Al-Risala · September 1989

It contain..... several ancient mosques (1/285).

Al-Risala, September 1989, pp. 43–41

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر یہ بیان صحیح نہیں ۔ یہ واقعہ ہے کہ ۱۹۴۷ء تک الور میں ایک سو سے زیادہ تعداد میں پر رونق مسجدیں موجود تھیں ۔ مگر یہ سب مسجدیں آزادی کے بعد ہونے والے فسادات کی نذر ہوگئیں ۔ صرف دو باقاعدہ مسجدیں ہیں جو آزادی کے بعد کے دور میں از سر نو تعمیر کی گئی ہیں۔ ایک ، مدرسہ اشرف العلوم کی مسجد ، دوسرے ، میو بورڈنگ کی مسجد ۔ ان کے علاوہ ایک قدیم چھوٹی سی مسجد ہے جہاں ایک " شر نا رتھی" " خاندان آباد ہے۔

مولانا محمد ابراہیم صاحب اور مولانا مفتی جمال الدین صاحب ۱۹۴۹ میں دوبارہ الور میں آئے۔ موجودہ جگہ اس وقت چٹیل میدان کی صورت میں تھی۔ صرف کچھ ٹوٹے ہوئے پتھر اس بات کی علامت

تھے کہ یہاں کبھی کوئی عمارت یا کوئی مسجد کھڑی ہوئی تھی۔ انہوں نے ایک چھپر ڈال کر یہاں تعمیر نو کا آغاز کیا۔ میں پہلی بار اپریل ۱۹۶۹ میں الور آیا تھا۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ مولانا ابراہیم صاحب ایک نیم کے درخت کے نیچے ایک ٹوٹی ہوئی کرسی پر بیٹھے ہیں اور دور چھپے ہوئے مستقبل کو تصوراتی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ۳۰ برس بعد آج یہاں دوبارہ ایک پورا ادارہ کھڑا ہو گیا ہے۔ مسجد اور مدرسہ کی شکل میں اسلامی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس علاقہ میں چونکہ یہ واحد اسلامی ادارہ ہے، اس لیے اطراف کے مسلمان اس سے جڑ گئے ہیں۔ ————— ہر بربادی کو دوبارہ آبادی میں تبدیل کیا جا سکتا اس دنیا میں کوئی بربادی آخری بربادی نہیں ۔

۱۹۴۷ سے پہلے کے ہندوستان میں یہ روایت تھی کہ مسلم ریاست میں ہندو افسران ہوا کرتے تھے، اور ہندو ریاست میں مسلم افسران ۔ الور کا راجہ ایک ہندو تھا، مگر اس روایت کے تحت یہاں کے اکثر بڑے بڑے فوجی اور غیر فوجی عہدے مسلمانوں کے پاس تھے ۔ شہر میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً ۵۰ فی صد تھی ۔ بہت سے شعبوں مثلاً طب ، وکالت وغیرہ ) پر مسلمانوں کو اجارہ داری حاصل تھی۔ مگر ۱۹۴۷ کا انقلاب آیا تو یہاں سے تمام مسلمانوں کا خاتمہ ہو گیا ۔ یہاں کی ۱۱۰ مساجدیں ڈھادی گئیں۔ اب غالباً صرف ایک قدیم مسجد باقی رہ گئی ہے جو ایک " شدر نار بھتی " کے قبضہ میں ہے ۔ ماسٹر ایوب صاحب نے الور کا سول ایریا دکھایا۔ چلتے ہوئے ہم لوگ ایک مقام پر پہونچے جہاں ایک چوک پر اشوک کی لاٹ کہتی اور اس کے اندر پارک بنا ہوا تھا ۔ انھوں نے بتایا کہ پہلے اس چوک پر ایک مسجد تھی جو ننگی والی مسجد کہی جاتی تھی ۔ ۱۹۴۷ میں یہ مسجد ڈھادی گئی ۔ اس کے بعد جب شہر کا ڈویلپ منٹ ہوا تو مسجد کی جگہ پر سڑک بن گئی۔

