Al-Risala · October 1989

I am thrilled about it

Al-Risala, October 1989, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

دنیا میں ایسے بے شمار لوگ ملیں گے جن کو ان کے کسی کارنامہ پر انعام اور تحسین ملے تو ان پر تموج (دھترں) کی کیفیت طاری ہو جائے ۔ مگر ایسا آدمی شاید ساری دنیا میں ایک بھی نہیں جس کو اس منعم حقیقی کے عطیہ پر تموج (دھترں) کی کیفیت پیدا ہو جس کے دیئے ہوئے جسم اور دماغ اور موافق حالات کو استعمال کر کے اس نے یہ کارنامہ انجام دیا۔

غیر معمولی صلاحیتوں والا ذہن، انتہائی موزوں جسم اور بے شمار موافق حالات ہی کی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ کوئی شخص سوچے، منصوبے بنائے اور عمل کر کے اس کو تکمیل تک پہنچائے۔ اور یہ سب کچھ بلاشبہ خدا کا دیا ہوا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر کارنامہ خدا کا کارنامہ ہے۔ ہر کارنامہ کا فضل خدا کو پہنچتا ہے۔ آدمی اس راز کو جانئے تو وہ اپنی ہر کامیابی پر خدا کے آگے سجدہ میں گر جائے ۔ مگر نادان انسان اس کو اپنا کارنامہ سمجھ لیتا ہے۔ جس واقعہ پر اس کے اندر شکر کا جذبہ ابھرنا چاہیے، اس کو وہ اپنے لیے فخر کا سرمایہ بنا لیتا ہے ۔

Printed page