صبر کی اہمیت
Al-Risala, October 1989, pp. 39–22
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک فلسطینی نوجوان سے ملاقات ہوئی ۔ گفتگو کے دوران میں نے دین میں صبر کی اہمیت کا ذکر کیا اور صبر سے متعلق قرآن کی آیتیں ان کے سامنے پیش کیں ۔ انھوں نے فوراً کہا : صبر کی آیتیں تو مکی دور میں اتری تھیں ۔ ہجرت کے بعد صبر کا حکم منسوخ کر دیا گیا اور جہاد و قتال کی آیتیں اتاری گئیں ۔ اب ہم دورِ صبر میں نہیں ہیں ۔ اب ہم دورِ جہاد میں ہیں ۔ اب ہمارے تمام معاملات جہاد کے ذریعہ درست ہوں گے اور یہی کام ہمیں کرنا ہے ۔
یہ ایک بہت بڑا مغالطہ ہے جس میں بے شمار لوگ مبتلا ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر ایک ابدی حکم ہے ۔ اس کا تعلق ہر دور اور ہر زمانہ سے ہے ۔ صبر تمام دینی اعمال کا خلاصہ ہے ۔ آدمی کوئی دینی عمل صحیح طور پر اسی وقت کر سکتا ہے جب کہ اس کے اندر صبر کا مادہ ہو ۔ سے صبر رخصت ہو جائے ، وہ کوئی بھی دینی کام صحیح ڈھنگ سے انجام نہیں دے سکتا ، خواہ وہ کلمہ توحید پر استقامت کا معاملہ ہو یا میدانِ مقابلہ میں شجاعت کا معاملہ ۔ یا اور کوئی معاملہ ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں بار بار صبر کی تاکید کی گئی ہے ، اور علی الاطلاق طور پر اس کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے ۔ قرآن میں صبر کا مادہ ایک سو سے زیادہ بار استعمال کیا گیا ہے۔ سورۃ البقرہ ایک مدنی سورۃ ہے ، اس میں کہا گیا ہے کہ تم لوگ صبر اور نماز سے مدد لو ، اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ( استعينوا بالصبر والصلاة ان ٱللَّهَ مع الصابرين
حدیث میں صبر کی بہت زیادہ فضیلت آئی ہے اور مختلف پہلوؤں سے اس کی اہمیت بتائی گئی ہے ۔ بخاری و مسلم کی ایک متفق علیہ روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے صبر سے زیادہ اچھا اور بڑا عطیہ کسی شخص کو نہیں دیا ( وما أعطى أحد عطاءً خيراً أو أوسع من الصبر ) ایک اور حدیث میں ہے کہ صبر مومن کا بھروسہ ہے ( الصبرُ معوّل المسلم )
صبر کے لفظی معنی رکنے کے ہیں ۔ امام راغب نے صبر کی حقیقت ان لفظوں میں بیان کی ہے :
ہے جس کا عقل تقاضا کرے) عربی میں کہا جاتا ہے کہ صبرت نفسی عن کذا ۔ یعنی میں نے اپنے نفس کو فلاں چیز سے روک دیا۔
موجودہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں موافق پہلوؤں کے ساتھ ناموافق پہلو بھی موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کسی کام کو کامیابی کے ساتھ انجام دینے کے لئے صبر لازمی طور پر ضروری ہے۔ اپنی خواہش کو دبا کر اپنی عقل کو رہنما بنانا پڑتا ہے۔ یہاں ایک چیز کو لینے کے لئے دوسری چیز کو چھوڑنا یہاں آج پر توجہ دینے کے لئے کل کو مستقبل کے خانہ میں ڈالنا پڑتا ہے۔ مزاج باتوں کو برداشت کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھنا پڑتا ہے۔ یہاں رد عمل کی نفسیات سے آزاد رہ کر مثبت سوچ کے تحت اپنا منصوبہ بنانا پڑتا ہے۔ ان تمام چیزوں کا تعلق صبر سے ہے یہی وجہ ہے کہ اس دنیا میں صبر کے بغیر کبھی کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ دنیوی کاموں کی طرح، دینی کام کے لئے بھی صبر لازمی طور پر ضروری ہے۔ جس زمین پر اور جس انسانی ماحول میں ایک دنیا دار کام کرتا ہے اسی زمین پر اور اسی انسانی ماحول میں دیندار بھی اپنا عمل اس لئے یہاں دینی مقصد کو پانے کے لئے بھی صبر کا طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ بغیر کوئی بھی دینی کام نتیجہ خیز طور پر انجام نہیں دیا جا سکتا۔
