خلافت کا دور
Al-Risala, October 1989, pp. 22–43
By Maulana Wahiduddin Khan
خلافت کا دور اقتدار کا دور ہے۔ اقتدار ، عین اپنی طبیعت کے اعتبار سے بہت سی خرابیاں پیدا کرتا ہے۔ اس لئے دور خلافت ( دور اقتدار ) میں صبر کی اہمیت ہمیشہ سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
دور خلافت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کے اندر عہدوں کی طلب بڑھ جاتی ہے۔ ہر آدمی یہ چاہنے لگتا ہے کہ اس کو ایک اچھا سیاسی عہدہ مل جائے۔ اگر یہ مزاج باقی رہے تو خلافت کا پورا نظام برباد ہو کر رہ جائے گا۔
یہاں صبر ( اپنی خواہشات کو روکنا ) اس بات کی ضمانت ہے کہ خلافت کے دور میں عہدوں کی طلب کی برائی نہ پیدا ہو۔ عہدے اگر اہلیت کی بنیاد پر دئے جائیں تو اس سے خلافت کا نظام طاقت ور ہوتا ہے۔ اس کے برعکس عہدے اگر خواہشات کی بنیاد پر دئے جانے لگیں تو خلافت کا پورا نظام کمزور ہو کر رہ جائے گا۔ ایسی حالت میں خلافت کے نظام کو صحت مند حالت پر باقی رکھنے کے لئے صبر کی صفت انتہائی طور پر ضروری ہے۔
دور اول میں اس کی ایک عظیم الشان مثال انصار کا اس پر راضی ہونا ہے کہ وہ عہدہ خلافت کے معاملہ میں قریش سے نزاع نہیں کریں گے۔ انصار نے اسلامی انقلاب لانے کے لئے یکساں طور پر قربانیاں دی تھیں ۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ کس شخص کو خلیفہ بنایا جائے تو حضرت ابو بکر صدیق نے ایک تقریر کی جس میں انھوں نے کہا کہ موجودہ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ خلیفہ قریش میں سے ہو۔ اگر قریش کے باہر کسی کو خلیفہ بنایا جائے تو، تاریخی روایت کی بنا پر، اہل عرب کے لئے وہ قابل قبول نہ ہوگا اور لوگ اس کی اطاعت سے انکار کر دیں گے۔ انصار نے اس مصلحت کی اہمیت کو محسوس کیا اور خلافت کے مطالبہ سے دست بردار ہوگئے۔
انصار کا یہ فعل بلا شبہ اسلامی تاریخ کا ایک عظیم الشان واقعہ ہے۔ اگر وہ اپنی قربانیوں کی فہرست بتا کر عہدہ خلافت کے لئے اصرار کرتے تو یقینی تھا کہ مسلمان اقتدار کی رسہ کشی میں مشغول ہوجاتے اور اسلام کی تاریخ بننے سے پہلے مدینہ میں دفن ہو جاتی۔ یہ واقعہ بلا شبہ صبر کا واقعہ انصار کے اندر اگر صبر کا مادہ نہ ہوتا تو وہ ہرگز یہ عظیم الشان کارنامہ انجام نکسیں دے سکتے تھے۔ حکومت ایک ایسی چیز ہے جس کا تعلق پورے ملک سے ہوتا ہے۔ ملک میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اچھے بھی اور برے بھی، جاہل بھی اور عالم بھی، نرم بھی اور سخت بھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خلیفہ (حمران) کو لوگوں کی طرف سے تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگوں کی تنقیدوں کو برداشت نہ کرے اور اس کو ذاتی انتقام کا مسئلہ بنالے تو وہ کبھی انصاف نہیں کرسکتا۔ خلیفہ کو عدل پر قائم رکھنے کے لئے لازمی طور پر یہ صفت درکار ہے کہ وہ لوگوں کی تنقید وں کو برا نہ مانے۔ لوگوں کی سخت کلامی کے باوجود وہ ان کے ساتھ نرمی اور اعتدال کا رویہ اختیار کرے۔
خلیفہ اول حضرت ابو بکر کے ایک سرکاری فرمان کو ایک بار حضرت عمر نے برسر عام پھاڑ کر پھینک دیا مگر خلیفہ اول نے اس کو برا نہیں مانا اور نہ اس بنا پر ان کے دل میں عمر فاروق کی اہمیت کم ہوئی ۔ حضرت عمر فاروق جب خلیفہ ہوئے تو بار بار ایسا ہوا کہ لوگوں نے ان پر سخت الفاظ میں تنقیدیں کیں۔ مگر حضرت عمر نے کبھی ان کے خلاف منفی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ مثلاً ایک بار تقریر کے دوران برسر عام ایک شخص نے کہا کہ اگر ہم تمہارے اندر ٹیڑھا دیکھیں گے تو ہم اپنی تلوار سے تمھیں سیدھا کر دیں گے۔ خلیفہ ثانی اس پر غصہ نہیں ہوئے بلکہ یہ کہا کہ اس خدا کا شکر ہے جس نے مجھے ایک ایسی قوم میں بتلایا کہ اگر میرے اندر انحراف پیدا ہو تو وہ اپنی تلواروں سے مجھے سیدھا کر دے۔
خلیفہ کے اندر تنقید کو برداشت کرنے کا یہ مادہ انتہائی طور پر ضروری ہے۔ اس کے بغیر وہ ملک اور قوم کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتا۔ مگر یہ اعلیٰ صفت کسی شخص کے اندر اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ اس میں صبر کا مادہ موجود ہو۔ صبر ہی خلیفہ کو عدل پر قائم رکھتا ہے، اگر اس کے اندر صبر نہ ہو تو کوئی بھی چیز اس کو ظلم کی راہ پر جانے سے روک نہیں سکتی۔