ماسٹر ایوب صاحب (سابق ایم ایل اے) نے بتایا کہ انہوں نے فروری ۱۹۸۷ میں راجستھان اسمبلی میں اس مسجد کی بابت سوال اٹھایا تھا۔ حکومت کی طرف سے جو تحریری جواب دیا گیا، اس میں کہا گیا تھا کہ مسجد کے گرنے کے بعد وہاں سڑک تعمیر ہو گئی ہے ۔ تاہم مسجد کے رقبہ کے بقدر ایک پلاٹ قریب ہی سڑک کے کنارے مسجد کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس پلاٹ کا نمبر بھی انھیں بتایا گیا۔ ماسٹر ایوب صاحب نے کہا کہ وہ پلاٹ میں نے دیکھا تھا اور وہ پانچ سال سے زیادہ مدت تک مسجد کے نام پر خالی پڑا رہا۔ مگر مسلمان اس کو استعمال نہ کر سکے ۔ یہاں تک کہ حسب قاعدہ ضروری مدت

گزرانے کے بعد حکومت نے وہاں اپنی تعمیرات کرالیں ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان کھوئے ہوئے مواقع کے لیے فریاد کرنے میں سب سے آگے ہیں مگر ملے ہوئے مواقع کو استعمال کرنے میں وہ سب سے پیچھے ہوگئے ہیں ۔

مولانا محمد حنیف خاں صاحب ( پیدائش ۱۹۵۲) الرسالہ کے مستقل قاری ہیں اور اس کے نقطہ نظر سے مکمل اتفاق رکھتے ہیں ۔ انھوں نے اپنے کئی تجربات بتائے ۔ ان میں سے دو یہاں نقل کیے جاتے ہیں ۔

لال داس کی درگاہ (شیرپور) میں لال داس کی قبر ہے ۔ ہندو ان کو ہندو کہتے ہیں ۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ مسلمان تھے ۔ اس درگاہ کے احاطہ میں تین مسجدیں بھی ہیں ۔ جولائی ۱۹۸۶ میں یہاں جھگڑے کی صورت پیدا ہوگئی ۔ کچھ مسلمانوں نے یہاں کی ایک مسجد میں لاؤڈ اسپیکر لگا کر اذان دی اور نماز باجماعت ادا کی ۔ اس پر ہندوؤں کو اعتراض ہوا اور دونوں فرقوں میں لڑائی کی نوبت آگئی ۔

الور کے ہندی اخباروں (خاص طور پر الور بازار پتریکا) نے خبر کو اس انداز میں شائع کیا کہ مسلمانوں نے لال داس جی کے مندر پر قبضہ کر لیا اور اس کے اندر گھس کر زبردستی نماز پڑھی ۔ کو مار پیٹ کر بھگا دیا ۔ یہ خبریں چھپیں تو الور میں حالات بگڑ گئے اور فساد کی صورت پیدا ہوگئی ۔ اس کا چرچا ہونے لگا کہ شیر پور میں مسلمانوں نے ہندوؤں پر ظلم کیا ہے ۔ اس موقع پر مقامی مسلمانوں نے صحیح حالات مرتب کر کے مقامی ہندی اخباروں میں چھپوانا چاہا ۔ مگر اخباروں نے ان کے بیانات نہیں چھاپے ۔ ہندوؤں سے ملاقات کر کے زبانی وضاحت کی کوشش کی گئی تو وہ بھی بے فائدہ ثابت ہوئی ۔ اس وقت کچھ مسلمانوں نے قومی ایکتا منچ کی میٹنگ کی ۔ مسلمانوں کے علاوہ ہندو اور سکھ لوگ بھی شریک ہوئے ۔

تاہم منچ کی میٹنگ میں کوئی بات طے نہ ہوسکی ۔ لوگوں کے ذہنوں میں ہندی اخبارات میں چھپنے والی رپورٹیں اور افواہیں چھائی ہوئی تھیں ۔ آخر میں کچھ مسلمانوں نے یہ تجویز پیش کی کہ قومی ایکتا منچ کے ذمہ دار افراد شیر پور جائیں ۔ وہ اپنے ساتھ ایک پتر کار (اخبار نویس) اور فوٹو گرافر بھی لے جائیں ۔ وہ براہ راست معلومات کے ذریعہ رپورٹ تیار کریں اور جائے وقوع کا فوٹو بھی لیں ۔

