جنگ اور امن اسلامی نقطۂ نظر سے
Al-Risala, November 1989, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ہے کہ تم یکسو ہو کر اپنا رخ اس دین کی طرف کرلو ، اللہ کی فطرت جس پر اس نے لوگوں کو بنایا ہے ، اس کے بنانے کو بدلنا نہیں ہے ، یہی سیدھا دین ہے ( الروم ۳۰ ) یہی بات حدیث میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے کہ ہر انسان جو اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے وہ صحیح فطرت پر پیدا ہوتا ہے ( کل مولود یولد علی الفطرۃ ) وہ اس ابدی فطرت کے عین مطابق ہے جو ہر انسان کے اندر پیدائشی طور پر موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کی تعلیمات میں اور عقل عام ( Common sense ) میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ انسان اپنی فطرت کے تقاضے کے تحت چاہتا ہے کہ دنیا میں امن ہو۔ امن ہر آدمی کی پہلی فطرت کی آواز امن کی آواز ہے۔ کیوں کہ اس کے بغیر ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہر آدمی کو یکساں طور پر عمل کرنے کے مواقع حاصل ہوں۔ عقیدہ اور نظریہ کے اختلاف کے باوجود سوسائٹی میں پر امن فضا برقرار رہے۔
انسانی فطرت کا یہ تقاضا اسلام کا تقاضا بھی ہے۔ اس معاملہ میں یہی اسلامی تعلیمات کا قرآن میں ہے کہ خدا بے امنی کو پسند نہیں کرتا ( البقرہ ۲۰۵ ) خدا کو وہ لوگ پسند نہیں جو انسانی سماج کے اندر بگاڑ پیدا کرنے والے ہوں ( المائدہ ۶۴ )