Al-Risala · October 1989

خبر نامه اسلامی مرکز - ۵۵

Al-Risala, October 1989, pp. 45–47

By Maulana Wahiduddin Khan

۱۲ جولائی ۱۹۸۹ کو آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر نشر کی گئی۔ تقریر کا عنوان تھا : قربانی کا تصور اور ہمارا معاشرہ۔ تقریر میں بتایا گیا تھا کہ قربانی کے عمل کا بہت گہرا تعلق انسانی زندگی کی تعمیر سے ہے۔ قربانی کا عمل اس کی صحیح اسپرٹ کے ساتھ کیا جائے تو پورا انسانی معاشرہ صحت مند معاشرہ بن جائے ۔

ایک صاحب سلطنت عمان سے لکھتے ہیں : میں ۴ ۱۹۸ سے الرسالہ کا مستقل قاری ہوں۔ میں الرسالہ سے اس قدر مانوس ہوا ہوں کہ ہر ماہ بڑی بے چینی سے اس کا انتظار کرتا ہوں۔ میں خود الرسالہ پڑھتا ہوں اور پھر اس کو بلوچستان میں اپنے دوستوں کے لیے بھیج دیتا عرب امارات میں میرے ایک رشتہ دار ہیں ، اور ایک بحرین میں ہیں۔ ان سب کو بھی برابر الرسالہ بھیجتا ہوں ۔ ہم سب کو یہ رسالہ بہت پسند ہے ۔ آپ کی اعراض کی نصیحت پر میں خود عمل کرتا ہوں اور دوسروں سے کہتا ہوں ۔ میں نے آپ کی کتاب خاتونِ اسلام بھی بہت اچھی ہے ٹائمس آف انڈیا گروپ کی طرف سے ۶ ، ستمبر ۱۹۸۹ کو ایک سیمینار ہوا۔ موضوع آنکھ کا عطیہ اور مذہب (Eye donation and religion) تھا ۔ مرکز کو دعوت دی گئی تھی کہ وہ اس موضوع پر اسلامی نقطہ نظر سے روشنی ڈالیں ۔ کے مطابق صدر اسلامی مرکز نے نئی دہلی کے اس سیمینار میں شرکت کی اور "آنکھ کا عطیہ اور اسلام" کے موضوع پر انگریزی میں ایک مقالہ پیش کیا جو بہت پسند کیا گیا ۔ یہ مقالہ انشاء اللہ الرسالہ (انگریزی) میں شائع کر دیا جائے گا ۔

ٹوکیو (جاپان) سے ایک اخبار نکلتا ہے جس کا نام سیکائی نپو (Sekai Nippo) ہے ۔ اخبار کے ایک جاپانی رپورٹر کونیو نیشی (Kunio Nishi) ۶ اگست ۱۹۸۹ کو اسلامی مرکز میں آئے اور ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا ۔ کونیو نیشی انگریزی زبان سے بخوبی واقف تھے ۔ چنانچہ انھیں گائیڈ اڑائینز اور مرکز کے کچھ دوسرے انگریزی لٹریچر دیے گئے ۔

ایک دعوت نامہ کے تحت صدر اسلامی مرکز نے راجستھان کا سفر کیا اور خطابات کیے۔ یہ سفر ۲ جولائی کو شروع ہوا اور یکم اگست ۱۹۸۹ کو ختم ہوا۔ اس سفر کی روداد انشاء اللہ سفر نامہ کے تحت الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔

راجستھان کے سفر (جولائی ۱۹۸۹) میں وہاں کے مسلمانوں نے یہ کہا کہ ہماری ریاست ایک ہندی ریاست ہے۔ ہمارے بچے اب ہندی پڑھتے ہیں۔ ان کے لیے ہندی الرسالہ کی سخت اس سلسلہ میں کہا گیا کہ انشاء اللہ الرسالہ کا ہندی ایڈیشن بھی جاری کیا جائے گا فی الحال وہاں کے بعض مقام پر یہ انتظام کیا گیا ہے کہ مسلم نو جوانوں کو اس پر آمادہ کیا گیا کہ وہ ہفتہ میں ایک بار کسی مقام پر جمع ہوں۔ کوئی اردو داں نوجوان الرسالہ کا ایک دو صفحہ پڑھ کر سنائے اور قابل فہم زبان میں اس کی تشریح کرے۔ رشیونگ میں اس نوعیت کا پہلا افتتاحی اجتماع ۲۹ جولائی کو کیا گیا۔ یہ طریقہ دوسرے مقامات پر بھی اختیار کرنا