اس کے بعد قومی ایکٹ پنچ کے تحت ایک وفد شیر پور گیا۔ وہاں اس نے براہِ راست مشاہدہ کیا اور تصویریں لیں۔ واپس آکر انہوں نے ہندی اخبار ارن پر بھا میں مفصل رپورٹ شائع کی ۔ نے بتایا کہ لال داس کی درگاہ میں باضابطہ مسجدیں ہیں اور وہاں مسلمانوں کی قبریں ہیں۔ انھوں نے مسجدوں کی تصویریں بھی چھا پیں ۔ الور کے ہندوؤں نے جب اس تصویر رپورٹ کو پڑھا تو اچانک ان کا ذہن بدل ہر ایک یہ کہنے لگا کہ آر ایس ایس والے ہی غلط ہیں ۔ وہ جھوٹا جھگڑا کھڑا کر نا چاہتے ہیں ۔ نے مان لیا کہ مسلمانوں نے کسی مندر پر قبضہ نہیں کیا ہے۔ بلکہ مسجد کے اندر پر امن طور پر نماز پڑھی ہے۔ ہندی اخباروں کی خبروں اور افواہوں کے خلاف یہاں کے مسلمان اگر مشتعل ہوتے اور تعصب کی شکایتیں کرتے رہتے تو یقیناً الور میں فساد ہو گیا ہوتا۔ مگر جب انھوں نے دانش مندانہ تدبیر کی تو فرقہ وارانہ آگ ٹھنڈی ہو گئی ۔ اور مفسد تو وارانہ فساد کے دہانہ پر پہنچنے کے باد جو الور فساد سے بچ گیا ۔ مولانا محمد حنیف خاں صاحب نے میو بورڈنگ (الور) کا واقعہ بتایا ۔ وہ میو بورڈنگ کی مسجد میں امام اور خطیب ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ۱۹۸۳ء میں یہاں بورڈنگ کے سامنے مسلمانوں نے کچھ چھوٹی چھوٹی دکانیں لگا لیں ۔ میونسپل کمیٹی کے لوگوں کو اس پر اعتراض ہوا کہ یہ سرکاری جگہ پر بلا اجازت بنائی انھوں نے پولیس کی مدد سے دکا نیں ہٹوا دیں ۔ میوؤں کا ایک وفد کلکٹر کے پاس فریاد لے کر مگر کلکٹر نے ان کو سخت جواب دے کر واپس کر دیا ۔

اس کے بعد کچھ مسلمانوں نے دوسری تدبیر کی ۔ انھوں نے ہندو طلبہ (مینا برادری اور جاٹ برادری) کی ایک تعداد کو جمع کیا اور ان سے کہا کہ یہ جو واقعہ ہوا ہے اس کو صرف میوؤں کا واقعہ نہ سمجھیے ۔ جو کچھ میوؤں کے ساتھ ہوا ہے ، وہی کل خود آپ کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے ۔ یہ بات ہندو طلبہ کی سمجھ میں وہ فوراً کلکٹر کے پاس گئے ۔ کلکٹر نے انھیں بھی سخت جواب دیا ۔ طلبہ نے کلکٹر سے کہا کہ اس کو آپ چند نو جوانوں کی بات نہ سمجھیں ۔ الور کے سات ہزار اسٹوڈنٹ ہمارے پیچھے ہیں ۔ آپ اگر سختی کرتے ہیں تو سمجھ لیجیے کہ آپ کو سات ہزار اسٹوڈنٹ سے مقابلہ کرنا ہوگا ۔ اور اس معاملے میں ہندو مسلمان سب ایک ساتھ ہوں گے ۔ یہ دھمکی سن کر کلکٹر دب گیا اور سابقہ حکم کو واپس لے لیا ۔ اس طرح کے مواقع پر مسلمان اکثر ایسا کرتے ہیں کہ وہ پولیس سے خود لڑ جاتے ہیں ۔ اگر وہ ایسا کریں کہ خود لڑنے کے بجائے برادرانِ وطن کو سامنے کر دیں تو صورت حال یکسر بدل جائے گی ۔ اس ملک میں

