قومی رجحان
Al-Risala, September 1989, pp. 23–24
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر قوم کا ایک قومی رجحان ہوتا ہے۔ اس رجحان کا ساتھ دینے سے قوم کے اندر قیادت اور مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔ اور جو شخص اس رجحان کے خلاف بولے ، وہ قوم کے اندر بے جگہ ہو جاتا ہے۔ اس کو قوم کے اندر نہ مقبولیت حاصل ہوتی اور نہ قیادت۔
اس معاملہ کو وقت کی ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے ۔ یہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر کا مسئلہ ہے ۔ ہندوستان کا قومی رجحان یہ ہے کہ کشمیر ایک حل شدہ معاملہ ہے۔ برعکس پاکستان کا قومی رجحان یہ ہے کہ کشمیر ایک غیر حل شدہ اور متنازعہ معاملہ ہے۔ ملک کے لیڈر جب اس مسئلہ پر بولتے ہیں تو وہ اپنے یہاں کے قومی رجحان کی پوری رعایت کرتے وہ جانتے ہیں کہ اس کے خلاف بولتے ہی وہ ختم ہو جائیں گے۔
اس کی مثال دونوں ملکوں میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ مثلاً ہندوستان میں آنجہانی راج گوپال اچاری نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ابھی طے ہونا باقی ہے ، اس کے بعد وہ ملک کے اندر بالکل غیر مقبول اسی طرح پاکستان میں خان عبدالغفار خاں کا کہنا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ آخری طور پر طے ہو چکا ہے ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ پاکستان میں غیر مقبول ہو کر رہ گیے ۔ اس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ چیز کیا ہے جس کو قرآن میں رکون (ھود ۱۱۳) کہا گیا ہے۔
رکون (جھکاؤ) اگر کسی گروہ کی طرف ہو تو اس سے آدمی کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
لیکن جب آدمی گروہی تقاضوں کو نظر انداز کر کے خالص حق کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کرتا ہے تو وہ لوگوں کے درمیان اکیلا ہو کر رہ جاتا ہے ۔ رکون کا راستہ سب سے زیادہ آسان راستہ ہے ۔ اور عدم رکون کا راستہ سب سے زیادہ مشکل راستہ ۔
قوم کا رجحان خواہش پر مبنی ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس داعی اصول کی بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے ۔ اگر داعی اصول کی بات کہے تو وہ قوم سے کٹ جائے گا ، اور اگر وہ قومی رجحان کے مطابق بولے تو حق کی نمائندگی نہیں ہوتی ۔ یہ بے حد نازک امتحان ہے ۔ مگر داعی کو لازماً حق کہنا چاہیے ۔ نے " قومی آگ " سے بچنے کی خاطر حق کا اعلان نہیں کیا تو اس کو " خدائی آگ " پکڑ لے گی ، اور یقیناً خدا کی آگ ، قوم کی آگ سے زیادہ سخت ہے ۔
الرسالہ کے پہلے صفحہ پر ہر ماہ جو مختصر اقوال چھپتے رہے ہیں ، وہ اور کچھ دوسرے حکیمانہ اقوال ملا کر یہ کتاب تیار کی گئی ہے جو جیبی سائز کے ۲۰۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ ہر صفحہ پر ایک قول جلی خط میں درج کیا گیا ہے ۔
یہ کتاب گویا زندگی کی سائنس ہے ۔ اس میں کامیابی اور ترقی کے گر بتائے گئے وہ نہ صرف آپ کے لیے ایک رہنما کتاب ہے ، بلکہ وہ آپ کی طرف سے آپ کے دوستوں اور رشتہ داروں کے لیے بہترین تحفہ ہے ۔ اپنے گاہکوں کو یہ کتاب بطور گفٹ دے کر اپنی تجارت کو فروغ دے سکتے ہیں ۔