امر المسلمین
Al-Risala, September 1989, pp. 25–27
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوستان کے مسلم رہنما جس چیز کو مسلمانوں کے ملی مسائل کہتے ہیں، وہ در حقیقت مسلمانوں کے قومی مسائل ہیں۔ یہ مسلمانوں کے اپنے قومی حقوق اور مادی مفادات کا جھگڑا ہے جو انھوں نے اس ملک کی حکومت اور یہاں کے اکثریتی فرقہ کے خلاف بے معنی طور پر چھیڑ رکھا ہے۔ اس قومی عمل کو اسلامی عمل ثابت کرنے کے لیے ان کے رہنماؤں نے ایک حدیث دریافت کرلی ہے۔ حدیث یہ ہے: من لم يھتم بامرا المسلمین فلیس منهم (جو شخص مسلمانوں کے معاملہ کے لیے فکر مند نہ ہو وہ ان میں سے نہیں)
ہمارے رہنماؤں نے اس حدیث سے "امرالمسلمین کا لفظ لیا اور اس کو موجودہ مسلمانوں کے تمام قومی جھگڑوں پر منطبق کر دیا۔ مگر استدلال کا یہ طریقہ لغویت کی حد تک غلط ہے۔ کون سا " امر" مراد ہے، اس کا تعین قرآن وسنت سے ہوگا، نہ کہ موجودہ مسلمانوں کے اپنے قومی
اس حدیث میں امرالمسلمین کا مطلب یہ نہیں کہ مسلمان نامی گروہ جس چیز کو بھی اپنا امر (معاملہ) )سمجھ لے، وہ مسلمانوں کا امر بن جائے گا، اور اس کے لیے فکر مند ہونا اور اس کے لیے تدبیر کرنا ضروری ہو جائے گا۔ امرالمسلمین وہ ہے جو خدا اور رسول کے نزدیک امرالمسلمین نہ ہو کہ خود مسلمانوں کے نزدیک امرالمسلمین۔
مکہ کے مسلمانوں پر ہر قسم کا ظلم کیا جا رہا تھا۔ انھوں نے چاہا کہ اپنی مظلومیت کو ختم کرنے کے ظالموں سے جنگ کریں، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو امرالمسلمین نہیں مانا اور ان کو یکطرفہ طور پر صبر کرنے کا حکم دیا۔ حدیبیہ کے معاہدہ کی دفعات صحابہ کرام کو " ملی غیرت" کے خلاف معلوم انھوں نے چاہا کہ اسے رد کردیں اور قریش سے لڑیں، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو امرالمسلمین تسلیم نہیں کیا اور لوگوں کو مجبور کیا کہ وہ اس معاہدہ کو قبول کرلیں۔ کے بعد مہاجرین نے چاہا کہ مکہ میں اپنے چھوڑے ہوئے مکانوں پر دوبارہ قبضہ کریں۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بھی امرالمسلمین کی حیثیت نہ دی اور مہاجرین کو حکم دیا کہ وہ اپنے
مقبوضہ مکانوں کو اسی حالت میں چھوڑ کر مدینہ واپس چلے جائیں۔ وغیرہ ، وغیرہ اس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ کسی امر کا امرا لمسلمین ہونا خدا اور رسول کی مرضی سے طے ہوگا نہ کہ خود مسلمانوں کی اپنی خواہشات یا اپنی رایوں سے۔
مسلمانوں کے ساتھ پہلے بھی معاملات پیش آئے ہیں اور آئندہ بھی پیش آئیں گے۔ معاملات کے مقابلہ میں مسلمانوں کی روش کیا ہو ، اس کا فیصلہ مسلمانوں کی اپنی مرضی سے نہیں ہوگا ۔ کتاب وسنت کے بے لاگ مطالعہ سے یہ معلوم کیا جائے گا کہ کس معاملہ میں کون سی روش اختیار کی جائے۔ ہندوستان کے مسلمان اس وقت دو قسم کے مسائل سے دوچار ہیں ۔ ایک ، ہندوؤں کے ساتھ مسلمانوں کے فرقہ وارانہ جھگڑے ۔ دوسرا ، مسلمانوں کے باہمی اختلافات۔ ان دونوں معاملات میں قرآن وسنت کی واضح رہنمائی موجود ہے ۔ مسلم رہنما اگر ان معاملات میں مذکورہ حدیث پر عمل کرنا چاہتے ہیں تو ان کو وہی کام کرنا چاہیے جس کا حکم قرآن وحدیث میں دیا گیا ہے ۔ "ہند مسئلہ" کے متعلق بنیادی بات یہ ہے کہ ہندو ہمارے لیے مدعو کا درجہ رکھتے ہیں ۔ جو لوگ مدعو ہوں ، ان کے بارہ میں حکم ہے کہ ان سے نہ مادی اجر طلب کرو اور نہ ان سے قومی نزاع حتی کہ داعی کے اوپر فرض ہے کہ وہ مدعو کی زیادتیوں سے یک طرفہ طور پر اعراض کرے۔ ہندوستانی مسلمان اس کے سراسر خلاف عمل کر رہے ہیں ۔ ایسی حالت میں یہاں اہتمام بامر المسلمین یہ ہے کہ مسلمانوں کی موجودہ روش کی مذمت کی جائے اور ان کو صبر اور اعراض کی روش پر قائم رہنے کی تاکید کی جائے ۔
اس کے برعکس اگر مسلم رہنما یہ کریں کہ وہ "ملی مسائل " کے نام پر مسلمانوں کی قومی لڑائی میں شریک وہ اپنی تقریروں اور اپنے بیانات سے ان کی تصدیق اور ہمت افزائی کرنے لگیں تو یہ واضح طور پر حدیث کے مذکورہ حکم کی خلاف ورزی ہوگی ۔
مسلم رہنماؤں پر فرض ہے کہ وہ مسلمانوں کو بتائیں کہ ہندو ان کے لیے مدعو گروہ کے حکم میں ہیں۔ ان پر لازم ہے کہ وہ ہندوؤں سے قومی اور مادی مسائل پر ہرگز کوئی نزاع نہ چھیڑیں ۔ وہ حقوق طلبی کے بجائے محنت کشی پر اعتماد کریں۔ وہ ایک طرفہ قربانی کے ذریعہ مسلم اور ہندو کے درمیان تعلقات کو خوشگوار بنائیں تاکہ اس ملک میں دعوتی عمل کا آغاز کیا جاسکے جو مسلمانوں کی مجرمانہ غفلت کے نتیجہ میں صدیوں
سے رکا ہوا پڑا ہے ۔
"امر المسلمین" کا دوسرا پہلو وہ ہے جو مسلمانوں کے باہمی معاملات سے تعلق رکھتا ہے ۔ موجودہ مسلمانوں میں باہمی اختلاف اپنے آخری درجہ پر پہنچا ہوا ہے ۔ ہر شہر ، ہر محلہ ، ہر ادارہ میں اس کے مناظر دیکھے جاسکتے ہیں ۔ یہاں مسلم رہنماؤں کو یہ کرنا ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات و نزاعات میں براہ راست دخل دیں اور ہر ممکن تدبیر استعمال کرکے اس کو ختم کرنے کی کوشش کریں ۔ اس کوشش کا مطلب جلسہ اور تقریر نہیں ہے ۔ مسلمانوں کے باہمی نزاعات جلسوں اور تقریروں سے ختم نہیں کیے جاسکتے ۔ اس کی شکل صرف ایک ہے ۔ اور وہ اسلام کے اصول عدل کے مطابق عملی مداخلت ہے ۔ مثلاً انھیں معلوم ہوتا ہے کہ فلاں مقام پر ایک مسلمان نے دوسرے مسلمان کے ساتھ غصب اور خیانت کا معاملہ کیا ہے ۔ اب تمام مسلم لیڈر وہاں پہنچ کر اس غاصب اور خائن کو پکڑیں ۔ پر ہر قسم کا قولی اور عملی دباؤ ڈال کر اس کو مجبور کریں کہ وہ اپنے غصب اور خیانت سے باز آئے اور حق کو اس کے حق دار کے حوالے کرے ۔
موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما من لم يهتم بامر المسلمین فلیس منھم کا حوالہ دیتے ہیں ، مگر وہ مذکورہ بالا دونوں کاموں میں سے کوئی ایک کام بھی نہیں کرتے ۔ اس کے برعکس وہ اپنی جھوٹی تقریروں اور سطحی بیانات کے ذریعہ مسلمانوں کی لایعنی قومی مہم میں شریک ہیں ۔ یہ صورت حال مذکورہ حدیث کے سراسر خلاف ہے ۔ مسلم رہنماؤں نے اگر اپنی موجودہ روش نہ بدلی تو شدید اندیشہ ہے کہ ان کا موجودہ عمل سرکشی اور فساد انگیزی کے خانہ میں لکھا جائے نہ کہ خدا اور رسول کے حکم کی بجا آوری کے خانہ میں ۔