Al-Risala · November 1989

حوصلہ مندی

Al-Risala, November 1989, p. 2

By Maulana Wahiduddin Khan

سرسی وی رمن ایک مشہور ہندوستانی سائنس داں ہیں۔ انھوں نے روشنی کی سائنس میں ایک نیا اصول دریافت کیا جو انھیں کے نام پر رمن ایفیکٹ Raman Effect کہا جاتا اسی دریافت کی بنا پر انھیں ۱۹۳۰ میں فزکس کا نوبیل انعام دیا گیا۔ رمن تمل ناڈو کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے ۔ انھوں نے انتہائی محنت کے ساتھ پڑھا۔ یہاں تک کہ بی ایس سی اور ایم ایس سی میں انھوں نے مدراس یونیورسٹی میں ٹاپ کیا۔ حوصلہ مند آدمی تھے، انھوں نے کلکتہ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر سر آسو توش مکرجی کے سامنے یہ عہد کیا کہ میں نوبیل انعام کو نہر سوئز کے مشرق میں لے آؤں گا : I will bring the Nobel prize east of the Suez. اس عہد کو پورا کرنے کے لیے انھوں نے بے پناہ محنت شروع کی۔ تاہم ریسرچ کی آسانیاں انھیں حاصل نہ تھیں ۔ معاشی ضرورت کے تحت انھوں نے کلکتہ میں ایک سرکاری ملازمت کرلی ایک روز وہ ٹرام کے ذریعہ بو بازار (کلکتہ) سے گزر رہے تھے ۔ انھوں نے دیکھا کہ ایک عمارت پر حسب ذیل الفاظ کا ایک بورڈ لگا ہوا ہے :

The Indian Association for the Cultivision of Science یہ بورڈ دیکھ کر وہ چلتی ٹرام سے کود پڑے۔ اس ادارہ میں جا کر معلومات کیں۔ پتہ چلا کہ یہاں ریسرچ کی سہولتیں موجود ہیں ۔ اس کے بعد وہ صبح سویرے وہاں پہنچ جاتے اور آفس کے وقت تک مسلسل اپنے تحقیق اور تجربے میں لگے رہتے ۔ اسی طرح شام کو آفس سے چھٹی پاتے ہی دوبارہ وہاں پہنچ جاتے اور رات تک وہاں مشغول رہتے ۔ اس طرح پندرہ سال کی مسلسل محنت سے انھوں نے وہ سائنسی قانون دریافت کیا جس پر انھیں دنیا کا معزز ترین علمی انعام (نوبیل پرائز) دیا گیا۔ رمن کو یہ دھن تھی کہ وہ نوبیل انعام کو سوئز کے مشرق میں لے آئیں اور وہ اس کو لے آئے۔ مگر آج خدا کے بندوں میں کوئی نہیں جو اس لیے تڑپ اٹھا ہو کہ وہ خدا کے دین کو سوئز کے مغرب میں لے خدا کا دین " سوئز " کو پار کرنے کے لیے آج بھی کسی حوصلہ مند کا انتظار کر رہا ہے۔

Printed page