Al-Risala · November 1989

ایک سفر

Al-Risala, November 1989, pp. 31–36

By Maulana Wahiduddin Khan

شیو گنج ، راجستھان کا ایک تاریخی قصبہ ہے۔ یہاں کے لئے میرا پہلا سفر غالباً ۱۹۷۶ء میں ہوا اس کی رو داد لکھی جاسکی۔ دوسرا سفر فروری ۱۹۷۸ء میں ہوا۔ اس سفر کی رو داد الرساله اپریل ۱۹۷۸ء میں شائع ہو چکی ہے۔

پہلے سفر کا ایک واقعہ مجھے اب تک یاد ہے۔ میں نے وہاں اپنے میزبان سے کہا کہ میں بالکل سادہ کھانا پسند کرتا ہوں۔ اس کے بعد جب دستر خوان بچھایا گیا تو حسب معمول تمام دعوتی کھانے موجود تھے. اسی کے ساتھ دستر خوان کے ایک طرف میرے لئے ” سادہ کھانا “ بھی رکھا ہوا تھا۔ یہ دیکھ کر میں نے میزبان سے کہا کہ یہ تو میں نے آپ کو دو ہر ازحمت دے دی۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے ساتھ دوسرے لوگ جو دستر خوان پر ہیں ان کی رعایت کی بنا پر ایسا کیا گیا ہے۔ اس طرح کے چند تجربات کے بعد میں نے اپنا یہ معمول بنا لیا کہ سفر کے موقع پر سادہ کھانے کے بارے میں اپنی پسند کا ذکر نہ کروں ۔ اس کے بجائے اب میں ایسا کرتا ہوں کہ دستر خوان پر جب چیزیں رکھی جائیں ، تو ان میں جو چیز نسبتاً سادہ ہو اس کو لے کر خاموشی سے اسے کھالوں۔ حالت میں سادہ کھانے کی فرمائش کرنا میزبان کو دہرامشقت میں مبتلا کرنا ہے۔ شیو گنج کے لئے میرا تیسرا سفر موجودہ سفر ہے جو جولائی ۱۹۸۹ کے آخری ہفتہ میں ہوا۔ سفر میں راجستھان کے کئی مقامات دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اور بہت سے مقامات کے لوگوں سے ملاقاتیں اس طرح اس سفر کے دوران تقریباً پورے راجستھان کے بارہ میں معلومات حاصل کرنے کا موقع ملا۔

۲۷ جولائی ۱۹۸۹ کی شام کو دہلی سے روانگی ہوئی ” آشر م سپر فاسٹ ایکسپریس ۴ بج کر ۱۰ منٹ پر پلیٹ فارم نمبرے اسے روانہ ہوگی اسٹیشن کے لاؤڈ اسپیکر سے اعلان ہوا۔ گھڑی کی ایک سوئی ۶ پر تھی اور دوسری سوئی . اپر ، حر کت شروع ہوئی اور گاڑی چلنے لگی۔ اب جو سوار نہ تھا وہ اتر نہیں سکتا تھا، اور جو سوار نہیں تھا وہ چڑھ نہیں سکتا تھا۔ یہی وسیع تر زندگی کا معاملہ ہے۔ کبھی ایک شخص پیچھے لوٹنا چاہتا ہے، مگر وہ لوٹ نہیں سکتا۔

کیوں کہ زمانہ کی رفتار آگے جاچکی۔ اسی طرح کبھی ایک شخص آگے جانا چاہتا ہے، مگر وہ نہیں جاسکتا، کیوں کہ وہ زمانہ سے پیچھے رہ گیا۔

گاڑی تیزی کے ساتھ لوہے کی پٹری پر دوڑا رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ یہ پٹریاں اگر مٹی کی ہوں، کیا تب بھی گاڑی اسی طرح دوڑے گی ۔ دل نے کہا کہ نہیں۔ پھر میری نظر دونوں طرف پھیلے ہوئے سرسبز درختوں کی طرف گئی۔ میں نے سوچا کہ ان درختوں کی جڑوں میں اگر مٹی کے بجائے لوہا ہو، تب بھی کیا یہ درخت اسی طرح ہرے بھرے ہو کر کھڑے رہیں گے۔ دل نے دوبارہ کہا کہ نہیں۔ گاڑی مٹی پر نہیں چل درخت لوہے پر نہیں اگ سکتا۔

