Al-Risala · October 1989

I did not associate deity to a statue.

Al-Risala, October 1989, pp. 21–22

By Maulana Wahiduddin Khan

اس بنا پر میرے اور میرے خاندان کے درمیان ایک کشمکش جاری رہتی تھی۔ تاہم میرا تلاش کا جذبہ ختم نہیں ہوا۔ میں نے مسیحیت اور دوسرے مذہبوں کا مطالعہ شروع کیا۔ مگر مجھے اطمینان حاصل نہ ہو سکا۔ اس وقت تک مجھے اسلام کے بارے میں کچھ معلوم نہ تھا۔ اس کے بعد ایک چھوٹا سا

ابوظبی (عرب امارات) کی ایک مسلم خاتون علاج کے لیے لاس اینجیلیز آئیں ۔ اس دوران میں ان سے میری ملاقات ہوئی۔ جب وہ واپس جانے لگیں تو انھوں نے دعوت دی کہ میں بھی ان کے ساتھ کچھ دنوں کے لیے ابوظبی چلوں ۔ اس طرح میں امریکہ سے ابوظبی پہنچی۔ وہاں ایک روز میرے کان میں ایک نئی آواز آئی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ " اذان " ہے۔ موذن بلند آواز سے پکار رہا تھا : اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ اکبر اللہ اکبر اس نئی آواز نے خاتون کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ چرچ کے اندر انھوں نے دیکھا تھا کہ خدا ایک محدود اسٹیچو کے روپ میں رکھا ہوا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ مسیحی چرچ یہ کہہ رہا تھا کہ خدا چھوٹا ہے۔ یہاں یہ اعلان سنائی دیا کہ خدا بڑا ہے۔ امریکی خاتون کو چرچ کی بات غیر معقول اور خلاف واقعہ محسوس ہو رہی تھی ، اس کے مقابلہ میں مسجد کی بات پوری طرح معقول اور مطابق واقعہ نظر آئی۔ چرچ کا پیغام انھیں متاثر نہ کر سکا تھا ، مگر مسجد کا پیغام ان کی فطرت کی آواز بن کر ان کے سینے میں اتر گیا۔

اس تاثر کے تحت جب مؤذن نے پکارتے ہوئے کہا کہ آؤ فلاح کی طرف (حی علی الفلاح) تو امریکی خاتون کو ایسا محسوس ہوا جیسے خدا ان سے مخاطب ہو کر یہ کہہ رہا ہو کہ رو سنا ، میری طرف آؤ ، کیوں کہ میں ہی وہ سچائی ہوں جس کی تمہیں تلاش ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اذان کا پیغام نہایت طاقت ور تھا ، وہ بجلی کی کو ند کی طرح میرے دل پر اثر کر گیا۔ یہی وہ چیز ہے جس نے ابتداءً میرے اندر اسلام سے دل چسپی پیدا کر دی :

خاتوں موصوف لکھتی ہیں کہ اس کے بعد میں نے اسلامی کتابوں کو پڑھنا شروع کیا۔ اسلامی کانفرنسوں میں شرکت کی۔ اور قرآن کا مطالعہ کیا ۔ الحمد للہ ، اللہ نے مجھے اسلام کی نعمت بخشی۔ میری پیاس آخری طور پر بجھ گئی ۔ زندگی کے بارے میں میرا پورا نقطہ نظر بدل گیا ۔ اب مجھے پوری طرح سکون اور خوشی حاصل ہے۔

اسلام اپنی ذات میں تبلیغ ہے ۔ وہ خود بخود لوگوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ یک طرفہ صبر کے ذریعہ نفرت اور تناؤ کی فضا کو ختم کر دیں تو کسی رسمی تبلیغ کے بغیر اسلام لوگوں کے اندر نفوذ کرنا شروع کر دے گا۔

Printed page