کراہتِ حق
Al-Risala, September 1989, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر کہا گیا ہے کہ ہم نے لوگوں کے پاس حق بھیجا۔ مگر اکثر لوگ حق سے بیزار رہے (المومنون ۷۰ ، الزخرف ۷۸) قتادہ کہتے ہیں کہ ہم سے بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی۔ آپ نے اس سے کہا کہ اسلام قبول کر۔ آدمی نے کہا کہ آپ مجھ کو ایک ایسی چیز کی طرف بلاتے ہیں جو مجھے پسند نہیں۔ آپ نے فرمایا اگر تمہیں پسند نہ ہو تب بھی (قال قتادة : ذكر لنا ان النبي صلى الله عليه وسلم لقي رجلاً فقال : اسلم ۔ فقال الرجل انك لتدعوني الى امر انا له كاره ۔ فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم : وان كنت كارهاً)
اس کی تفصیل یہ ہے کہ انسان کے لیے عمل کے دو راستے ہیں۔ ایک ، اتباع حق۔ اتباع اہواء (المومنون ۷۱) حق پر چلنے کے لیے آدمی کو سوچ کر فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ آدمی کے اندر سے اپنے آپ اٹھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر معاملہ میں آدمی ابتدائی طور پر خواہشات کے راستہ پر چل پڑتا ہے۔ اور حق پر چلنے کے لیے خواہشات کو دبانا اور نفس کے تقاضوں پر صبر کرنا ضروری ہے ۔
ایسی حالت میں اگر کوئی ایسی تحریک اٹھے جو لوگوں کی خواہشات کے مطابق ہو تو اس کا ساتھ دینے کے لیے لوگوں کو کسی محنت یا قربانی کی ضرورت نہیں ہوگی۔ کیوں کہ یہ تو وہی راستہ ہوتا ہے جس پر لوگ عملاً پہلے ہی سے قائم ہوتے ہیں۔ ایسی تحریک کے ساتھ چلنے کے لیے لوگوں کو اپنا راستہ بدلنے کی ضرورت پیش یہی وجہ ہے کہ اس قسم کی تحریکوں کے گرد بہت جلد لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس جب حق کی بے آمیز دعوت اٹھتی ہے تو وہ گویا راستہ بدلنے کی دعوت ہوتی ہے۔ اس کو ماننا یہ تقاضا کرتا ہے کہ آدمی اپنی سوچ کو بدلے۔ اپنے جذبات پر روک لگا کر اس کو ایک سمت سے دوسری سمت کی طرف موڑ دے۔ مزید یہ کہ حق کی دعوت کو ماننا لوگوں کے لیے عزت اور ساکھ کا سوال بھی بن کیونکہ حالتِ موجودہ میں حق کو ماننا دوسرے لفظوں میں یہ کہنے کے ہم معنی ہوتا ہے کہ " میں غلطی پر تھا " یہی وجہ ہے کہ جب بھی بے آمیز حق کی دعوت اٹھتی ہے تو اکثر لوگ اس کو ماننے میں کراہت محسوس کرنے لگتے ہیں۔ وہ اس سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ اس کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