یہ اس دنیا کے لئے خدا کا قانون ہے۔ یہاں وہی شخص اپنی گاڑی تیز دوڑ سکتا ہے جس نے اس کے نیچے لوہے کی پٹریاں بچھائی ہوں۔ اسی طرح یہاں وہی شخص ہرے بھرے باغ کا مالک بن سکتا ہے جس نے اپنے درخت کو نرم مٹی میں اگایا ہو۔ اس دنیا میں ہر چیز کا ایک قانون ہے۔ یہاں وہی شخص کسی چیز کو پاتا ہے جس نے اس کے لئے مخصوص قانون کے مطابق اس کو پانے کی کوشش کی۔ ٹرین تیزی کے ساتھ دہلی سے راجستھان کی طرف دوڑ رہی تھی۔ میں نے کھڑکی سے باہر کی طرف دیکھا تو سورج افق کے نیچے جارہا تھا تاکہ کچھ دیر کے بعد غروب ہو جائے۔ بظاہر یہ دونوں الگ الگ مگر حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایک تھے۔ دونوں خود ٹرین کے دو سفروں کو بتا رہے ٹرین اپنے انجن کے زور پر دہلی سے راجستھان کی طرف دوڑ رہی تھی۔ دوسری طرف زمین کی گردش کے تحت اس کا دوسرا سفر جاری تھا۔ یہ سفر اس کو دن سے رات کی طرف لے جارہا تھا۔ ٹرین ایک اعتبار سے دہلی سے راجستھان کی طرف جارہی تھی اور دوسرے اعتبار سے دن سے رات کی طرف۔

اس دنیا میں آدمی کا ایک سفر وہ ہے جو وہ اپنے ارادہ سے کرتا ہے۔ دوسرا سفر وہ ہے جو قضا و قدر کے حکم کے تحت جاری ہے۔ اسی سے جبر و قدر کے معاملہ کو سمجھا جاسکتا ہے۔ اس دنیا میں آدمی جبر و اختیار کے درمیان ہے۔ ایک اعتبار سے وہ آزاد ہے کہ وہ جدھر چاہے چلا جائے۔ دوسرے اعتبار سے

خاں کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ۔ وہ ایک بھاری گاڑی کے نیچے آگئے ۔ ان کو سخت زخم آئے اور ان کے دائیں پاؤں کی ایک ہڈی ٹوٹ گئی ۔ بوقتِ سفروہ ولنگڈن نرسنگ ہوم (کمرہ نمبر ۳۸) میں داخل اس حادثہ کی تفصیل بڑی درد انگیز اور غم انگیز ہے۔ خلاصہ یہ کہ میں نہایت دل شکستہ حالت میں دہلی سے روانہ ہوا۔ رات کے وقت ٹرین میں سویا تو نیند نہیں آرہی تھی ۔ تین گھنٹہ تک اپنی برتھ پر کروٹیں بدلتا رہا ۔ اس کے بعد چھپکی کے ساتھ ایک نیند آئی ۔ اسی حالت میں خواب دیکھا کہ ظفر الاسلام کرتا اور پائجامہ پہ ہوئے ہیں اور بالکل نارمل انداز میں چلتے ہوئے میری طرف آرہے ہیں ۔

یہ خواب ۲۷ جولائی اور ۲۸ جولائی کی درمیانی رات میں ٹرین کے اندر دیکھا ۔ میں نے اللہ کی طرف سے بشارت سمجھا ۔ اس کے بعد دل کو سکون آگیا اور پھر جلد ہی نیند آگئی ۔ اسی قسم کا خواب دہلی واپس آنے کے بعد دوبارہ ۸ اگست اور تیسری بار ۱۵ اگست ۱۹۸۹ کو دیکھا ۔ حادثہ کے تین مہینے بعد اب خدا کے فضل سے یہ خواب واقعہ بن چکا ہے ۔ اس دنیا میں حادثات بھی ہیں ، اور اسی کے ساتھ حادثات کی تلافی کے لئے خدا کی طرف سے خصوصی انتظام بھی۔ دہلی کا ایک سہ روزه مسلم اخبار ہے۔ اس کی پیشانی پر قرآن کی ایک آیت کا ترجمہ ان لفظوں میں لکھا ہوا ہوتا ہے : اس شخص سے بہتر کس کی بات ہوسکتی ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں ۔ اس اخبار کے شمارہ ۲۲ جولائی ۱۹۸۹ میں راجستھان کے بارے میں " ایک خصوصی رپورٹ " نقل کی گئی ہے ۔ اس رپورٹ کا پہلا پیراگراف یہ ہے :

