Al-Risala · September 1989

Japan's bid to excel the US in supercomputers

Al-Risala, September 1989, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سپر کمپیوٹر کے میدان میں امریکہ کا طویل مدت کا غلبہ اب مشتبہ ہو گیا ہے۔ امریکہ کی ایک کارپوریشن کے تجزیہ کاروں نے مطالعہ کے بعد یہ اعلان کیا ہے کہ جاپان کا بنایا ہوا ایک سپر کمپیوٹر ۱۹۹۰ میں مارکیٹ میں آجائے گا۔ یہ دنیا کی سب سے زیادہ تیز کام کرنے والی مشین ہوگی۔ جاپانیوں نے اس نئے کمپیوٹر کا نام ایس ایکس ایکس (SX-X) رکھا ہے۔ اس کی رفتار اتنی زیادہ ہے کہ وہ ایک سیکنڈ میں سائنٹفک قسم کے حساب کے ۲۰ بلین آپریشن کر سکتا ہے۔ یہ جاپانی کمپیوٹر امریکہ کے تیز ترین کمپیوٹر سے ۲۵ فیصد زیادہ تیز رفتار ہے۔ اسی کے ساتھ اس کی مزید خصوصیت یہ ہے کہ کامل صحت کارکردگی کے ساتھ نسبتاً وہ کم خرچ بھی ہے۔

اس سپر کمپیوٹر کی اہمیت صرف سائنٹفک ریسرچ، تیل کی تلاش اور موسم کی پیشین گوئی جیسی چیزوں ہی تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ وہ نیشنل سیکورٹی کے لیے بھی بے حد اہم سمجھا جاتا ہے۔ کیوں کہ وہ نیوکلیئر ہتھیاروں کی تیاری میں بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔

نئے جاپانی کمپیوٹر نے دنیا کو ایک نئے صنعتی دور میں پہنچا دیا ہے۔ موجودہ کمپیوٹر جو کسی زمانہ میں "جدید" سمجھے جاتے تھے، اب وہ روایتی اور تقلیدی بن کر رہ گئے ہیں۔ حتی کہ جاپان کی اس ایجاد نے اس کو خود فوجی میدان میں بھی برتری عطا کر دی ہے۔

امریکہ نے "سپر بم" بنا کر ۱۹۴۵ میں جاپان کو تباہ کر دیا تھا۔ مگر وہ جاپان سے یہ امکان نہ چھین سکا کہ وہ "سپر کمپیوٹر" بنا کر دوبارہ نئی زندگی حاصل کرلے اور صرف ۴۵ سال کے اندر تاریخ کا رخ موڑ دے۔ تخریب، خواہ وہ کتنی ہی بڑی ہو، وہ تعمیر کے مواقع کو ختم نہیں کرتی، اور تعمیر کی طاقت، بہر حال تخریب کی طاقت سے زیادہ ہے۔

Printed page