مسلمانوں کی ہار کی تاریخ جیت کی تاریخ بن جائے گی۔

مذکورہ واقعہ کوئی استثنائی واقعہ نہیں۔ اس طرح کے چھوٹے بڑے واقعات ہر روز اور ہر جگہ پیش حقیقت یہ ہے کہ اگر ایسا نہ ہو تو اس ملک میں کسی بھی شخص کے لیے زندگی بالکل ناممکن ہو جائے۔ مگر مسلم رہنما اس قسم کے واقعات کا چرچا نہیں کرتے اور نہ مسلمانوں کے اخبارات ان کو اپنے صفحات میں نمایاں کرتے۔ ہمارے رہنما اور ہمارے اخبارات دونوں صرف ان واقعات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں کہ جو بڑھتے بڑھتے گولی اور فساد تک پہنچ جائیں۔ اگرچہ فساد تک نہ پہنچنے والے واقعات سو میں 99 ہوتے ہیں اور فساد تک پہنچنے والے واقعات سو میں صرف ایک ـــــــ "فساد ہو گیا" کی خبر ہر ایک کو معلوم ہے ، مگر فساد ہوتے ہوتے رہ گیا " کی خبر کسی کو معلوم نہیں۔ یہ کوئی سادہ سی بات نہیں۔ یہ مسلمانوں کے اندر ایک مہلک بیماری کا پتہ دیتی ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ مسلمانوں کا بگاڑ اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ اب انھوں نے مثبت ذہن کو کھو دیا ہے۔ نفسیات میں جینے والی ایک قوم بن گئے ہیں۔ بغض اور نفرت اور انتقام ان کی روح کی غذا ہیں۔ محبت، درگزر، انسانیت دوستی کی خبروں میں ان کی روح کے لیے کوئی غذا نہیں۔ الور کے متعلق عام شہرت یہ ہے کہ وہ ایک سخت متعصب علاقہ ہے۔ مگر اس طرح کی باتیں ہمیشہ جنرلائزیشن ہوتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں تعصب ہو وہیں انصاف بھی موجود ہوتا ہے۔ یہاں لوگوں نے بتایا کہ مسٹر آروند مایارام (IAS) الود میں کلکٹر ہو کر آئے۔ منصف مزاج آدمی تھے۔ انھوں نے یہاں کے مسلمانوں (میوؤں) کو اٹھانے کے لیے بہت کام کیا۔ انھیں کی وجہ سے مدرسہ اشرف العلوم کو موجودہ قیمتی زمین رعایتی قیمت پر مل سکی جب کہ وہ محکمہ ریلوے کے قبضہ میں جا چکی تھی ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ مسٹر آروند مایارام ڈھائی سال تک الور میں رہ کر 1988 میں یہاں سے چلے گئے۔ آج کل وہ دہلی میں ہیں۔

ایک مجلس میں ایک صاحب رعایت اور ریزرویشن کی بات کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں مسلمان اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے کہ ان کو ریزرویشن دیا جائے اور ان سے رعایت والا معاملہ کیا جائے۔

میں نے کہا کہ یہ معاملہ سادہ طور پر رعایت مانگنے کا نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ یہ خدا کی طرف سے

مایوسی کا اظہار ہے۔ اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ آپ کے پیدا کرنے والے نے آپ کو کچھ نہیں دیا، اب آپ انسانوں سے مانگ کر اپنی محرومی کی تلافی کرنا چاہتے ہیں۔

۲۱ مئی کی شام کو مدرسہ میں کچھ مقامی تعلیم یافتہ اصحاب جمع ہو گئے۔ مسلمانوں کی تعلیم کے موضوع پر گفتگو ہونے لگی۔ میں نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمان تعلیم میں پیچھے ہو گئے ہیں۔ ہمارے رہنما اس کی ذمہ داری انگریزوں کی سازش اور ہندوؤں کے تعصب پر ڈالتے ہیں۔ مگر میرے نزدیک اس کی تمام تر ذمہ داری خود مسلم رہنماؤں کے اوپر ہے۔

