اخلاقی مسئلہ
Al-Risala, October 1989, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
ٹائم میگزین امریکہ کا ایک بہت کثیرالاشاعت ہفت روزہ ہے، ۱۹۸۰ء کے پورے سال میں اس کو اپنے قارئین کی طرف سے جو خطوط ملے ان کی تعداد ۴۶ ہزار تھی۔ ٹائم کے اسٹاف نے کمپیوٹر کے ذریعہ ان رایوں کا خلاصہ تیار کیا جو ان خطوط میں ظاہر کی گئی تھیں (ڈیلی ٹیلی گراف، نومبر، دسمبر ۱۹۸۸) عام طور پر ان خطوط میں اخلاقی انحطاط (Moral Lapses) کی شکایت کی گئی تھی۔ طاقت کا غلط استعمال ، حرص اور منافقت وغیرہ۔ قارئین کی اکثریت امریکی سوسائٹی کے بارے میں مایوس تھی ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ قارئین نے سمت کے فقدان پر اپنے غم کا اظہار کیا تھا: Readers mourned a lack of direction موجودہ زمانہ میں جو سیکولر سماج بنائے گئے ہیں ، ان میں بعض مشینی خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ لیکن اگر زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو ایسے تمام سماج سخت اخلاقی مسائل کا شکار ہیں۔ سیکولر سماج مشینی بنیاد پر کھڑا ہوا ہے ، حالاں کہ زیادہ قابل اعتماد بات یہ ہے کہ اس کو اخلاقی بنیادوں پر کھڑا کیا جائے ۔
سیکولر سماج میں اخلاقیات (Ethics) کو فہرست سے خارج نہیں کیا گیا ہے۔ وہ اس کی فہرست میں شامل ہے ۔ سیکولر اور غیر مذہبی لوگ بھی اخلاقی معیار کی بات کرتے ہیں۔ مگر ان کی اس قسم کی باتیں بالکل بے نتیجہ ثابت ہو رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ صرف "اخلاق" کی اصطلاح میں سوچتے ہیں نہ کہ "گناہ" کی اصطلاح میں۔ اور گناہ کے تصور کو الگ کر کے اخلاقی اپیل میں اثر انگیزی کی طاقت نہیں ۔
گناہ کے عقیدہ کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ اس کے اندر محاسبہ (Accountability) کا تصور پایا جاتا ہے ۔ وہ آدمی کو ڈراتا ہے کہ اگر اس نے اخلاقی معیار کو چھوڑا تو وہ خدا کے یہاں پکڑا جائے گا۔ طرح اخلاقی معیار کو ایک طاقت اور محرک مل جاتا ہے۔ اس کو ایک واضح سمت مل جاتی ہے جس کے رُخ پر وہ اپنی زندگی کا سفر جاری کر سکے۔ اس محرک سے خالی ہونے کی وجہ سے آج کا انسانی سماج بے سمت اور بے رُخ جو لوگ جدید دنیا کو یہ سمت سفر دے سکیں وہ بلا شبہ اس کے ساتھ سب سے بڑا احسان کریں گے۔