فساد فی الارض
Al-Risala, November 1989, pp. 17–18
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کا تصور امن یہ ہے کہ زمین کا نظام ابتدائی مرحلہ میں خالق نے جس طرح قائم کیا ہے اس کو ویسا ہی قائم رکھا جائے ۔ اس میں کوئی فرق نہ کیا جائے ۔ اس خدائی بندوبست میں گڑ بڑ کرنا ، اسی کا نام فساد فی الارض ہے ( ہود ۱۱۶ )
اس فساد فی الارض کے دو خاص پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ زمین پر خدا نے تقسیم رزق کا جو نظام بنایا ہے اس میں کوئی فرق پیدا نہ کیا جائے۔ مثلاً ایک دریا جس وسیع رقبہ زمین پر بہتا ہے ، اس رقبہ کے تمام لوگوں کو اس سے فائدہ اٹھانے کا یکساں حق حاصل ہے۔ لوگ بند بنا کر پانی کو اپنے لئے خاص کر لیں اور اسے دوسروں تک پہنچنے نہ دیں تو یہ فساد فی الارض
اسی طرح اگر ایک ملک اپنی صنعتی سرگرمیوں کے ذریعہ ہوا میں گیسوں کے تناسب کو بدل دے اور لوگوں کو سانس لینے کے لئے ضروری مقدار میں آکسیجن نہ ملے تو یہ بھی فساد فی الارض اسی طرح ایسا اقتصادی نظام جو دولت کی گردش کو یک طرفہ کر دے یا اشیاء کی ذخیرہ اندوزی کے نتیجہ میں مصنوعی قلت پیدا ہو جائے، یا جنگی جنون کے نتیجہ میں زمین کی دولت کا بڑا حصہ انسانی تعمیر کے بجائے انسانی تخریب میں استعمال ہونے لگے ، تو یہ سب فساد فی الارض