Al-Risala · September 1989

دل کے خوش کرنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

Al-Risala, September 1989, pp. 41–44

By Maulana Wahiduddin Khan

گاؤں کی مسجد میں نکاح کی سادہ تقریب ہوئی۔ قاضی صاحب نے رجسٹر نکاح بھرتے ہوئے پوچھا کہ مہر کتنی رکھی جائے ۔ نوشہ (محمد الیاس ۲۲ سال) کے والد نے کہا ۳۲ ۷ تولہ چاندی رکھ لو۔ ہوا کہ میوؤں میں سیکڑوں سال سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ ساڑھے ۳۲ تولہ چاندی مہر نکاح مقرر کرتے اس قسم کی روایت کسی گروہ کے لیے بہت قیمتی ہے ۔

مجھے یاد آیا کہ چند روز پہلے نئی دہلی میں ہمارے دفتر کے سامنے والے پارک میں ایک شادی کی تقریب تھی ۔ پارک میں بہت بڑا شامیانہ لگایا گیا ۔ روشنیوں کی کثرت سے نگاہ ٹھیرانا مشکل تھا۔

ساری رات لاؤڈ اسپیکر سے گانے کی آوازیں آتی رہیں۔ رات بھر رسوم ادا کرنے کے بعد صبح ہوئی تو شادی والے اور شامیانہ والے میں تکرار ہو گئی۔ شامیانہ والا ۵۰ ہزار روپیہ مانگ رہا تھا۔ کا کہنا تھا کہ ۴۵ ہزار میں بات طے ہوئی تھی۔

قاضی صاحب " جو انسان سے نہ چاہے وہ خدا سے پاتا ہے " سب سے بڑی دولت استغنا ہے۔ کیماشہ کی آبادی تقریباً ایک ہزار ہے۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے یہاں اور علاقہ کے دوسرے مقامات پر زیادہ تر میو مسلمان آباد تھے۔ وہی یہاں غالب حیثیت رکھتے تھے۔ ۱۹۴۷ء کے انقلاب کے بعد بیشتر میو یہاں سے چلے گئے۔ زمینیں تقریباً سب کی شتر زنار کھیتوں کو دے دی گئیں۔ سے میو جو یہاں باقی تھے ان کی حیثیت زرعی مزدور کی ہو گئی۔ ان میوؤں کے لیے زندگی کی صورت صرف یہ تھی کہ وہ شتر زنار کھیتوں کی زمینوں پر محنت کرکے اپنی معاش حاصل کریں۔ مگر شتر زنار کھیتی یہاں جم نہ سکے۔ ان کے اندر شہر جانے کا ذہن ابھرا۔ وہ اپنی زمینوں کو بیچ کر شہروں کی طرف منتقل ہونے لگے ۔ اب میوؤں کی باری تھی۔ انھوں نے ان زمینوں کو شتر زنار کھیتیوں سے خریدنا شروع کر دیا۔ اس طرح یہاں کی زمینیں اب دوبارہ میوؤں کے قبضہ میں آچکی ہیں۔ دس سال پہلے جب میں یہاں آیا تھا تو میوؤں کو یہ شکایت کرتے ہوئے سنا تھا کہ ہماری زمینیں شتر زنار کھیتوں کے قبضہ میں چلی گئیں۔ مگر اب دس سال بعد دوسرا سفر ہوا تو تاریخ بدل چکی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر لوگ اپنی عجلت پسندی کی وجہ سے آنے والے وقت تک انتظار نہیں کر پاتے۔ لوگ اگر کل کے امید افزا حالات کو جانیں تو وہ کبھی آج کے مایوس کن حالات پر دل شکستہ نہ ہوں ۔

یہاں کی مسجد دوبارہ زیادہ بہتر اور وسیع انداز میں تعمیر کی جا رہی ہے۔ ۲۵ مئی کو صبح روانگی سے پہلے میں مسجد کے اندرونی حصہ میں کھڑا ہوا اس کی تعمیرات کو دیکھ رہا تھا۔ مجھے خیال آیا کہ یہ قدیم مسجد پہلی بار ۱۹۴۷ء میں مکمل طور پر ڈھادی گئی تھی۔ اس کے بعد اس کی نئی تعمیر ہوئی۔ یہ نئی تعمیر بھی دوبارہ ۱۹۸۸ میں پوری کی پوری ڈھادی گئی۔

میں نے سوچا کہ " ڈھانے " کے اعتبار سے ۱۹۴۷ء کا واقعہ اور ۱۹۸۸ء کا واقعہ، دونوں بظاہر مگر نوعیت کے اعتبار سے دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔

