Al-Risala · September 1989

ایک سفر

Al-Risala, September 1989, pp. 32–43

By Maulana Wahiduddin Khan

اپریل ۱۹۶۹ء میں میں نے پہلی بار الور (راجستھان) کا سفر کیا تھا۔ اس کے بعد وہاں کے کئی سفر ہوئے۔ اس کا تفصیلی تذکرہ "میوات کا سفر" نامی کتاب میں موجود ہے۔ الور کا موجودہ سفر ۲۰ مئی ۱۹۸۹ء کو ہوا، اور ۲۵ مئی کو دوبارہ دہلی کے لیے واپسی ہوئی۔

۵۰۵ سپر فاسٹ ایکسپریس شام کو دہلی سے روانہ ہوئی تو ابھی فضا میں اجالا تھا۔ دھیرے اندھیرا ہونے لگا۔ یہاں تک کہ رات آگئی۔ اب ٹرین رات کی تاریکی میں چلنے لگی۔ میں جب کوئی چھوٹا اسٹیشن آتا تو وہ بالکل سادہ انداز میں آجاتا۔ تاریکی میں چلتے چلتے ہم دیکھتے کہ ٹرین خاموشی سے ایک عمارت میں داخل ہو گئی۔ جہاں چند معمولی روشنیاں بتا رہی ہیں کہ یہ ایک اسٹیشن مگر جب کوئی بڑا اسٹیشن آنے والا ہوتا تو اس کے بہت پہلے سے اس کے آثار دکھائی دینے عمارتوں اور کارخانوں کے سلسلے نظر آتے۔ اس کے بعد ٹرین کے دونوں طرف روشنیوں کا ہجوم بتاتا کہ ہم ایک بڑے اسٹیشن پر پہنچ گئے ہیں۔

یہی معاملہ چھوٹی یافت اور بڑی یافت کا ہے۔ چھوٹی یافت آدمی کو اس طرح ہوتی ہے کہ اس سے پہلے کوئی بڑی تمہید پیش نہیں آتی۔ بس ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آدمی سادہ طور پر اس کمرہ سے نکل کر اُس کمرہ میں داخل ہو گیا۔ مگر بڑی یافت ہمیشہ بڑی تمہید کے ساتھ آتی ہے۔ سے پہلے طوفانی کڑک چمک کے واقعات پیش آتے ہیں۔ آدمی کی زندگی زبردست ہلچل سے دوچار ہوتی ہے۔ آدمی محسوس کرتا ہے کہ اس کا ایک دور دھماکہ کے ساتھ ختم ہو گیا، اور دوسرا دور دھماکہ کے ساتھ شروع ہو گیا۔

جو لوگ معتدل زندگی کو پسند کرتے ہیں ۔ جو اپنے آپ کو بچا بچا کر رکھیں ، جو ہر مصلحت کا آخری حد تک لحاظ رکھتے ہوں، ایسے لوگ صرف چھوٹی یافت تک پہنچتے ہیں۔ وہ کبھی بڑی یافت سے آشنا نہیں ہوتے۔ بڑی یافت صرف ان لوگوں کا مقدر ہے جو اپنی زندگی کو طوفانوں میں جو ہیجان خیز لمحات سے دوچار ہونے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ زندگی کے سفر میں چھوٹے اسٹیشن بھی ہیں اور بڑے اسٹیشن بھی۔ یہ مسافر کے اپنے حوصلہ کی بات ہے کہ وہ دونوں میں سے کس کا انتخاب کرتا ہے۔

سٹیشن پر اپنے آپ کو اتار نا پسند کرتا ہے۔

ٹرین میں تقریباً تین گھنٹہ گزارنے کے بعد میں الور پہنچا۔ یہاں اسٹیشن پر مولانا مفتی جمال الدین صاحب اور دوسرے لوگ موجود تھے۔ ان کے ساتھ روانہ ہو کر مدرسہ اشرف العلوم آیا۔ میرا قیام اسی مدرسہ کے مہمان خانہ میں تھا۔

الور، راجستھان کا ایک قدیم شہر ہے ۔ وہ ایک پہاڑ کے دامن میں بسا ہوا ہے جس کے اوپر اب بھی ایک پرانے قلعہ کی عمارتیں دور تک پھیلی ہوئی نظر آتی ہیں ۔ قدیم زمانہ میں پہاڑی قلعے حکمرانوں کی حفاظت کا ذریعہ سمجھے جاتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں وہ صرف ایک تاریخی دور کو یاد دلانے کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ اگرچہ معاشی دوڑ کی مشغولیت نے بہت کم لوگوں کو اس قابل رکھا ہے کہ وہ ماضی کے ان کھنڈروں کے بارے میں کچھ سوچ سکیں۔

