Al-Risala · October 1989

دینِ فطرت

Al-Risala, October 1989, pp. 19–21

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک مسلمان جون پور سے اعظم گڑھ کے لیے روانہ ہوئے۔ ٹیکسی میں ایک ہندو بھائی بھی تھے۔ ابتدائی تعارف کے بعد انھوں نے کہا : آپ لوگ تو پہلے ہندو تھے ، پھر آپ اپنے پرانے دھرم پر کیوں نہیں آجاتے ۔ مسلمان نے کہا کہ اسلام نے ہم کو توحید دی ہے ، آپ ہمیں کیا دیں گے ۔ اگر آپ ہمیں مورتی پوجا دیں ، تو اس کو تو آپ خود ہی چھوڑ رہے ہیں ۔ اسلام نے ہمیں سماجی برابری دی ہے ۔ اس کے بدلے آپ ہمیں کیا دیں گے ۔ اگر آپ ہم کو ذات پات اور چھوت چھوت دیں ، تو اس سے بھی آپ لوگ خود ہی برأت کر رہے ہیں ۔ ہندو بھائی یہ باتیں سن کر خاموش

ایک مسلمان اپنے گھر کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔ اتنے میں ایک شخص وہاں آیا ۔ اس نے کہا کہ میں گورکھپور کا ایک برہمن ہوں۔ میرے دل میں کئی سال سے ایک کھٹک ہے۔ میں نے بہت سے پنڈتوں اور پادریوں سے پوچھا۔ مگر مجھے اطمینان نہ ہوسکا۔ میں اس تلاش میں ہوں کہ آدمی کے لیے نجات کا ذریعہ کیا ہے۔ مسلمان نے کہا کہ نجات کا راستہ ہے ـــ خدا کو ایک ماننا ، آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبر تسلیم کرنا ، اور ان کے بتائے ہوئے راستہ کے مطابق آخرت کی فکر برہمن نے کہا کہ میں اسلام کی ان تینوں ہی باتوں کو مانتا ہوں ۔

یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ اتنے میں مغرب کی اذان ہو گئی۔ اللہ اکبر ، اللہ اکبر کی آواز فضا میں گونجنے مسلمان نے کہا کہ چلئے ، مسجد میں چل کر نماز پڑھ لیں ۔ انھوں نے کہا کہ میں کیسے نماز پڑھوں گا ، میں تو ہندو ہوں ۔ مسلمان نے کہا کہ جب آپ اسلام کی ان تین بنیادی باتوں ( توحید ، رسالت ، آخرت ) کا اقرار کرتے ہیں تو آپ مسلم ہیں۔ وہ راضی ہو گئے اور وضو کر کے مسلمان کے ساتھ مغرب کی نماز میں شریک ہو گئے (ملی جمیعت ، ۱۵ اپریل ۱۹۸۹)

اس قسم کے بے شمار واقعات ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ اسلام کس قدر سادہ مذہب ہے ۔ اسلام کی یہ سادگی ہی اسلام کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اسلام اتنا زیادہ سادہ مذہب ہے کہ ہر مسلمان اس کو سمجھ سکتا ہے اور دوسروں کے اوپر اس کی تبلیغ کر سکتا ہے۔ وہ اتنا فطری مذہب

ہے کہ کوئی بھی شخص جو اس کو خالی الذہن ہو کر سنے ، وہ فورا اس کے دل کو اپیل کرے گا۔ اسلام کے پھیلنے میں رکاوٹ صرف اس وقت ہوتی ہے جب کہ اسلام کو سننے اور سمجھنے کے لیے معتدل فضا باقی نہ رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان اگر اجنبیت حائل نہ ہو اور ان کے درمیان تناؤ کا ماحول ختم ہو جائے تو منظم تبلیغی کوششوں کے بغیر اپنے آپ تبلیغ ہونے لگے۔ دونوں فرقوں کے درمیان روزانہ کا عام میل جول ہی اسلام کی اشاعت کا ذریعہ بن جائے۔

دوسرے مذاہب جو آج دنیا میں پائے جاتے ہیں ، ان میں عقائد اور عبادات کا نظام اتنا پیچیدہ ہے کہ صرف اعلیٰ تربیت یافتہ (پنڈت اور پادری) ہی اس کی تبلیغ کر سکتے ہیں۔ کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ اسلام ایک انتہائی سادہ اور کامل طور پر ایک فطری مذہب اس لیے ہر مسلمان اس کی تبلیغ کر سکتا ہے ، ہر مسلمان اس کی اشاعت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ہزاروں لوگ جو ہر روز دنیا کے مختلف حصوں میں اسلام قبول کرتے رہتے ہیں ، ان کا معاملہ زیادہ تر یہی ہے ، وہ کسی تربیت یافتہ مبلغ کی تبلیغ سے اسلام میں داخل نہیں ہوتے۔ حالات میں ایسا ہوتا ہے کہ مسلمانوں سے میل جول کے درمیان انہیں اسلام کی کسی تعلیم کا تجربہ اس سے ان کے اندر تلاش کا جذبہ جاگتا ہے۔ اس کے بعد وہ قرآن یا دوسری اسلامی کتابیں پڑھتے ہیں۔ یہاں تک کہ مزید متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیتے ہیں۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے یہاں ایک واقعہ نقل کیا جاتا ہے۔

روزنا توری (Rosanna Da La Torre) ایک امریکی خاتون ہیں۔ انھوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ پہلے وہ ایک فیشن پسند لڑکی تھیں۔ مگر اب وہ اسلامی طریقہ کے مطابق باحجاب زندگی گزار رہی ہیں۔ ان کے قبول اسلام کے بارے میں ان کا ایک خط امریکی مسلمانوں کے جریدہ اسلامک ہورائزن (Islamic Horizons) کے شمارہ دسمبر ۱۹۸۸ میں شائع ہوا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ میں کیلی فورنیا کی ایک کیتھولک خاندان میں پیدا ہوئی ۔ میرے والدین بچپن سے مجھ کو چرچ لے جاتے تھے۔ وہاں میں دیکھتی تھی کہ لوگ مسیح کے اسٹیچو کے آگے جھک رہے ہیں۔ میرا دل کبھی اس پر راضی نہیں ہوتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں یہ سمجھ نہیں پائی تھی کہ اسٹیچو کے

اندر خدا ہے :

Printed page