" آرایس ایس ، وشو ہندو پریشد اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے مل کر گزشتہ پانچ مہینوں سے پورے راجستھان کو فرقہ پرستی کی آگ میں جھونک دیا ہے ۔

یہ " راجستھان کے سترہ اضلاع میں فسادات کی سازش " کے بارہ میں ایک مفصل رپورٹ اس کو پڑھنے کے بعد جب میں ۲۷ جولائی کی شام کو راجستھان جانے کے لئے آٹوم اکسپریس پر سوار ہوا تو میں نے سمجھا کہ میں ایک ایسی دنیا میں جارہا ہوں جہاں ہر طرف آگ کے شعلے مجھے جھلسانے کے لئے بھڑک رہے ہوں گے ۔ مگر عجیب بات ہے کہ اردو اخبار کا یہ راجستھان سفر میں نظر نہ آیا ۔

توریاست میں ہر طرف برسات کی ہوائیں چلتی ہوئی نظر آئیں۔ اخبارات (خاص طور پر اردو اور ہندی کے اخبارات) آگ کا کارخانہ ہیں۔ وہ اس تلاش میں رہتے ہیں کہ کہیں کوئی چنگاری ہو تو اس کو بھڑکا کر آتش فشاں بنا دیں۔ جب کہ اللہ یہ چاہتا ہے کہ ٹھنڈی ہوائیں بھیج کر آگ کو بجھا دے۔ میں جس ڈبے میں تھا، اس میں بظاہر میرے ایک مسافر کے سوا سب ہندو تھے۔ اس ڈبے میں دو وقت کی نماز پڑھی۔ مغرب اور عشاء کی۔ لوگوں نے بہت احترام کے ساتھ نماز کے لئے جگہ خالی کردی۔ شام کو کھانے کا وقت آیا تو ایک ہندو ہم سفر نے کھانا پیش کیا جس کو میں قبول نہ کرسکا۔ دن کے وقت میں کھڑکی کے پاس بیٹھنا چاہتا تھا۔ وہاں ایک لڑکا بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے ہندو باپ نے بطور خود محسوس کر کے وہاں سے اپنے لڑکے کو ہٹا دیا اور کہا کہ آپ یہاں بیٹھیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ فساد ایک استثناء ہے نہ کہ عمومی واقعہ ۔ مگر صحافی اور لیڈر صرف انھیں استثنائی واقعات کو نمایاں کرتے ہیں۔ وہ استثنائی حالت کو عمومی حالت بناتے ہیں۔ وہ "جذرار جستان" کو پورا راجستھان بنا دیتے ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے اخبارات کا نام دعوت اور نشین رکھا ہے۔ کے بجائے اگر وہ اپنے اخبار کا نام عداوت اور خرافات رکھتے تو کم از کم سچ بولتے بمکا کر یڈٹ انھیں موجودہ حالت میں تو انھیں کوئی بھی کریڈیٹ ملنے والا نہیں۔

