Al-Risala · November 1989

عالمی نمونۂ عمل

Al-Risala, November 1989, pp. 18–19

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسانی دنیا کے نظام کو طبیعی دنیا کے نظام کے مطابق ہو نا طبیعی دنیا کا نظام براہ راست خدا کا مقرر کیا ہوا ہے ۔ وہ ربانی معیار پر قائم ہے۔ دوسری طرف انسانی دنیا کا نظام خود انسان اپنے ارادہ سے قائم کرتا ہے۔ یہاں انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنی زندگی کے نظام کو طبیعی دنیا کے نمونہ پر قائم کرے ۔ طبیعی دنیا کے نمونہ کی پیروی کا نام اصلاح ہے اور اس سے انحراف کا نام فساد ۔ اس کی ایک مثال ستاروں کا نظام ہے۔ بے شمار تارے ہیں۔ وہ سب کے سب حرکت کر رہے ہیں ۔ مگر یہ تمام ستارے ہمیشہ اپنے مدار پر حرکت کرتے ہیں ۔ وہ اپنے دائرہ سے نکل کر دوسرے دائرہ میں داخل نہیں ہوتے۔ بات ہے جو قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے کہ اور سورج ، وہ اپنی ٹھہری ہوئی راہ پر چلتا یہ عزیز و علیم کا باندھا ہوا اندازہ ہے۔ اور چاند کے لئے ہم نے منزلیں مقرر کر دی ہیں ، یہاں تک کہ وہ ایسا رہ جاتا ہے جیسے کھجور کی پرانی شاخ نہ سورج کے بس میں ہے کہ وہ چاند کو پکڑلے اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے۔ اور سب ایک ایک دائرہ میں تیر رہے ہیں ۔ (۳۸-۲۰ : ۳۶)

خلا میں لا تعداد چھوٹے بڑے ستارے ہیں۔ مگر ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مدار (Orbit) پر گھومتا ہے۔ کوئی ستارہ دوسرے ستارہ کی حد میں مداخلت نہیں کرتا۔ یہ گویا خدا کی طرف سے مقرر کیا ہوا ایک نمونہ عمل (Role-model) ہے ۔ انسان کو چاہئے کہ وہ بھی اسی نمونہ پر عمل کرے ۔ ایک انسان دوسرے انسان کی زندگی میں دخل اندازی کئے بغیر اپنی پوری زندگی

کا سفر جاری رکھے۔

یہی وہ بات ہے جو حدیث میں اس طرح کہی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے میری طرف وحی کی ہے کہ تم لوگ تواضع اختیار کرو۔ یہاں تک کہ ایک شخص دوسرے شخص پر فخر نہ کرے، اور ایک شخص دوسرے شخص پر زیادتی نہ کرے (ان الله اوحى الى ان تواضعوا حتى لا يفخر احد على احد ولا يبغى احد على احد، مشكوة المصابيح الجزء الثالث، صفحه ۱۳۷۳)

Printed page