Al-Risala · November 1989

Are you for war or peace?

Al-Risala, November 1989, pp. 22–23

By Maulana Wahiduddin Khan

روسی صدر پر چھوٹی بچی کے اس سادہ جملہ کا بہت اثر ہوا۔ واپس لوٹنے کے بعد بھی وہ اس کو بھلا نہ سکے۔ جلد ہی بعد سمنٹھا اسمّتھ کو روسی صدر کا ایک خط ملا جس میں اس کو حکومت روس کے مہمان کی حیثیت سے سوویت روس کا سفر کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ اس کے مطابق جون ۱۹۸۳ میں سمنٹھا اسمّتھ نے سوویت روس کا سفر کیا۔ سوویت روس کے دو ہفتہ دورہ کے بعد سمنٹھا اسمّتھ

نے اپنا تاثر بیان کرتے ہوئے کہا کہ اب میں مطمئن ہوں کہ روسی جنگ نہیں چاہتے : Now I'm sure—the Russians don't want war. یہ چھوٹا سا واقعہ اپنے اندر ایک زبردست سبق رکھتا ہے۔ وہ بتاتا ہے انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے امن چاہتا ہے۔ ۱۱ سال کی ایک بچی جو ابھی اپنی ابتدائی فطرت پر تھی۔ ابھی مصنوعی تمدن کے اثرات سے آزاد تھی ، اس کا مذکورہ سوال در حقیقت فطرت کا سوال اس کی فطرت ایک ایسی دنیا سے مطابقت نہیں کر پا رہی تھی جہاں جنگ کے نعرے ہوں، جہاں گولی کی منطق سے معاملات کا فیصلہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہو۔ جہاں انسان اپنے جان ومال کو محفوظ نہ پاتا ہو۔ اسی نفسیات کے تحت اس نے روسی صدر سے مذکورہ سوال کیا۔ اسلام در حقیقت انسانی فطرت کی اسی پکار کا جواب ہے۔ جس خدا نے انسان کے اندر امن پسند فطرت بنائی ہے ، اسی خدا نے دین اسلام بھی اتارا ہے جو سرا سر امن و سلامتی کا مذہب ہے۔ اسی حقیقت کو قرآن میں ان لفظوں میں بتایا گیا ہے کہ اللہ امن و سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔

خدا یہ چاہتا ہے کہ انسان دنیا میں امن و سلامتی کے ساتھ زندگی گزارے، تاکہ آخرت میں اس کو ابدی امن و سلامتی کے باغوں میں بسایا جائے ۔ آخرت کی پر امن دنیا انھیں لوگوں کے لئے ہے جنہوں نے موجودہ دنیا میں پر امن رہنے کا ثبوت دیا ہو۔ کسی مومن کے لئے یہ سب سے بڑا محرک ہے جو اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ موجودہ دنیا میں لوگوں کے ساتھ پر امن بن کر وہ دوسروں کے لئے مسئلہ پیدا کئے بغیر اپنا مسئلہ حل کرنے ۔ حیدرآباد میں رسالہ اور اسلامی مرکز کی کتابوں کے لیے مذکورہ ذیل پتے پر رابطہ قائم کریں:

3-5-780/19/2, King Kothi Opposite: Azam Manzil HYDERABAD 500 039

Printed page