جنگ برائے دفاع
Al-Risala, November 1989, pp. 20–22
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام میں جنگ کی صرف ایک قسم ہے، اور وہ دفاع (Defence) ہے۔ جنگ کسی بھی حال میں اسلام کے اندر جائز نہیں۔ قرآن میں ہے کہ۔ وہ لوگ کہ جب ان پر چڑھائی ہوتی ہے تو وہ بدلہ لیتے ہیں ۔ اور برائی کا بدلہ ہے ویسی ہی برائی ۔ پھر جس نے معاف کر دیا اور اصلاح کی تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ بیشک وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ اور جو شخص اپنے مظلوم ہونے کے بعد بدلہ لے تو ایسے لوگوں کے اوپر کچھ الزام نہیں۔ الزام صرف ان پر ہے جو لوگوں کے اوپر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے لئے درد ناک
اور جس شخص نے صبر کیا اور معاف کر دیا تو بے شک یہ ہمت کے کام ہیں الشوری ۳۹ اسلام میں جنگ کی حیثیت ایک ناگزیر بُرائی (Necessary evil) کی ہے۔ کی طرف سے جارحیت پیش آنے کے بعد بھی اگر صبر اور اعراض اور گفت و شنید کے ذریعہ امن قائم کرنے کی امید ہو تو جنگ کے بدلے جنگ نہیں کی جائے گی۔ بلکہ صبر و اعراض اور گفت و شنید کے ذریعہ منصفانہ حل تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔ اسلام میں جنگ صرف اُس وقت ہے جب کہ جنگ کے سوا کوئی اور چارہ کار سرے سے باقی نہ رہے۔
پیغمبر اسلام کے زمانہ میں آپ کے خلاف ہر قسم کی جارحیت کی گئی۔ مگر آپ نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ جنگ کو اوائڈ (Avoid) کریں۔ آپ کی پوری قولی اور عملی زندگی اسی اصولِ اعراض (Principle of avoidance) کا نمونہ ہے۔
مثلاً احد یہ (۶ھ) کے سفر میں خالد بن الولید ایک فوج لے کر آپ سے لڑنے کے لئے مکہ سے روانہ ہوئے۔ جب آپ کو یہ خبر معلوم ہوئی تو آپ نے اپنے ساتھیوں کو جوابی تیاری کا حکم نہیں دیا بلکہ سادہ طور پر اپنا راستہ بدل دیا تاکہ دونوں فریقوں کے درمیان ٹکراؤ کی نوبت ہی نہ آئے۔ اِسی طرح غزوہ احزاب (۵ھ) کے موقع پر آپ کے مخالفین بہت بڑا لشکر لے کر آئے تاکہ مدینہ پر حملہ کریں۔ آپ کو دشمن کی روانگی کی خبر ملی تو یہاں بھی آپ نے جوابی مقا بلہ کا اہتمام نہیں کیا۔ اس کے برعکس آپ نے یہ کیا کہ مدینہ کی سرحدوں پر لمبی خندق کھود دی تاکہ آپ کے اور آپ کے دشمنوں کے درمیان ایک آڑ قائم ہو جائے اور دونوں فریقوں کے درمیان جنگ کی نوبت نہ آئے۔ حدیبیہ (۶ھ) کے موقع پر آپ کے حریف قریش آپ سے لڑنے کے لئے تیار تھے۔ اس مقصد کے لئے انھوں نے ہر قسم کی اشتعال انگیزی اور جارحیت کی۔ مگر آپ سب کچھ یک طرفہ طور پر برداشت کرتے رہے اور قریش پر کوئی جوابی حملہ نہیں کیا۔ آخر میں آپ نے خود قریش کی یک طرفہ شرائط کے تحت دس سالہ نا جنگ معاہدہ پر دستخط کر دیئے۔ پیغمبر کا اسوہ پیغمبر اسلام ۶۳ سال تک دنیا میں رہے۔ آپ کی پیغمبرانہ عمر ۲۳ سال تھی۔ اس مدت میں
آپ کے خلاف مسلسل طور پر بدترین قسم کی اشتعال انگیزی اور جارحیت کی گئی۔ مگر اس پوری مدت میں آپ نے ایک بار بھی اپنے مخالفین کے اوپر جارحانہ حملہ نہیں کیا۔ آپ نے اپنی پوری زندگی میں براہ راست طور پر صرف تین بار جنگ کی ہے، اور یہ تینوں جنگیں یقینی طور پر مدافعانہ بدر (۲ھ) احد (۳ھ) اور حنین (۸ھ) صرف یہی نہیں جنگیں ہیں جن میں آپ نے براہ راست شرکت فرمائی۔ مگر یہ تینوں جنگیں وہ تھیں جن میں خود آپ کے مخالفین آپ کے اوپر حملہ آور ہوئے تھے۔ چوں کہ ان تینوں مواقع پر مدافعت کے سوا اور کوئی صورت نہ تھی اس لئے آپ نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ان کا مقابلہ کیا۔
اسلام میں امن ہے مگر جنگ نہیں، ،اسلام میں مدافعت ہے مگر جارحیت نہیں۔ میں رواداری ہے مگرتشدد نہیں۔ اسلام انسان کو دارالسلام (سلامتی کے گھر) کی طرف لے جانا چاہتا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی : واللہ يدعوا الى دارالسلام (یونس (۲۵) فطرت کے مطابق ماسکو سے نکلنے والے انگریزی ماہنامہ اسپٹنک (Sputnik) کے شمارہ نومبر ۱۹۸۶ میں ایک مضمون چھپا ہے۔ اس میں ایک چھوٹے سے واقعہ کا ذکر ہے جو بہت سبق آموز ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ سوویت یونین کے سابق پریذیڈنٹ یوری اینڈروپوف (Yuri Andropove) ۱۹۸۳ میں امریکہ گئے۔ جب وہ وہاں ائیر پورٹ پر اترے تو ان کا استقبال کرنے والوں میں ۱۱ سال کی ایک امریکی لڑکی بھی تھی۔ اس کا نام سمنٹھا اسمّتھ (Samantha Smith) وہ اپنے والدین کے ساتھ ائیر پورٹ پر پہنچی تھی۔ وہ روسی صدر سے ملی اور اپنے معصومانہ انداز میں ان سے کہا کہ آپ جنگ چاہتے ہیں یا امن !