ایک آیت
Al-Risala, September 1989, pp. 21–23
By Maulana Wahiduddin Khan
فاستقم كما امرت ومن تاب معك پس تم جَمے رہو جیسا کہ تم کو حکم ہوا ہے اور وہ بھی جس ولا تطغوا انه بما تعملون بصير نے تمہارے ساتھ تو بہ کی ہے اور حد سے نہ بڑھو، ولا تركنوا الى الذين ظلموا فتمسكم النار بے شک اللہ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو۔ وما لكم من دون الله من اولیاء متم کی طرف نہ جھکو جنہوں نے ظلم کیا، ورنہ تم کو آگ لا تنصرون (ہود ۱۳-۱۱۴) پکڑلے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی مددگار نہیں، پھر تم کہیں مدد نہ پاؤ گے ۔
اس آیت میں جس استقامت کا حکم دیا گیا ہے وہ بے آمیز دعوت پر استقامت ہے۔ اور عدم رکون (نہ جھکنے) سے مراد یہ ہے کہ اس معاملہ میں ہرگز کوئی خارجی اثر قبول نہ کرو۔ ہر حال میں اسی دعوتِ توحید پر قائم رہو جس کی تمہیں تلقین کی گئی ہے۔
انسانی سماج میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ غیر خدا کی پرستش میں مبتلا ہو جاتے ہیں، بھی خدا کو چھوڑ کر اور کبھی خود خدا کے نام پر۔ اس لیے جب کبھی سچی خدا پرستی کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ تمام لوگ بھڑک اٹھتے ہیں جو غیر خدائی بنیاد پر اپنی زندگی کا ڈھانچہ کھڑا کیے ہوئے ہوں ۔ یہاں داعی بیک وقت دو سخت ترین آزمائش میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ ایک یہ کہ مدعو کی اشتعال انگیزی کے باوجود وہ مکمل طور پر صبر کی روش پر قائم رہے، وہ کسی حال میں صبر و اعراض کی راہ سے نہ ہٹے ۔ دوسرے یہ کہ مدعو کے لیے قابلِ قبول بنانے کی خاطر وہ دعوت میں کسی بھی قسم کی لچک نہ دکھائے ۔ گویا ایک طرف اصل نکتہ دعوت پر جماؤ، خواہ اس کے نتیجہ میں مدعو کار د عمل شدید سے شدید تر کیوں نہ ہو جائے ۔ اور دوسری طرف اپنی داعیانہ تصویر کو برقرار رکھنے کی خاطر مدعو کے ہر ظلم کو یک طرفہ طور پر برداشت کرنا ۔
یہاں جس عدم رکون کا ذکر ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اپنی قومی شناخت کو قائم رکھنے پر پوری طرح جمے رہو۔ ایسا ہر گز مت کرو کہ ٹوپی اور شیروانی اتار کر ہیٹ اور پتلون پہننے لگو۔ اسی طرح اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ حکمرانوں کے خلاف اپنی تحریک میں کسی قسم کی مصالحت نہ
دکھاؤ ، ان کو تخت سے بے دخل کرنے کے سوا کسی اور بات پر راضی نہ ہو ۔ آیت کی ایسی تشریح بالکل قومی عدم رکون یا سیاسی عدم رکون کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں ۔
یہ آیت سراسر آداب دعوت سے متعلق ہے۔ یہاں عدم رکون سے مراد پیغام توحید کے بارہ میں عدم رکون ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دعوت توحید کے خالص پن (Purity) کو پوری طرح باقی رکھو ۔ اس میں کسی بھی قسم کی آمیزش نہ کرو۔ قومی حقوق کا مطالبہ ، مادی زیادتیوں کے خلاف لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اسلوب دعوت کو بدلنا ، عوام کے درمیان مقبولیت حاصل کرنے کے لیے ان کی دل پسند بولی بولنا ۔ دعوت کے اصل نکتہ کے ساتھ ایسی باتوں کو شامل کرنا جس سے لوگوں کی بھیڑ جمع ہوتی ہو۔ یہ سب رکون میں شامل ہے ۔ اور ایسی ہر چیز سے کامل پر ہیز داعی کے لیے انتہائی طور پر ضروری ہے ۔
دعوت کا کام سراسر ایک مثبت کام ہے ۔ مگر اس کی صحیح انجام دہی کے لیے دو منفی شرطیں ایک عدم طغیان ، اور دوسرے عدم رکون ۔ امام حسن بصری نے اس بات کو اس طرح بیان کیا کہ اللہ نے دین کو دولا (نہیں) کے درمیان رکھا ہے ۔ تجاوز نہ کرنا ، اور جھکاؤ نہ دکھانا ۔ (عن الحسن ، جعل الله الدين بين لاة مين ولا تطغوا ولا تركنوا ، تفسير النسفي)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں یہ دونوں چیزیں بہت واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہیں۔ مثلا مکہ میں ۱۳ سال تک مدعو قوم آپ اور آپ کے اصحاب کے اوپر ہر قسم کا ظلم کرتی رہی ۔ مگر آپ نے ان کے خلاف کسی بھی قسم کا رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ ہمیشہ آپ ایک طرفہ صبر کی روش پر قائم رہے۔ زیادتیوں کے باوجود آپ نے نہ کبھی احتجاج کیا اور نہ حقوق طلبی کی مہم چلائی ۔ اسی طرح مکہ کے سرداروں نے آپ کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ ہم آپ کی دشمنی چھوڑ دیں گے، آپ ہماری صرف ایک شرط کو پورا کر دیں ۔ وہ یہ کہ آپ ہمارے بتوں کو برا نہ کہیں ۔ یہ تمام بت دراصل ان کے فوت شدہ بزرگ تھے ۔ ان بزرگوں کی تصویر بنا کر وہ ان کو پوجتے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیدوں کی زد ان پر پڑتی تھی جس سے ان کی عقید تمندیوں کو سخت ٹھیس لگتی تھی ۔ نے چاہا کہ ان کی غیر خدائی عقید تمندیوں پر ضرب نہ لگے تو وہ آپ کو اور آپ کے مشن کو گوارا کر لیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے تیار نہیں ہوئے ۔
یہ دونوں چیزیں انسان کے لیے بے حد سخت ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان سے زیادہ سخت چیز اور کوئی اُس دنیا میں نہیں ۔
مذکورہ آیت میں جو حکم دیا گیا ہے ، اس کی اسی سنگین نوعیت کی بنا پر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بہت شدید ثابت ہوئی تھی۔ البغوی نے نقل کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کوئی آیت نہیں اتری جو آپ پر اس آیت سے زیادہ شدید اسی لیے آپ نے فرمایا کہ سورہ ہود نے مجھے کو بڑھا کر دیا (ما نزلت علی عھد رسول الله صلى الله عليه وسلم آية هي اشد عليه من هذه الآية ولذلك قال : شيبتني