Al-Risala · November 1989

فکری سادگی

Al-Risala, November 1989, pp. 10–13

By Maulana Wahiduddin Khan

تاہم ان اجتماعات کو سننے اور دیکھنے کے بعد میرا مشترک احساس یہ تھا کہ فرقہ وارانہ مسئلہ کا احساس تو ضرور لوگوں کے اندر شدید طور پر پیدا ہوا ہے، مگر فرقہ وارانہ مسئلہ کا حل کیا ہو، اس کے بارے میں ان کا ذہن ابھی تک واضح نہیں ہے۔ زیادہ تر لوگ سسٹم یا قانون میں تبدیلی کی بات مثال کے طور پر مذکورہ سمینار میں یہ تجویز کیا گیا کہ ہندوستان کے دستور میں جہاں اقلیتی حق (Minority right) کا لفظ لکھا ہوا ہے، وہاں اس کو بدل کر انسانی حق (Human right) کا لفظ لکھ دیا جائے اقلیتی کمیشن کو ختم کر کے اس کی جگہ انسانی کمیشن مقرر کیا جائے، وغیرہ۔ اس قسم کی تجویزوں کے پیچھے یہ ذہن ہے کہ ملک میں جو گروہ بندی اور فرقہ وارانہ امتیاز ہے،

رہ اس لیے ہے کہ ہمارا دستور " اقلیتوں کے حقوق " کا لفظ بولتا ہے ۔ وہ ملک میں کئی گروہ تسلیم کر کے ان کے الگ الگ حقوق مقرر کرتا ہے ۔ اس سے علیحدگی کا تصور پیدا ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس اگر دستور میں " انسانی حقوق " کا لفظ درج کر دیا جائے تو ملک کے تمام لوگ ا ہی نوع ( انسان ) نظر آئیں گے ۔ کے بعد اپنے آپ علیحدگی کا ماحول ختم ہو کر یک یگانگت کا ماحول قائم ہو جائے گا ۔ مگر یہ اصل معاملہ کو بہت سادہ سمجھنا (Oversimplification) ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل مسئلہ امر واقعہ کو بدلنے کا ہے نہ کہ کسی لفظ کو بدلنے کا ۔ درخت کی دنیا میں اگر پھول کے ساتھ کانٹے بھی ہیں تو آپ کانٹوں کے مسئلہ کو اس طرح ختم نہیں کر سکتے کہ اپنی درخت کی ڈکشنری سے کانٹے کا لفظ نکال دیں ، ہر جگہ صرف پھول ہی پھول لکھ دیں ۔ درخت میں کانٹے کا مسئلہ ایک حقیقی مسئلہ ہے ۔ ایک حقیقی مسئلہ کو حقیقی سطح پر عمل کر کے حل کیا جاسکتا ہے نہ کہ لفظی سطح پر عمل کر کے ۔ مذکورہ فکر کا خلاصہ یہ ہے کہ " اقلیت " اور " اکثریت " کا لفظ امتیاز اور علیحدگی کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ اس سے سماج میں طبقات پیدا ہوتے ہیں ، اس کے برعکس اگر دستور میں " انسان " کا لفظ لکھ دیا جائے تو امتیاز کا تصور ختم ہو جائے گا اور سماج میں طبقاتی علیحدگی ختم ہو کر طبقاتی یکسانیت کا دور آجائے گا ۔

مگر اس قسم کی سوچ سادہ لوحی (Naive thinking) کے سوا اور کچھ نہیں ۔ حقیقت ہے کہ ہندوستانی سماج اور اسی طرح تمام ملکوں کے سماج میں مختلف نسلی اور مذہبی طبقات پائے جاتے ہیں ۔ یہ فرق موجود ہیں اور موجود رہیں گے ۔ ان کو اس طرح ختم نہیں کیا جا سکتا کہ قانون میں ایک لفظ کی جگہ دوسرا لفظ لکھ دیا جائے ۔

اس کی ایک عملی مثال ہر یجن کا مسئلہ ہے ۔ ہریجنوں کے سلسلہ میں وہ چیز عملاً حاصل کی جاچکی ہے جس کا مطالبہ اقلیتوں کے سلسلہ میں کیا جا رہا ہے ۔ قدیم تصور کے مطابق ، ہندو اور اونچی ذات کے لوگ ہیں اور ہر جن ( شودر ) نیچی ذات کے لوگ ۔ آزادی کے بعد جو قانون سازی ہوئی ہے ، اس میں دونوں کو لفظی طور پر ایک کر دیا گیا ہے ، چنانچہ ہمارا موجودہ دستور دونوں کو یکساں طور پر ہندو قرار دیتا ہے ۔

مگر کیا اس لفظی یکسانیت کی وجہ سے ہندو (اونچی ذات) اور ہریجن (نیچی ذات) کا فرق ختم

