حقیقت پسندی
Al-Risala, October 1989, pp. 25–26
By Maulana Wahiduddin Khan
ٹائم میگزین (۱۳ فروری ۱۹۸۹) کے سر ورق پر جلی حرفوں میں لکھا ہوا ہے : دوبارہ ساتھی (Comrades again) ۔ جیسا کہ معلوم ہے ، چین اور روس دونوں اگر چہ کمیونسٹ ملک ہیں ، مگر ان کے درمیان کم از کم ۳۰ سال سے باہمی عداوت چلی آرہی تھی ۔ اب دونوں ملک ایک دوسرے سے قریب آرہے ہیں ۔ ٹائم کے مذکورہ شمارہ میں اسی کو کور اسٹوری بنایا گیا ہے ۔ اندر مضمون کے اوپر اس کی سرخی یہ ہے کہ ایک شگاف کی مرمت ، عداوت کا دور ختم ہو رہا ہے :
To mend a rift — An era of hostility is coming to an end چین اور روس کے درمیان ۴۵۰۰ میل کی مشترک سرحد ہے ۔ مگر پچھلے تین دہوں سے دونوں کے درمیان تعلقات خراب تھے ۔ سابق روسی وزیر اعظم نکیتا خرو شچیف نے ۱۹۵۹ میں امریکہ سے واپس آتے ہوئے چین میں مختصر قیام کیا تھا اور ماوزی تنگ سے ملاقات کی تھی جو ناخوش گوارہی ختم ہوئی۔ اس کے بعد سے دونوں ملکوں کا کوئی ذمہ دار شخص ایک ملک سے دوسرے ملک میں نہیں گیا۔ کے لمبے وقفے کے بعد فروری ۱۹۸۹ میں پہلی بار سوویت روس کے وزیر خارجہ (Eduard Shevardnadze) نے چینی راجدھانی بیجنگ کا سفر کیا۔ اس سفر کا مقصد امن اور ترقی (Peace and development) بتایا گیا تھا۔ اس سفر میں جو باتیں طے ہوئیں ، ان میں سے ایک یہ تھی کہ روسی وزیر اعظم میخائیل گورباچوف جلد ہی چین کا دورہ کریں گے (ٹائم ۱۳ فروری ۱۹۸۹)
دو حریف ملکوں میں اس خلاف توقع تبدیلی کے بارہ میں ایک چینی افسر نے کہا کہ بیجنگ اور ماسکو کو اس وقت جن مشکلات کا سامنا ہے ، اس نے ہم دونوں کو ایک دوسرے سے قریب کر دیا ہے : The difficulties that Beijing and Moscow now confront have brought us closer to one another. (p. 7). ایک روسی افسر نے یہی بات زیادہ کھل کر ان لفظوں میں کہی کہ ہم اس مشترک سوچ کے بہت قریب آچکے ہیں کہ کس طرح دونوں ملکوں میں نئے تعلقات قائم کیے جائیں ۔ ہم دونوں ہی نے ماضی میں
غلطیاں کی ہیں :
چین اور روس نے جب دیکھا کہ ان کی باہمی دشمنی ایک دوسرے کو نقصان پہنچارہی ہے تو دونوں نے طے کیا کہ وہ بے فائدہ دشمنی کو ختم کر کے آپس میں دوستانہ تعلقات قائم کر لیں ۔ فیصلہ تک پہنچنے کے لیے انھیں اپنی ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرنا پڑا ۔ وہ ایک دوسرے کے خلاف اپنے مطالبات کو چھوڑ دینے پر راضی ہوئے ۔ انھوں نے ایک نا قابلِ برداشت چیز کو برداشت کیا۔ تاکہ اپنے لیے زیادہ بہتر مستقبل کی تعمیر کر سکیں ۔ اسی کا نام حقیقت پسندی ہے۔ اس حقیقت پسندی کے بغیر موجودہ دنیا میں کامیابی تک پہنچنا ممکن نہیں۔
امریکہ اور روس اور چین موجودہ دنیا کی سب سے زیادہ طاقت ور قومیں ہیں ۔ طاقت ور قوموں کا حال یہ ہے کہ حقیقت پسندی اور مفاہمت کے سوا ان کے لیے زندگی کا کوئی اور طریقہ نہیں ، تو کمزور قومیں کیوں ٹکراؤ کی پالیسی اختیار کر کے زندہ رہ سکتی ہیں ۔ میں کمزور قوموں کے لیے حقیقت پسندی اور مفاہمت کا طریقہ اس سے بھی زیادہ ضروری ہے جتنا طاقت ور قوموں کے لیے ۔
ممبئی میں الرسالہ اور اسلامی مرکز کی کتابوں کے لیے مندرجہ ذیل پته پر رابطہ قائم کریں :
KULSUM KITAB GHAR 9, Jama Masjid Maulana Baba Lane
Bombay 400 050