Al-Risala · November 1989

جبر و اکراہ نہیں

Al-Risala, November 1989, pp. 19–20

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں اجتماعی زندگی کے بارہ میں جو احکام دئے گئے ہیں، ان میں سے ایک اہم حکم عدم اکراہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی کسی پر جبر نہ کرے، کوئی کسی کو اس کی ناپسندیدہ چیز کو اختیار کرنے پر مجبور نہ کرے۔ قرآن میں اس سلسلہ میں بنیادی اصول کے طور پر کہا گیا ہے کہ: لا اكراه في الدين (دین کے معاملہ میں زبردستی نہیں)

اکراہ نہ کرنے کا یہ اصول یک طرفہ نہیں ہے بلکہ دو طرفہ ہے۔ یہی اصول داعی کے لئے ہے، اور یہی اصول مدعو کے لئے۔ اسی اصول کی پابندی ہر انسان کو کرنی ہے، خواہ وہ ایک مذہب یا نظام سے تعلق رکھتا ہو یا دوسرے مذہب اور نظام سے۔ اس کی تائید میں یہاں دو مثالیں قرآن سے نقل کی جاتی ہیں۔

قرآن میں ایک پیغمبر (حضرت شعیب) کی دعوتی مہم کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ان کی قوم نے ان کی دعوت کے جواب میں کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔ ارشاد ہوا ہے کہ ان کی قوم کے بڑے، جو متکبر تھے، انھوں نے کہا کہ اے شعیب، ہم تم کو اور ان لوگوں کو جو تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں، اپنی بستی سے نکال دیں گے، یا تم ہماری ملت میں واپس آجاؤ۔ شعیب نے کہا، کیا ہم اس کو ناپسند کرتے ہوں تب بھی (الاعراف ۸۸)

پیغمبر کا یہ جواب بتاتا ہے کہ پیغمبر نے اصولاً اس کو درست نہیں قرار دیا کہ ان کی قوم کے لوگ انھیں اپنے دین (شرک) کو اختیار کرنے پر مجبور کریں۔ پیغمبر اپنی قوم کو یہ حق دینے کے لئے تیار تھا کہ وہ اس کے سامنے اپنا دین پیش کریں، جس طرح خود پیغمبر اپنا دین ان کے سامنے

پیش کر رہا تھا۔ مگر وہ انھیں یہ حق دینے کے لئے تیار نہ تھا کہ وہ تبلیغ" سے تجاوز کر کے" اکراہ" کے دائرہ میں داخل ہو جائیں ۔ وہ کہنے سننے سے آگے بڑھ کر ان پر جبر کرنے لگیں ۔ اس معاملہ کا دوسرا پہلو وہ ہے جو حضرت نوح کے تذکرہ کے ذیل میں بیان ہوا ہے۔ حضرت نوح نے اپنی قوم کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی۔ قوم کے بڑوں نے آپ کی دعوت کو ملنے سے انکار کیا۔ اس کے بعد حضرت نوح نے کہا کہ اے میری قوم، بتاؤ، اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہوں ۔ اور اس نے مجھ پر اپنے پاس سے رحمت بھیجی ہے ، مگر وہ تم کو نظر نہیں آتی تو کیا ہم تم کو اس پر مجبور کر سکتے ہیں، جب کہ تم اس کو ناپسند کر رہے ہو (ہود (۲۸) پیغمبر کا یہ جواب جو قرآن میں نقل کیا گیا ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اگرچہ اپنے آپ کو صد فی صد پر حق سمجھتا تھا، اس کے باوجود اس کے نزدیک یہ درست نہ تھا کہ وہ دوسروں کو اپنی بات ماننے پر مجبور کرے۔

قرآن کے مطابق اکراہ (مجبور کرنا) ہر حال میں قابل ترک ہے۔ نہ داعی اور مصلح کو یہ حق ہے کہ وہ مدعو کو اپنی بات ماننے پر مجبور کرے اور نہ مدعو یہ حق رکھتا ہے کہ وہ داعی کو اپنے جبر کا دونوں فریقوں کے لئے ایک ہی صحیح پالیسی ہے اور وہ رواداری (Tolerance) یعنی دونوں کو اپنی بات کے اظہار کا پورا حق ہے۔ مگر دونوں میں سے کسی کو بھی جبر کا کوئی حق کوئی شخص اپنی بات کو منوانے کے لئے اول و آخر جو چیز استعمال کر سکتا ہے وہ دلیل ہے نہ کہ عملی جبر یا دباؤ۔

Printed page