علم کی اہمیت
Al-Risala, October 1989, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
جیفرسن (Thomas Jefferson) امری کا تیسرا صدر تھا۔ وہ ۱۷۴۳ء میں پیدا ہوا اور ۱۸۲۶ء میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ ۱۸۰۱ سے لے کر ۱۸۰۹ تک امریکہ کا صدر رہا۔ جیفرسن نہایت قابل آدمی تھا۔ وہ انگریزی، لاطینی، یونانی، فرانسیسی، اسپینی، اطالوی اور اینگلو سیکسن زبانیں جانتا تھا۔ مورخین اس کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ ایک انتہائی غیر معمولی قسم کا صاحبِ علم آدمی تھا : He was an extraordinary learned man (10/130). اس نے اپنی طویل عمر میں فلسفہ اور سائنس سے لے کر مذہب تک تقریباً تمام علوم کا گہرا مطالعہ کیا۔ آخر عمر میں اس نے یہ کوشش کی کہ وہ انجیل کا تجزیہ کرے اور یہ معلوم کرے کہ حضرت مسیح نے واقعہ کیا کہا تھا اور بیان کرنے والوں نے ان کے بارے میں کیا بیان کیا :
He attempted an analysis of the New Testament in order to discover what Jesus really said as distinguished from what he was reported to جیفرسن نے آخر عمر میں یہ وصیت کی تھی کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی قبر پر جو کتبہ لگایا جائے اس میں یہ نہ لکھا جائے کہ وہ امریکہ کا صدر تھا۔ بلکہ یہ لکھا جائے کہ وہ ورجینیا یونیورسٹی کا بانی تھا۔ چنانچہ اس کی وصیت کے مطابق اس کی قبر (Monticello) پر جو کتبہ لگا ہوا ہے اس میں یہ الفاظ درج ہیں : Here was buried Thomas Jefferson ..... father of the University of Verginia (10/131). حقیقت یہ ہے کہ علم سب سے بڑی دولت ہے۔ جو لوگ علم کی اہمیت کو جان لیں، ان کو امریکہ کی صدارت بھی ہیچ معلوم ہوگی۔
علم سب سے بڑی دولت ہے۔ علم ہی وہ واحد چیز ہے جس سے آدمی کبھی نہیں اکتاتا، جس کی حد بھی کسی کے لیے نہیں آتی۔ علم ہر معاملہ میں کارآمد ہے۔ وہ ہر میدان میں کامیابی کا زینہ علم سے آدمی کو وہ شعور ملتا ہے جس سے وہ دنیا کو جانے۔ جس سے وہ باتوں کو ان کی گہرائی تک سمجھ سکے۔ علم ایسا ہے کہ جس سے آپ دنیا کی ہر چیز خرید سکتے ہیں۔