دشمنوں نے کیا تھا ، دوسرا واقعہ دوستوں نے کیا ہے ۔ پہلا انہدام مسجد کو ختم کرنے کے لیے تھا ، دوسرا انہدام مسجد کو از سر نو زیادہ بہتر بنانے کے لیے ۔ اس دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دو چیزوں کی شکل بظاہر یکساں ہوتی ہے ۔ مگر دونوں کی حقیقت ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتی ہے ۔ اس راز کو نہ جانیں ، وہ کبھی اس دنیا میں کامیاب روش اختیار نہ کر سکیں گے ۔ جس مدرسہ میں میرا قیام تھا ، اس سے اسٹیشن قریب ہے ۔ یہ سفر میں نے بالقصد سائیکل رکشہ کے ذریعہ کیا ۔ اسٹیشن پہنچ کر رکشہ والے سے کرایہ پوچھا تو اس نے دو روپیہ بتایا۔ فوراً اس کو دو روپیہ دیا اور اسٹیشن میں داخل ہو گیا۔ یہاں مدرسہ کے لوگوں سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ ہم نے رکشہ والے کو کرایہ کی رقم ادا کر دی تھی ۔ اس قصہ کو سن کر مدرسہ کے ایک استاد حافظ محمد اسماعیل صاحب (۳۵ سال) بولے : دو روپیہ لے جانے سو کون سا اس کا رکشہ چلانا چھوٹ جائے گا ۔ چلائے گا تو وہ رکشہ ہی ۔

ہماری ٹرین ( سپر فاسٹ ایکسپریس) اور اسٹیشن پر پہنچی تو وہ پندرہ منٹ لیٹ تھی۔ پہنچتے پہنچتے وہ پورے ایک گھنٹہ لیٹ ہو گئی۔ اس کی وجہ ایک مسافر نے اپنے لفظوں میں اس طرح بتائی : لیٹ ہونے کے بعد پیٹی جاتی ہے گاڑی ۔ جو ٹرین ایک بار لیٹ ہو جائے تو اس کو مزید لیٹ ہونا پڑتا ہے۔ کیوں کہ ریلوے کا اصول یہ ہے کہ جو ٹرین اپنے صحیح وقت پر چل رہی ہو اس کو پہلے راستہ دیا جائے ۔ اور جو ٹرین لیٹ ہو گئی ہو اس کو روک دیا جائے ۔ چنانچہ آگے سے آنے والی ٹرین کو راستہ دینے کی خاطر ہماری ٹرین بار بار در میانی اسٹیشنوں پر روکی جاتی رہی ۔ اس طرح ایسا ہوا کہ جو گاڑی ابتداء میں پندرہ منٹ لیٹ تھی وہ آخر میں ایک گھنٹہ لیٹ ہو گئی ۔ یہی وسیع تر زندگی کا معاملہ ہے ۔ جو زندگی کی دوڑ میں ایک بار پیچھے ہو جائے وہ مزید پیچھے ہوتا چلا جائے گا ، خواہ اس نے اپنی سواری کا نام " سپر فاسٹ " کیوں نہ رکھ لیا ہو ۔ ٹرین مجھے لیے ہوئے الورسے دہلی کی طرف جارہی تھی ۔ ذہن میں مختلف قسم کے خیالات گردش کر رہے تھے۔ میرے سامنے کی سیٹ پر ایک عورت اپنی چھوٹی بچی کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔ میں نے سنا کہ بچی اپنی ماں سے کہہ رہی ہے : ممی ، نانی کا گھر کب آئے گا ۔ میں نے سوچا کہ بے خبر بچی صرف اپنی نانی کو جانتی ہے۔ وہ سمجھ رہی ہے کہ وہ نانی کے گھر

جاری ہے ۔ حالانکہ بچی اور دورے تمام مسافر حقیقتہ " خدا کے گھر " کی طرف جا رہے ہیں ۔ ہمارا درمیانی اسٹیشن ہے نہ کہ آخری اسٹیشن ۔

یہ سوچتے ہوئے ایسا محسوس ہوا گویا کہ میں ٹرین پر نہیں ہوں ، بلکہ کسی خدائی سواری پر بیٹھا ہوا ہوں ۔ خدا کے فرشتے مجھے دنیا سے آخرت کی طرف لے جا رہے ہیں ۔ ۲۵ مئی کی صبح کو جب ٹرین دہلی اسٹیشن پر رکی تو چھوٹی بچی کے لیے وہ " نانی کا گھر " س تھا جس کی نانی اس کا استقبال کرنے کے لیے پہلے سے اسٹیشن پر موجود تھی۔ مگر میرے لیے وہ " خدا کا گھر " تھا جہاں خدا کے فرشتے ہر آنے والے کو اپنے قبضہ میں لے رہے تھے ۔

آج کی دنیا میں ہر آدمی مذکورہ چھوٹی بچی کی مانند ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی " نانی کے گھر " جا رہا ہے ۔ حالال کہ وہ " خدا کے گھر " کی طرف جا رہا ہے ۔ وہ استقبال کے اسٹیشن پر نہیں بلکہ احتساب کے اسٹیشن پر اترنے والا ہے ۔ کتنا زیادہ فرق ہے لوگوں کی سوچ میں اور اصل حقیقت واقعہ میں ۔

قرآن میں اسلام کو دین کامل کہا گیا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام دین مستحکم ہے ۔ اسلام کا ظہور ، دین خداوندی کی تاریخ میں ایک دور از مولانا وحید الدین خاں کا خاتمہ اور دوسرے دور کا آغاز ہے ۔ اسلام نے خدا کے دین کے ساتھ انسانی تعدی کے دور کو ختم کر دیا اور دین کو تمام پہلوؤں سے کامل کر کے اس کو ایسا مستحکم بنا دیا کہ قیامت تک اس کی برتری باقی رہے هدیه ۲۰ روپیه وہ اپنے پیروؤں کے لیے ابدی سرفرازی کی ضمانت بن جائے ۔

Printed page