Al-Risala · October 1989

حاضر جوابی

Al-Risala, October 1989, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا سعید احمد خاں سلطان پوری، جمعیۃ علماء ہند کے آرگنائزر تھے لوگ انھیں از راہ محبت " دادا " کہا کرتے تھے۔ ۲۰ جنوری ۱۹۸۹ کو اپنے وطن سلطان پور میں ان کا انتقال ہو گیا۔ انتقال ان کی عمر تقریباً ۷۰ سال تھی۔

وہ نہایت حاضر جواب آدمی تھے۔ ایک بار کا قصہ ہے۔ وہ مسجد عبدالنبی (نئی دہلی) میں ایک مجلس کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے ۔ اتنے میں ایک خوش پوش، بلند قامت آدمی آکر سامنے کھڑے انھوں نے تیز و تند لہجہ میں کہا کہ آپ کے دفتر کے کارکن نہایت بدتمیز ہیں۔ وہ ہم جیسے لوگوں کا احترام نہیں کرتے۔ اس کے بعد جو گفتگو ہوئی وہ حسب ذیل تھی : مولانا سعید احمد : آپ کون صاحب ہیں ۔

نو وارد : مجھ کو آپ نہیں جانتے ، میں پنجاب کا رہنے والا ہوں۔

مولانا سعید احمد : جی ہاں، نہیں جانتا۔ اسی لیے تو پوچھ رہا ہوں۔ نو وارد : میں اس زمانہ کا نبی ہوں ، اور ....... مولانا سعید احمد : اگر تم نبی ہو تو میں تمہارا خدا ہوں۔ تم کو حکم دیتا ہوں کہ تم فوراً یہاں سے نکل جاؤ۔

اپنے موقع کے لحاظ سے یہ بلاشبہ بہترین جواب تھا۔ بعض مواقع پر علمی اور منطقی جواب زیادہ کارآمد ہوتا ہے ۔ مگر بعض مواقع ایسے ہیں جہاں جواب کا وہ انداز زیادہ کارآمد ہے جس کی ایک مثال مذکورہ گفتگو میں نظر آتی ہے۔

اسی کو عام زبان میں حاضر جوابی کہتے ہیں۔ حاضر جوابی ایک اعلیٰ انسانی صلاحیت ہے۔ تاہم استعمال کے اعتبار سے اس کی دو الگ الگ قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس خداداد صلاحیت کو باطل کے توڑ کے لیے استعمال کیا جائے جس کی ایک مثال اوپر کا واقعہ ہے۔ صورت یہ ہے کہ آدمی اس صلاحیت کو لوگوں کا مذاق اڑانے کے لیے استعمال کرے۔ کا پہلا استعمال بلاشبہ مطلوب ہے ، اور اس کا دوسرا استعمال بلاشبہ غیر مطلوب ۔

Printed page