Al-Risala · October 1989

پہلے اور بعد

Al-Risala, October 1989, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

عرب اسلام سے پہلے کیا تھے اور اسلام کے بعد کیا ہو گئے ، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ انھوں نے خود اپنے ہاتھ سے تراش کر بت بنائے تھے جن کا نام انھوں نے لات اور منات اور عزی اور پھر پتھر کے ان خود ساختہ بتوں پر فخر کرتے تھے ۔ وہ کہا کرتے تھے : اللّات والعزى ومناة الثالثة الاخرى ، تلك الغرانيق العلى وإن شفاعتهن لترتجى یہ ان کا وہ حال تھا جو اسلام کا فکر ملنے سے پہلے تھا۔ جب انھیں اسلام ملا اور ان کی سوچ بدل گئی تو ان کا حال یہ ہوا کہ ۱۴ھ میں ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ قادسیہ میں ایرانی سپہ سالار رستم کے دربار رستم اس وقت پورے جاہ و جلال کے ساتھ زریں تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے ربعی بن عامر کو ایک شاندار کرسی بیٹھنے کے لیے پیش کی۔ مگر وہ اس کو چھوڑ کر زمیں پر بیٹھ گئے۔ رستم نے پوچھا کہ تم اس کرسی پر کیوں نہیں بیٹھے۔ انھوں نے کہا کہ ہم اس قسم کی مزین نشستوں پر بیٹھنا پسند نہیں کرتے (إنّا لا نستحبّ القعود علی زينتكم هذه) اس کے بعد رستم نے پوچھا کہ تم اپنے ملک سے نکل کر یہاں ہمارے ملک میں کس لیے آئے ہو ، ربعی بن عامر نے جواب دیا :

الله ابتعثنا لنخرج من شاء من عبادة العباد الى عبادة الله ومن ضيق الدنيا الى سعتها ومن جور الاديان الى عدل الاسلام. فارسلنا بدينه الى خلقه لندعوهم اليه (حياة الصحابہ ، الجزء الاول ، صفحه ۲۲۰)

اللہ نے ہم کو بھیجا ہے تاکہ جو چاہے اس کو ہم بندوں کی عبادت سے نکال کر اللہ کی عبادت کی اور دنیا کی تنگی سے اس کی وسعت کی طرف اور مذاہب کے ظلم سے اسلام کے عدل کی طرف ۔ پس اللہ نے ہم کو اپنے دین کے ساتھ اپنی خلق کی طرف بھیجا ہے تاکہ ہم لوگوں کو اس کی طرف بلائیں۔

جو لوگ بتوں پر فخر کرتے تھے، انھوں نے خود اپنے ہاتھوں سے بتوں کو توڑ دیا۔ انسانوں کے آگے جھکتے تھے، وہ انسانوں کو خدا کے آگے جھکانے والے بن گئے۔ پہلے اگروہ حیوانی سطح پر تھے تو اسلام نے انھیں انسانی سطح پر پہنچا دیا۔

Printed page