موجودہ زمانہ میں ملک کے اندر بے شمار اسکول اور کالج کھلے۔ انھیں عیسائیوں اور ہندوؤں نے قائم کیا تھا۔ مگر مسلمان تحفظ کے ذہن کے تحت اس سے دور رہے۔ انھوں نے کہا کہ دوسری قوموں کی طرف سے ہمارے اوپر تہذیبی حملہ ہو رہا ہے، ہمیں اس سے بچاؤ کی فکر کرنا چاہیے۔ سے لوگوں نے ان اسکولوں اور کالجوں کو مسلمانوں کے لیے "قتل گاہ" بتایا۔ اکبر الہ آبادی نے ان پر طنز کرتے ہوئے کہا :

بچوں کے کبھی قتل سے بدنام نہ ہوتا افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی یہ فکر میرے نزدیک سراسر لغو تھا۔ بعد کے تجربات بتاتے ہیں کہ انھیں اسکولوں اور کالجوں سے بے شمار لوگ ہماری دینی جماعتوں کو ملے۔ اگر یہ ادارے واقعۂ قتل گاہ ہوتے تو یہ تمام لوگ ذہنی اور نفسیاتی اعتبار سے قتل ہو چکے ہوتے، پھر وہ ہماری دینی جماعتوں کو کیسے ملتے۔

میں نے کہا کہ اصل مسئلہ تحفظ اور بچاؤ کا نہ تھا بلکہ جوابی منکری اقدام کا تھا۔ ضرورت یہ تھی کہ اسلام کی تعلیمات کو جوابی نظریہ کی حیثیت سے پیش کیا جائے اور مسلمانوں کی نئی نسلوں میں اسلام پر اتنا یقین اور حوصلہ پیدا کر دیا جائے کہ وہ جدید تہذیبی حملوں کے مقابلہ میں پر عزم طور پر ٹھہر سکے۔ میں نے کہا کہ ہمیں ملک کے تعلیمی نظام سے کٹنا نہیں تھا، بلکہ اپنی نسلوں کو ان اداروں میں پڑھاتے ہوئے ان کی ذہنی تعمیر کا کام کرنا تھا۔ اس طرح کے کام کی ایک مثالی تبلیغی جماعت ہے۔ تبلیغی جماعت کا کام اگر چہ خالص روایتی انداز میں چل رہا ہے، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ یہی ہے ۔ وہ فکر کا جواب فکر سے دیتی ہے۔ مادی تہذیب کے پرستاروں کا کہنا تھا کہ "چیزوں سے ہوتا ہے" اس کے جواب میں تبلیغ نے کہا کہ "چیزوں سے نہیں خدا سے ہوتا ہے" یہ گویا

ایک نظریے کے جواب میں دوسرا نظریہ تھا۔ اس جوابی نظریہ نے بہت سے زیر تعلیم نوجوانوں کو متاثر کیا اور وہ مادی فکر سے کٹ کر دینی فکر سے جڑ گئے ۔

محمد حنیف خاں صاحب نے بتایا کہ " میوات کا سفر" نامی کتاب میں نے پڑھی ہے۔ ان سے کہا کہ اس کتاب کے بارے میں بعض میواتیوں نے اس تاثر کا اظہار کیا ہے کہ اس میں میوؤں کی خرابیوں کا ذکر ہے، مگر اس میں ان کی اچھائیوں کا ذکر نہیں۔

محمد حنیف خاں صاحب جو خود بھی ایک میو ہیں ، انھوں نے کہا کہ میرا تاثر اس کے بالکل برعکس میں نے یہ کتاب (میوات کا سفر) دو مہینہ پہلے پڑھی ہے ۔ اس کو پڑھنے سے پہلے میں میوؤں کے مستقبل کے بارے میں مایوس تھا ۔ اس کتاب کو پڑھ کر میری مایوسی امید میں بدل گئی ۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے خیال میں یہ تبدیلی کیسے آئی۔ انھوں نے کہا کہ اس کتاب میں بیک وقت دو باتیں ہیں۔ ایک بالفعل ، دوسرے بالقوہ ۔ میوؤں کی بالفعل تصویر تو وہی ہے جس کا نقشہ اس کتاب میں دکھایا گیا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بات بھی اس میں بہت طاقتور انداز میں بتائی گئی ہے کہ میوؤں کے اندر بالقوہ صلاحیت نہایت اعلیٰ سطح پر موجود ہے، اگر ان کے بالقوہ کو بالفعل بنایا جاسکے تو وہ اسی طرح شاندار ترقی کر سکتے ہیں جس کی ایک مثال موجودہ جاپان میں نظر