ایک صاحب صلالہ (سلطنت عمان) سے لکھتے ہیں : اب ایسا ہو گیا ہے کہ زندگی کے معمولات کو برتنے سے بیشتر آپ کی تحریر راہ نمائی کا ذریعہ بننے لگی ہے۔ الرسالہ کا مطالعہ کرنے والا شخص کبھی غیر سنجیدہ ہو ہی نہیں سکتا۔ الرسالہ کی بڑی خوبی یہ ہے کہ بجھے ہوئے دماغ کو نئی روشنی عطا کرتا ہے اور حالات کے ماروں کو غیر معمولی توانائی بخشتا ہے۔ کی کتابوں کو عیسائی اور غیر مسلم برادری میں اسلام کی اشاعت کا ذریعہ بنا رہا ہوں۔ سے ان لوگوں کو ابھی تک کوئی صالح مواد فراہم نہیں کیا گیا۔ آج مسلمانوں کا جو بھی اخبار یا رسالہ ہے، سب نفرت کی تبلیغ کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ انشاء اللہ آپ کے پیغام اور الرسالہ کی دعوت کے ذریعہ یہ کام ہو سکے گا۔ (قطین اشرف صدیقی)

عتیق احمد خاں انجینئر نے بتایا کہ بنگلور میں مسیحی دکان دار ایسا کرتے ہیں کہ وہ اپنے گاہکوں کو سامان کے ساتھ اپنے مذہب کی کتاب بطور تحفہ دیتے ہیں۔ وہاں حلقہ الرسالہ (عبداللہ برمی صاحب وغیرہ) نے یہ تحریک چلائی کہ مسلمان دکاندار اسلامی مرکز کی کتابیں) اپنے گاہکوں کو تحفہ کے طور پر دیں۔ چنانچہ بہت سے دکاندار راضی ہو گئے۔ وہ جب کسی گاہک

کے ہاتھ اپنا سامان فروخت کرتے ہیں تو اس کو مرکز کی چھپی ہوئی کوئی انگریزی یا اردو کتاب بطور گفٹ (تحفہ) دیدیتے ہیں۔ یہ طریقہ دوسرے شہروں میں بھی کامیابی کے ساتھ چلایا

-9 دہلی کے انٹلکچول فورم کی طرف سے ایک سمپوزیم ۲۸ جولائی ۱۹۸۹ کو ہوا۔ اس کی کارروائیاں ہماچل بھون (نئی دہلی) میں انجام پائیں۔ اس کا موضوع تھا : نیشنلزم اینڈ ٹکنالوجی زلم - صدر اسلامی مرکز کو اس میں خطاب کی دعوت دی گئی تھی۔ مگر ایک سفر کی وجہ سے وہ اس میں شرکت نہ کر سکے ۔ تاہم منتظمین کو موضوع سے متعلق کچھ لٹریچر روانہ کر دیا گیا۔ اس سمپوزیم کے کنوینر ڈاکٹر وجے کمار ملہوترا تھے۔

-۱۰ شتم رسول کے مسئلہ پر ایک مفصل کتاب تیار ہوئی ہے ۔ اس کی کتابت ۱۸۴ صفحہ پر مکمل ہوئی ہے ۔ اس کا نام " رشدیات " ہے ۔ ان شاء اللہ جلد ہی وہ چھپ کر شائع ہوجائے گی ۔

-۱۱ ایک قدیم اور مشہور دار العلوم (عربی درسگاہ) کے ایک طالب علم اپنے خط مورخہ ۴ جولائی میں لکھتے ہیں : یہاں دار العلوم میں ایک نیا سلسلہ چل نکلا ہے ۔ وہ یہ کہ طلبہ مجھ سے الرسالہ لیتے ہیں اور اس کے مضامین کا عربی ترجمہ کرتے ہیں ، صرف اس لیے کہ الرسالہ کی زبان اتنی معیاری اور عام فہم ہوتی ہے کہ اس سے عربی ترجمہ کی بہت اچھی مشق کی جاسکتی میں نے عربی میں ترجمہ کرنا شروع کیا تو واقعی بہت زیادہ فائدہ محسوس ہوا۔ اس لیے کہ صرف ایک صفحہ کا مضمون ہوتا ہے ، اس لیے تھکاوٹ نہیں ہوتی۔ نیا مضمون پھر سے نشاط پیدا کر دیتا ہے ۔ میرے بہت سے ساتھی الرسالہ کے قدیم نسخے میرے پاس سے لے جاکر عربی میں اور بعض طلبہ انگلش میں بھی ترجمہ کر رہے ہیں ۔ میں الحمد للہ روزانہ کم ازکم الرسالہ کے ایک مضمون کا عربی اور انگریزی دونوں میں ترجمہ کر رہا ہوں ۔ دوسروں کے مضامین میں اتنی پیچیدگی ہوتی ہے کہ ترجمہ کرتے وقت بار بار جھنجھلاہٹ ہوتی ہے ، لیکن الرسالہ کے مضامین کے ترجمہ میں ایک عجیب لطف محسوس ہوتا ہے۔ کیوں کہ جو بات بھی اس میں ہوتی ہے وہ بالکل صاف سیدھے اور ٹھیک اسلوب میں ہوتی ہے۔ بے باک انداز تحریر اور دو دو چار کی طرح واضح بات ہوتی ہے۔

Printed page