ہر آدمی جانتا ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ لفظی یکسانیت پیدا کرنے کے با وجود دونوں میں سماجی یکسانیت نہیں آئی، دونوں کے درمیان سابقہ تفریق بدستور پوری طرح باقی ہے۔ سبق آموز مثال جو لوگ فرقہ وارانہ مسئلہ پر گفتگو کرتے ہیں، وہ ہمیشہ ایک بنیادی غلطی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ وہ شمالی ہندوستان کو کل ہندوستان سمجھ لیتے ہیں ۔ اس بنا پر ان کا تجزیہ بھی نادرست ہوتا ہے اور ان کا پیش کردہ حل بھی نادرست ۔

زیر بحث مسئلہ کا ایک اہم ترین عملی پہلو یہ ہے کہ یہ ملک دو مختلف حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ شمالی ہند، اور دوسرے جنوبی ہند۔ پچھلی نصف صدی کی تاریخ بتاتی ہے کہ جتنے بھی فرقہ وارانہ جھگڑے ہوتے ہیں، وہ سب کے سب شمالی ہند میں ہوتے ہیں۔ جنوبی ہند میں اس قسم کا کوئی جھگڑا اگر کبھی اتفاق سے کوئی فرقہ وارانہ جھگڑا جنوب کے علاقہ میں ہوا ہے، تو وہ شمالی ہند کے لوگوں ہی کا پیدا کردہ تھا جو کسی وجہ سے وہاں پہنچ گئے ۔ خود جنوبی ہند کے لوگوں نے کبھی اس قسم کا کوئی جھگڑا بر پا نہیں کیا۔ جب کہ وہ تمام فرقے جنوبی ہند میں بھی موجود ہیں جو شمالی ہند میں موجود ہیں۔ تمام گروہ ہی وہاں بھی پائے جاتے ہیں، جو یہاں پائے جاتے ہیں ۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ شمالی ہند میں ہم جس مسئلہ کو حل کرنے کی باتیں کرتے ہیں، وہ جنوبی ہند میں عملاً حل شدہ ہے، جب ایسا ہے تو سب سے پہلے ہمیں ملک کے دونوں علاقوں کے فرق کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔ موجودہ صورت حال میں ہمیں اس کے سوا اور کچھ نہیں کرنا ہے کہ جنوبی ہند کو شمالی ہند تک وسیع کر دیں۔ جو کچھ ملک کے ایک حصہ میں جاری ہے ، اس کو ملک کے دوسرے حصہ میں جاری کر دیں۔ راقم الحروف نے جنوبی ہند کے کئی سفر کیے ہیں اور اس مسئلہ کو تفصیل کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ میرا حاصل مطالعہ ہے کہ اس فرق کی وجہ بالکل سادہ ہے۔ جنوبی ہند کے لوگوں میں تحمل (Tolerance) ہے ، جب کہ شمالی ہند کے لوگوں میں تحمل نہیں۔ جنوبی ہند کے لوگ اختلاف کے با وجود ایک دوسرے سے ٹکراؤ نہیں کرتے ۔ جب کہ شمالی ہند کے لوگوں کا حال ہے کہ اختلاف کا کوئی واقعہ سامنے آتے ہی وہ فوراً ٹکراؤ کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جنوبی ہند کا مزاج تحمل ہے، اور شمالی ہند کا مزاج عدم تحمل ۔ یہی وہ فرق ہے جس نے دونوں علاقوں کے درمیان

یہ فرق پیدا کر دیا ہے کہ شمالی ہند میں فرقہ وارانہ جھگڑے زندگی کا معمول بن گئے ہیں، جب کہ جنوبی ہند میں فرقہ وارانہ جھگڑوں کا سرے سے کوئی وجود نہیں۔

اوپر کی مثال ایک عملی واقعہ کی صورت میں بتاتی ہے کہ فرقہ وارانہ مسئلہ کا حل کیا ہے۔ یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ مزاج بنایا جائے کہ وہ فرقہ وارانہ اختلاف کے باوجود فرقہ وارانہ اتحاد کے ساتھ جو صورت حال آج بھی ملک کے ایک حصہ میں قائم ہے، وہی صورت حال ملک کے دوسرے حصہ میں قائم کر دی جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ فرقہ وارانہ مسئلہ کا حقیقی اور پائیدار حل صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ لوگوں کی سوچ کو درست کیا جائے ۔ ہمارے ملک کا یا دوسرے لفظوں میں شمالی ہند کا ، اصل مسئلہ یہ ہے کہ مختلف اسباب سے یہاں کے لوگوں کی سوچ بگڑ گئی ہے۔ یہی جڑ کی بات ہے۔ اور اس جڑ پر عمل کر کے ہی فرقہ وارانہ مسئلہ اور دوسرے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔

کسی سماج میں مختلف فرقوں کا ہونا بالکل فطری بات ہے، وہ ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ باقی رہیں گے ۔ ہمارے موجودہ سماج کی اصل برائی خود فرقوں کی موجودگی نہیں، بلکہ مختلف فرقوں کے درمیان تحمل (Tolerance) کی غیر موجودگی ہے۔ فرقہ واریت کا مسئلہ عدم تحمل کا پیدا کردہ ہے، نہ کہ خود فرقوں کی موجودگی کا پیدا کردہ۔

Printed page