الور ۱۷۷۱ میں راجپوت حکمراں کے قبضہ میں آیا ۔ ۱۷۷۵ ء میں وہ ریاست الور کی راجدھانی ۱۸۰۳ میں الور برٹش اقتدار کے تحت آگیا ۔ ۱۹۴۹ سے وہ راجستھان کا حصہ ہے۔ الور کے راجہ و نے سنگھ فارسی اور اسلامیات کے شیدائی تھے ۔ مولانا فضل حق خیر آبادی اور دوسرے علماء عرصہ تک ان کے دربار میں رہے ۔ انھوں نے تقریباً ۶۰ سال پہلے دو لاکھ روپیہ خرچ کر کے گلستاں اور بوستاں کا ایک نسخہ تیار کرایا تھا جس پر سنہری کام بنے ہوئے تھے۔ ساتھ انھوں نے ۴ ہزار روپیہ خرچ کر کے قرآن کا ایک نسخہ تیار کرایا ۔ اس قسم کے بہت سے نوادر آج بھی الور کے میوزیم میں موجود ہیں جو زائرین کو گزرے ہوئے ماضی کی یاد دلاتے ہیں۔ ۱۹۳۲ میں مہاراجہ سوائی جے سنگھ (الور) نے اپنی کونسل میں اسپیچ دی تو انھوں نے فارسی اور اردو کے کئی اشعار پڑھے ۔ صائب کا ایک شعر یہ تھا :

بہر کارے کہ ہمت بسته گردد اگر خارے بود گلدستہ گردد ان کا نظریہ تھا کہ ان کی ریاست میں ہندو اور مسلمان پیار اور محبت کے ساتھ رہیں۔ مسلم اتحاد کے دلدادہ تھے ۔ اپنی اس پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کونسل کی تقریر میں یہ شعر پڑھا : دنیائے جہاں میں اے یارو جو کوئی رہے دلشاد رہے گلشن بھی رہے گلچیں بھی رہے بلبل بھی رہے صیاد رہے

مولا نا مفتی جمال الدین صاحب نے بتایا کہ ایک بار وہ الور کے ایک ہندو وکیل کے یہاں گئے۔ کے دفتر کی دیوار پر ایک خوبصورت فریم تھا۔ اس میں جلی حرفوں میں یہ فارسی شعر لکھا ہوا تھا : بترس از خدا و میاز ار کس رہ رستگاری همین است و بس انھوں نے مزید بتایا کہ الور میں ایک بار وہ ایک ہندو دکاندار کے یہاں گئے۔ وہ زیادہ عمر کا تھا اور پرانا زمانہ دیکھے ہوئے تھا۔ اس نے اردو کے بہت سے اشعار سنائے ۔ ان میں سے ایک شعر یہ تھا : گلشن پرست ہوں مجھے گل ہی نہیں عزیز کانٹوں سے بھی نباہ کیے جارہا ہوں میں الور کے مسافر کو اس طرح کے تاریخی واقعات یہاں کثرت سے سننے کے لیے ملتے ہیں۔ یہ " الور " اور اس طرح کے لاتعد اد دوسرے الور ہندوستان میں موجود تھے ۔ مگر وہ ۱۹۴۷ء کے انقلاب کے نتیجہ میں برباد ہو کر رہ گئے۔ مسلمان ۱۹۴۷ء کے انقلاب کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنا چاہتے ہیں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی ناقابل فہم حد تک احمقانہ قیادت کے سوا کوئی نہیں ہے جس کو اس درد ناک المیہ کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکے۔ اس نام نہاد قیادت نے مسلمانوں کو دیا کچھ نہیں، البتہ اس کو جو کچھ حاصل تھا اس سے اسے محروم کر دیا۔

انسائیکلو پیڈیا برطانیہ کا (۱۹۸۲) میں الور کے تذکرہ کے تحت درج ہے کہ یہاں، دوسری تاریخی عمارتوں کے علاوہ ، کئی قدیم مسجدیں بھی پائی جاتی ہیں :

Printed page