ضلع شیو سینا کاریالیہ، پچچمی بنگال
Al-Risala, January 1989, pp. 42–24
By Maulana Wahiduddin Khan
راج تیواری صاحب نے کہا کہ میں اس بورڈ کو دیکھ رہا تھا کہ تقریباً ۷۰ سال کا ایک بوڑھا بنگالی وہاں راج تیواری صاحب چونکہ بنگلہ زبان جانتے تھے اس لئے اسی زبان میں اس سے گفتگو ہوئی۔ پوچھا کہ کیا دیکھ رہے ہو ۔ راج تیواری صاحب نے کہا کہ میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ مندر کے بازو میں بینا کیسی۔ بنگالی نے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے، انھوں نے اپنا نام اور پتہ بتایا۔ اس کے بعد بنگالی نے کہا کہ اندر وہ راج تیواری صاحب کو اندر ایک کمرہ میں لے گیا جو دفتر کی مانند تھا اور کچھ لوگ وہاں کام کر رہے تھے۔ اس بنگالی کا نام پنکج مکرجی تھا۔
یہاں دیوار پر بہت سے ہندو لیڈروں کی تصویریں لگی ہوئی تھیں۔ مثلاً شیو اجی، رانا پرتاپ، ساورکر، ہیڈ گوار ، وغیرہ۔ یہ تمام تصویریں دو فٹ چوڑی اور دو فٹ لمبے سائز میں تھیں۔ ان کے درمیان ایک زیادہ بڑی قد آدم تصویر لگی ہوئی تھی جو دو فٹ چوڑی اور چار فٹ لمبی تھی۔ بقیہ تصویریں نصف حصہ جسم کی تھیں مگر بڑی تصویر سر سے پاوں تک پورے قد کی تھی۔
راج تیواری صاحب نے غور کر کے اس تصویر کو پہچانا تو وہ سید شہاب الدین کی تصویر تھی۔ انھوں نے مذکورہ بنگالی سے پوچھا کہ سید شہاب الدین کی تصویر یہ یہاں کیوں لگی ہوئی ہے ۔ وہ تو آپ کے مذکورہ بنگالی نے جواب دیا کہ بیٹے، یہ ہمارا دیوتا ہے۔ جو کام ہمارے دوسرے لیڈر ہزار
سال میں بھی نہ کر سکے ، اس کو بھگوان شہاب الدین نے ڈیڑھ سال میں کر دیا۔ سیکڑوں سال سے سوئے ہندو کو شہاب الدین نے ڈیڑھ سال میں جگا دیا۔ ہم تو ان کا مندر بنائیں گے اور ان کی پوجا کریں گے۔ مسٹرراج تیواری نے یہ قصہ ۱۳ نومبر کی شام کو ۳ بجے وہاں ایئر پورٹ پر لکھوایا اور اس کے نیچے اپنے دستخط کئے ۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ کوئی شخص اس بات کو خود اپنی آنکھ سے دیکھنا چاہے تو وہ میرے ساتھ مانکورہ چلے۔ میں اس کو یہ چیز بھوپال دکھاؤں گا۔
اطلاعات بتاتی ہیں کہ مسٹر راج تیواری کی یہ رپورٹ انوکھی نہیں۔ چنانچہ ہفت روزہ ندائے ملت (لکھنؤ) نے اپنے ادار یہ مورخہ ۲۳ اکتوبر ۱۹۸۸ میں لکھا ہے کہ " ایک بڑے ہندو لیڈر کے گھر ان کے ایک ہندو دوست گئے۔ انھوں نے دیکھا کہ شہاب الدین صاحب کی ایک بڑی تصویر دیوار پر لگی ہوئی ہے۔ پھول کی مالا بھی چڑھا رکھی ہے۔ ان کے ہندو دوست کو سخت تعجب ہوا کہ شہاب الدین کی فوٹو اس گھر میں کیسے ۔ انھوں نے بہت تعجب سے پوچھا کہ یہ فوٹو آپ کے یہاں کیسے ۔ انھوں نے جواب دیا کہ شہاب الدین ہمارا محسن ہے۔ اس نے ہندو قوم کو متحد کر دیا۔ دراصل یہی ہوا ۔ ایسے کھلے ہوئے نشانات ظاہر ہونے کے بعد بھی اگر مسلمان اپنے دوست اور اپنے دشمن کو نہ پہچانیں تو ان سے زیادہ نادان قوم دنیا میں اور کوئی نہ ہوگی، نہ حال میں اور نہ ماضی میں۔ تعمیر کی طرف از: مولاناحمیدالدین خاں مستقبل کی تعمیر، لاقانونیت کا مسئلہ، تاریخ کا سبق ترقی اور اتحاد، اصلاح کی طرف ، نمونہ انسانیت هدیه ۶ روپیه
مولانادی الدین خان از مولانادی الدین خان قرآن میں اسلام کو دین کامل کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام دین مستحکم ہے۔ اسلام کا ظہور، دین خداوندی کی تاریخ میں ایک دور کا خاتمہ اور دوسرے دور کا آغاز ہے۔ اسلام نے خدا کے دین کے ساتھ انسانی تعدی کے دور کو ختم کر دیا اور دین کو تمام پہلوؤں سے کامل کر کے اس کو ایسا مستحکم بنا دیا کہ قیامت تک اس کی برتری باقی رہے وہ اپنے پیروؤں کے لیے ابدی سرفرازی کی ضمانت بن جائے۔ صفحات ۳۷۸ ہدیہ ۴۰ روپیہ مکتبہ الرسالہ، نئی دہلی