اسلام کی تاریخ وسیع تقسیم کے مطابق ، تین قسم کے حالات سے گزری ہے ۔ خلافت، ملوکیت ۔ دعوتی دور کی معیاری مثال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ۲۳ سالہ زمانہ یہی وہ زمانہ ہے جس کے مطالعہ سے دعوت کے آداب اور اس کے طریقے صحیح طور پر معلوم کئے جاسکتے ہیں۔ اس کے بعد خلافت کا زمانہ آتا ہے جو گویا صحیح معنی میں نائبین رسول کا زمانہ ہے۔ یہ زمانہ حضرت ابو بکر بن ابی قحافہ سے شروع ہوتا ہے اور حضرت علی ابن ابی طالب پر ختم ہوتا ہے۔ اس کے بعد ، مورخین اسلام کے مطابق ملوکیت کا دور ہے۔ یہ زمانہ حضرت امیر معاویہ سے شروع ہوا اور آج تک کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔
ان تینوں دوروں میں جو اسلامی کردار مطلوب ہے، اس پر قائم ہونے کے لئے یکساں طور پر صبر کی اہمیت ہے۔ یہاں ہم تینوں دوروں کے بارے میں کلام کریں گے پہلے دونوں دوروں
کے بارے میں مختصر طور پر اور تیسرے دور کے بارہ میں زیادہ مفصل طور پر۔ دعوت کا دور محمد بن اسحق بیان کرتے ہیں کہ بیعت عقبہ سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگ کی اجازت یں دی گئی تھی اور خون بہانا آپ کے لئے حلال نہیں کیا گیا تھا۔ آپ کو حکم تھا کہ آپ لوگوں کو اللہ کی طرف بلائیں۔ اور تکلیفوں پر صبر کریں۔ اور جاہلوں سے روگردانی کریں۔ قریش کا یہ حال نہ تھا کہ آپ کی قوم میں سے جو لوگ آپ کی پیروی کرتے وہ ان پر ظلم کرتے۔ ان کے دین کے بارہ میں انھیں سخت آزمائش میں مبتلا کرتے۔ قریش نے ان کو ان کی بستیوں سے نکال دیا۔ آپ کے پیروؤں میں سے کچھ لوگ سخت آزمائش میں مبتلا ہو گئے۔ اور کچھ لوگ قریش کے ہاتھ سے تکلیفوں کا شکار ہوئے۔ اور کچھ لوگ ان سے بچنے کے لئے دوسرے علاقوں میں چلے گئے۔ ایک جماعت حبش چلی گئی۔ کچھ لوگوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی یا اور کسی طرف چلے گئے۔ نے اس طرح اللہ کے مقابلہ میں سرکشی اختیار کی اور اللہ نے ان کے لئے جس عزت کا ارادہ کیا تھا اس کو رد کر دیا ، اور اپنے نبی کو جھٹلایا۔ اور ان لوگوں کو تکلیف دی اور جلا وطن کیا جنھوں نے اللہ کی عبادت کی اور اس کو ایک مانا اور اس کے دین کو مضبوطی سے پکڑ لیا ، اس وقت اللہ نے اپنے رسول کو جنگ کی اجازت دی اور ان لوگوں کے لئے حفاظت اور مدد کا وعدہ کیا جن پر ظلم اور زیادتی ہو رہی تھی۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ اس اجازت کے بارے میں سب سے پہلے سورۃ الحج (آیت ۳۹ - ۴۱) اتاری گئی۔ (سیرت ابن ہشام ، الجزء الثانی، صفحہ ۷۵ مکہ کا دور دعوت کا دور تھا۔ اس زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو حکم تھا کہ اپنی ساری توجہ صرف دعوت پر مرتکز رکھیں۔ غیر مسلموں کی طرف سے خواہ کتنی ہی دل آزاریاں کی جائیں اور کتنی ہی تکلیفیں پہنچائی جائیں ان پر کوئی رد عمل ظاہر نہ کریں۔ کے باوجود مشتعل نہ ہوں۔ یک طرفہ طور پر صبر و برداشت پر قائم رہتے ہوئے دعوت کا مثبت کام جاری رکھیں۔
دعوت کا کام اس وقت تک انجام نہیں پا سکتا جب تک داعی کے دل میں مدعو کی خیر خواہی یہ خیر خواہی اتنی زیادہ ہونی چاہئے کہ مدعو کی زیادتیوں کے باوجود اس کے حق میں داعی کے
دل سے ہدایت کی دعائیں نکلتی رہیں۔ چنانچہ جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑایا اور آپ پر پتھر مارے، ان کے بارہ میں آپ نے یہ دعا فرمائی کہ خدایا، میری قوم کو ہدایت دے ؛ وہ نہیں جانتے ( رب اھد قومی فانھم لا یعلمون )