اس نے معصوم، بے قصور اور امن پسند انسانوں کے لئے با عزت اور با ہمت طور پر زندہ رہنا نہ صرف مشکل بلکہ نا ممکن بنا دیا ہے (ہجوم، ۱۸۰، ۲۴ نومبر ۱۹۸۸)
یہ حالات اگر چہ سخت افسوسناک ہیں۔ مگر ان کا مثبت فائدہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے پہلی بار حقیقت پسندانہ انداز میں سوچنا شروع کیا ہے۔ اب وہ سمجھ رہے ہیں کہ ان حالات کی ذمہ داری دوسروں سے زیادہ خود اپنے آپ پر ہے۔ ان حالات کو پیدا کرنے والے وہ نام نہاد مسلم لیڈر ہیں جو قربانی کے نام پر مسلمانوں کو بربادی کی راہوں میں دوڑاتے رہے۔
ماضی میں جذباتی سیاست کی نمائندگی کرنے والے ایک مسلم اخبار نے لکھا ہے کہ ” اس میں قصور کچھ ہمارا بھی ہے۔ ہم بھی جذبات سے مغلوب ہوگئے۔ ہمارے سامنے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ نہیں رہا۔ ہم نے مسئلہ کو تدبیر کے بجائے جذباتی انداز سے حل کرنے کی غلطی کی ۔ یہ جد و جہد اشتعال انگیز بیانات اور تقریروں سے سر ہونے والی نہیں ۔ چڑھ جائیے سولی پر “ کا عمل سود مند ثابت ہونے والا نہیں (ندائے ملت، ۲۳ اکتوبر ۱۹۸۸)
یہ اطمینان کی بات ہے کہ جذباتی سیاست کے سنگین نتائج دیکھنے کے بعد مسلمان اب اس سے دور ہونا چاہتے ہیں۔ ” جان بیٹا خلافت پر دے دو“ اور چڑھ جائیے سولی پر“ جیسے نعروں پر احمقانہ قربانی کے ایک سو سال ضائع کرنے کے بعد اب ان کی آنکھیں کھل رہی ہیں۔ یہ نیا طرز فکر انہیں نام نہاد قائدین سے دور کرے گا، اور قائدین سے دوری ہی کا دوسرا نام منزل سے قریب ہونا ہے۔