بے خبری
Al-Risala, October 1989, pp. 29–30
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈاکٹر مارٹن لو تھر کنگ (Martin Luther King Jr) امریکہ کی کالی نسل (نیگرو) کے ایک وہ ۱۵ جنوری ۱۹۲۹ء کو اٹلانٹا میں پیدا ہوئے۔ امریکہ میں نیگروؤں کی آبادی ۲۲ ملین ہے۔ انھیں سفید فام لوگوں کے برابر کا انسان نہیں سمجھا جاتا ۔ مارٹن لو تھر کنگ اپنی قوم کو شہری حقوق (Civil rights) دلوانے کے لیے اٹھے۔ انھوں نے تشدد کو چھوڑ کر غیر متشددانہ مزاحمت (Nonviolent resistance) کا طریقہ اختیار کیا۔ ان کے اندر غیر معمولی تقریری صلاحیت تھی۔ چنانچہ وہ بہت جلد مقبول ہوگئے ۔ وہ اپنی تقریروں میں کہا کرتے تھے کہ ہم ایک تخلیقی جنگ میں مصروف ہیں تاکہ اپنے اوپر سے نسلی بے انصافی کی لمبی رات کو ختم کر سکیں : We are engaged in a creative battle to end the long night of racial مارٹن لو تھر کنگ کا غیر معمولی اعتراف ان کی زندگی ہی میں اس طرح کیا گیا کہ ۱۹۶۴ء میں ان کو امن (Peace) کا نوبیل انعام دیا گیا ۔ تاہم سفید فام نسل سے تعلق رکھنے والوں کا ایک طبقہ ان سے ناراض ہو گیا ۔ چنانچہ ایک سفید فام امریکی جیمز ارل رے (James Earl Ray) نے ۴ اپریل ۱۹۶۸ء کو گولی مار کر انھیں ہلاک کر دیا ۔ اس آدمی پر مقدمہ چلا ۔ امریکی عدالت نے اس کو 99 سال قید کی سزا مارٹن لو تھر کنگ کی تدفین کے بعد ان کی قبر پر جو کتبہ لگایا گیا اس پر درج ہے، آخر کار آزاد : Free at last مارٹن لو تھر کنگ کے ساتھیوں کے نزدیک آزادی یہ تھی کہ وہ سفید فام نسل کے غلبہ سے رہائی حاصل کر لیں۔ موت نے جب ان کے لیڈر کو سفید فام لوگوں کے قبضہ سے دور کر دیا تو انھوں نے کہہ دیا کہ اب وہ آزاد ہو گیا ۔ مگر یہ صرف بے خبری کی بات ہے ۔ انسان کی آزادی حقیقۃ یہ ہے کہ اس کو آنے والی اصلی اور طویل تر دنیا میں جہنم سے رہائی ملے ۔ اس کو ابدی جنت کا مستحق قرار دیا جائے ۔ دنیا کے کتنے آزاد آخرت میں غلام نظر آئیں گے ، اور کتنے غلام آخرت میں آزاد قرار دیئے جائیں گے ۔ مگر اکثر لوگ اس سب سے بڑی حقیقت کو نہیں مانتے ۔
اشتراکی روس کے پہلے حکمراں لینن کا انتقال ۱۹۲۴ میں ہوا۔ اس کے بعد جوزف اسٹالن روس کا وزیرِ اعظم بنا۔ اور اپنی وفات (۱۹۵۳) تک اس عہدہ پر باقی رہا۔ اس نے تقریباً ۳۰ سال تک اشتراکی روس کے اوپر مطلق العنان حکومت کی۔ اس دوران اس نے بے شمار مظالم کیے۔ حتیٰ کہ کہا جاتا ہے کہ اس نے تقریباً ۵۰ ملین انسانوں کو مختلف طریقوں سے ہلاک کر ڈالا (ٹائمز آف انڈیا ۲۰ اپریل ۸۹) اسٹالن کے پورے دورِ حکومت میں اس کے مظالم اس طرح مکمل طور پر چھپائے جاتے رہے کہ اس کا ایک لفظ بھی اشتراکی روس کی وسیع مملکت میں کہیں شائع نہ ہو سکا۔ بعد کے ایک روسی وزیرِ اعظم نیکیتا خروشیف نے کمیونسٹ پارٹی کی بیسویں کانگریس میں بند کمرے کے اندر اس کے بھیانک جرائم پر ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی ۔ یہ واقعہ ۲۵ فروری ۱۹۵۶ کا ہے۔ مگر اس کے باوجود خروشیف کی یہ رپورٹ نہ روس کے ملکی اخبارات میں چھپنے کے لیے دی گئی اور نہ بیرونی اخبارات میں۔ اسٹالن کے مظالم کا راز بدستور راز بنا رہا۔ مگر ۶ اپریل ۱۹۸۹ کو اس راز کا پردہ پھٹ گیا۔ اس واقعہ کے ۳۳ سال بعد، اور اصل مظالم کے نصف صدی سے بھی زیادہ بعد، اس رپورٹ کو شائع کر دیا گیا ہے۔ ماسکو سے شائع ہونے والے ایک سرکاری ماہنامہ نیوز (News) نے ۱۶ اپریل ۱۹۸۹ کو خروشیف کی یہ رپورٹ مکمل طور پر شائع کی ہے، اور اس کا عنوان ہے ــــــــــ شخصیت پرستی اور اس کے اثرات : On the personality cult and its consequences. موجودہ دنیا میں آدمی سرکشی کرتا ہے۔ وہ اپنی بڑائی قائم رکھنے کی خاطر حق کو ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔ پھر بھی اس کو اپنی اصل حیثیت پر پردہ ڈالنے کے لیے خوبصورت الفاظ مل جاتے ہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں نے ہمیشہ کے لیے اپنی بداعمالیوں کو چھپالیا۔ مگر جس طرح اسٹالن کے لیے "۶ اپریل" کی تاریخ طے تھی، اور اس تاریخ کے آتے ہی وہ ساری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا۔ اسی طرح ہر انسان کے لیے ایک ۶ اپریل مقدر ہے ۔ اس کے آتے ہی ہر آدمی کی حقیقت صفحہ اول کی خبر بن جائے گی جس طرح ۶ اپریل ۱۹۸۹ کو اسٹالن کی حقیقت صفحہ اول کی خبر بن گئی۔
یہ دن بہر حال ہر انسان پر آنے والا ہے، خواہ وہ آج آئے یا آج کے ۵۰ سال بعد۔