۲۲۴ مئی ۱۹۸۹ کو سیلی بیٹھہ ، سار سکا اور ٹائیکر ڈین دیکھے۔ یہ سفر محمد چاولہ خاں صاحب کی معیت میں ہوا۔ یہ سب راجہ کے محل تھے ، اور اب وہ ہوٹل میں تبدیل کر دیے گئے ہیں ۔ محل پہاڑوں اور قدرتی مناظر کے درمیان ہیں۔ وہاں پہونچ کر آدمی کچھ دیر کے لیے ماحول کی خوبصورتی میں گم ہوجاتا ہے۔

تاہم یہ تفریح بے حد وقتی ہے۔ ہم ایک ہوٹل میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ چاروں طرف مسحورکن قدرتی مناظر پھیلے ہوئے تھے۔ خود ہوٹل کا تعمیری حسن بھی غیر معمولی تھا۔ ہوٹل کا منیجر ہمارے پاس آکر بیٹھ گیا۔ میں نے بات کرتے ہوئے پوچھا کہ موجودہ جاب آپ کے لیے کیسا ہے۔ کہا کہ سخت بورنگ ۔ میں تو اس کو ایک پنشمٹ سمجھتا ہوں۔ کوئی آدمی جب یہاں آتا ہے تو ایک دو دن کے لیے تو اس کو یہاں کا ماحول بہت اچھا لگتا ہے ۔ اس کے بعد وہ بور ہو کر بھاگ جانا چاہتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ نیاپن کا نام زندگی ہے، اور یکسانیت کا نام موت۔ انسان کسی جامد چیز سے مستقل طور پر محظوظ نہیں ہو سکتا۔ مستقل طور پر محظوظ ہونے کے لیے ایک ایسی چیز درکار ہے جو ارتقا پذیر ایسا مقام صرف جنت ہو سکتا ہے۔ دنیا میں اس قسم کی لذت گاہ کا حصول ممکن نہیں۔ ۲۱ مئی کو مفتی جمال الدین صاحب کی صاحبزادی کے نکاح کی تقریب میں شرکت کی۔ تقریباً ۵۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر کیما سا نامی گاؤں کا سفر ہوا۔ سفر کا نصف حصہ الور۔ دہلی روڈ پر طے سڑک دونوں طرف سے اونچے درختوں سے ڈھکی ہوئی تھی ۔ جنتین عن يمين وشمال کا منظر تھا۔ یہ پورا سفر سر سبز چھتری کے نیچے ہوا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ عجیب و غریب احسان یاد آیا۔ اس دنیا میں ہر کثیف چیز اوپر سے نیچے کی طرف جاتی ہے ۔ درخت واحد استثنا ہے جو نیچے سے اوپر کی طرف جاتا ہے ۔ درخت کی یہی خصوصیت ہے جس کے نتیجہ میں یہ ممکن ہوا کہ وہ ہمارے راستوں کے اوپر سر سبز چھتری بن کر سایہ فگن ہو سکے ۔ درخت میں اگر یہ استثنائی صفت نہ ہوتی تو زمین پر سر سبز میدان تو ہوتے مگر سر سبز سائے ہم کو نصیب نہ ہوتے۔

صبح ۸ بجے جدید طرز کی ماروتی وین قدیم طرز کے کیما سا میں داخل ہوئی۔ دل نے کہا کاش یہ واقعہ میوؤں کی قدیم زندگی میں جدید امکانات کے داخلہ کی علامت بن جائے ۔ پہلے راقم الحروف نے "میوات کے سفر" میں میوات کی جو تصویر دیکھی وہ تقریباً مکمل طور پر روایتی آج اس قدامت میں جدت کی کچھ نشانیاں نظر آنے لگی ہیں۔ مگر ابھی وہ اتنی کم ہیں کہ وہ صرف اس زمرہ میں جاتی ہیں جس کے متعلق غالب نے کہا تھا :

Printed page