سلیقہ مندی
Al-Risala, September 1989, pp. 15–16
By Maulana Wahiduddin Khan
کمانا مشکل ہے مگر خرچ کرنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے ۔ جو شخص صحیح طور پر خرچ کرنا جانے ، وہ کم آمدنی میں بھی زیادہ آمدنی والی زندگی گزار سکتا ہے ۔ اس کے برعکس جو آدمی صحیح طور پر خرچ کرنا نہ جانے، وہ زیادہ آمدنی میں بھی کم آمدنی والے مسائل میں مبتلا رہے گا ۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص سلیقہ اور کفایت کے ساتھ خرچ کرنا جانے ، اس کو گو یا اپنی آمدنی کو بڑھانے کا ہنر معلوم ہو گیا ۔ اس نے اپنی آمدنی میں مزید کمائے بغیر اضافہ کر لیا ۔ کرنے سے پہلے سوچئے۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح آپ کمانے سے پہلے سوچتے ہیں جو کچھ کیجیئے منصوبہ بند انداز میں کیجئے اور پھر آپ کبھی معاشی پریشانی میں مبتلا نہ ہوں گے ۔ فضول خرچی کا دوسرا نام معاشی تنگی ہے ۔ اور کفایت شعاری کا دوسرا نام معاشی فارغ البالی۔ اس حقیقت کی وضاحت کے لیے یہاں دو واقعہ نقل کیا جاتا ہے ۔
مجھے ایک صاحب کا واقعہ معلوم ہے ۔ انھوں نے ایم ایس سی کیا۔ اس کے بعد ان کو سو روپیہ ماہوار کی سروس ملّی ۔ انھوں نے طے کیا کہ اس رقم میں سے صرف دو سو روپیہ کو میں اپنی آمدنی سمجھوں گا اور بقیہ دو سو کو سیونگ اکاؤنٹ میں جمع کروں گا ۔ ان کی تنخواہ بڑھتی رہی ـــــــــــــ ایک ہزار ، ۲ ہزار ، ۳ ہزار ، ۴ ہزار ، ۵ ہزار ۔ مگر انھوں نے ہمیشہ کل تنخواہ کے نصف کو اپنی آمدنی سمجھا اور بقیہ نصف کو ہر ماہ بینک میں جمع کرتے رہے ۔
اس طرح کی دس سالہ زندگی گزارنے کے بعد انھوں نے اپنا اکاؤنٹ دیکھا تو انھیں معلوم ہوا کہ ان کے اکاؤنٹ میں ایک بڑی رقم جمع ہو چکی ہے ۔ اب انھوں نے سروس چھوڑ کر بزنس شروع کر دیا ۔ آج وہ اپنے بزنس میں کافی ترقی کر چکے ہیں ۔ مگر زندگی کا جو طریقہ انھوں نے ابتدا میں اختیار کیا تھا اسی پر وہ آج بھی قائم ہیں ۔ وہ نہایت کامیابی کے ساتھ ایک خوشحال زندگی گزار رہے ہیں ۔ اب اس کے برعکس مثال لیجئے ۔ ایک صاحب کو وراثتی تقسیم میں یک مشت ایک لاکھ روپیہ انھوں نے اسی کے ذریعے سے کپڑے کی ایک دکان کھولی ۔ دکان بہت جلد کامیابی کے ساتھ چلنے مگر چند سال کے بعد ان کی دکان ختم ہو گئی ۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے آمدنی اور لاگت کے فرق کو نہیں سمجھا۔ مثلاً ان کی دکان پر اگر ۵ ہزار روپیہ کا کپڑا بکے تو اس میں ساڑھے چار ہزار روپیہ لاگت کا ہوتا تھا اور ۵۰۰ روپیہ آمدنی کا۔ مگر وہ دکان میں آئی ہوئی رقم کو اس طرح خرچ کرنے لگے جیسے کہ ۵ ہزار کی پوری رقم آمدنی کی رقم ہو۔ ظاہر ہے کہ یہ فضول خرچی کی بدترین شکل تھی ۔ چنانچہ چند سال میں وہ دیوالیہ ہو کر ختم ہو گئے ۔ اس دنیا میں سلیقہ مند زندگی کا نام خوش حالی ہے اور بے سلیقہ زندگی کا نام بد حالی ۔