اس مفصل رپورٹ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ " فرقہ پرست تنظیمیں اپنے مقاصد میں کامیاب ہورہی ہیں اور فرقہ وارانہ صورت حال روز بروز بھیانک ہوتی جارہی ہے۔ سے ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ قسم کی رپورٹیں اور سازشوں کا انکشاف اور ایڈمنسٹریشن کے ننگے پن کا اعلان اور اجتماعی بیانات کا طریقہ سراسر ناکام ہو چکا ہے۔ اب ہمیں کچھ اور سوچنا ہے۔ رپورٹ میں اس ”کچھ اور“ کے لئے اشاراتی رہنمائی موجود ہے۔ مثال کے طور پر اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھلواتڑہ ضلع کے بیگور قصبہ میں ۳۰ مارچ کو فساد کی آگ بھڑ کی۔ شیتل اشٹمی کے دن جلوس اپنے روایتی راستہ سے ماکرو والی مسجد کے سامنے سے گزر رہا تھا۔ تبھی جلوس کے کسی نے مسجد میں گلال پھینک دیا۔ جس کے جواب میں مسجد کے اندر سے پتھراؤ کیا گیا۔ ۲۱ آدمیوں کو چوٹیں پولیس کے ۴۰ جوان بھی زخمی ہوئے۔ حالات کو قابو میں کرنے کے لئے پولیس نے آنسو گیس پھر لاٹھی چارج کیا۔ اور ہوائی فائرنگ بھی کی۔ تب جاکر بھیڑ منتشر ہوئی۔ اتنے میں شہریوں

کے محلہ سے کچھ لوگ راماکوٹ بازار میں جا گھسے و آٹھ دکانوں کو آگ لگادی۔ پانچ مکانوں کو بھی پھونک ۲۰ منٹ تک یہ تباہی اور بربادی بلا روک ٹوک چلتی رہی۔ اس واقعہ کی روشنی میں فساد کے مسئلہ کا حل یہ ہے کہ " گلال" پھینکنے پرمشتعل ہونے والے لوگ مشتعل نہ ہوں اور روہ مسجد سے پتھر پھینکنے کی دوسری غلطی نہ کریں۔ اس کے بعد فساد اپنے پہلے ہی مرحلہ میں ختم ہو جائے گا۔ مگر دوسری غلطی فساد کو بڑھادیتی ہے، وہ ایک معمولی واقعہ کو بھیانک حادثہ بنا دیتی ہے۔

راجستھان (قدیم نام راجپوتانہ) کا مطلب ہے راجاؤں کی سرزمین ۔ آزادی (۱۹۴۷) سے قبل یہاں چھوٹی بڑی ۲۶ ریاستیں تھیں۔ یہ سب راجپوت تھے جو ہمیشہ سے نہایت بہادر قوم رہے مغل حکمرانوں کے لئے سب سے بڑا فوجی چیلنج راجپوتوں ہی کی طرف سے تھا۔ اکبر نے اس مسئلہ کے حل کے لئے مصلحت کا انداز اختیار کیا۔ اس کی بعض غیر ضروری حماقتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے راجپوتوں کے سلسلہ میں اس کی پالیسی مفید رہی۔ اس نے راجپوتوں کو اس حد تک اپنے ساتھ لے لیا کہ واحد قابل ذکر راجپوت باغی مہارانا پرتاپ سنگھ کا مقابلہ کرنے کے لئے اکبر کو جو بہترین جنرل ملا وہ راجہ مان سنگھ تھا جو خود بھی ایک بہادر راجپوت تھا۔

آزادی سے قبل ہندوستان میں بہت سے راجہ، نواب تھے۔ ان کی ریاستوں کی تعداد ۶۰۱ تک پہنچ گئی تھی۔ ان میں بڑی ریاستیں یہ تھیں: حیدر آباد، کشمیر، میسور، ٹراونکور، بڑودہ، گوالیار، اندور، کوچن، جے پور، جودھپور، بیکانیر، بھوپال اور پٹیالہ۔ راجستھان کی قدیم ریاست جودھپور کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ جودھپور کی تاریخ سے واقف تھے۔ ان سے جو باتیں ہوئیں، اس کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔ جودھپور کی بنیاد راجہ راؤ جودھل نے ۱۴۵۹ء میں ڈالی تھی۔ انھیں کے نام پر اس کا نام جودھا پور پڑا جو بعد کو جودھپور ہوگیا ۔ آزادی سے پہلے یہ ایک راجپوت ریاست تھی ۔ یونیورسٹی ۱۹۶۲ میں قائم ہوئی۔ جودھپور ضلع کا شمالی اور شمال مغربی حصہ صحرا ہے۔ اس ضلع میں صرف ایک ندی ہے جو لونی کہلاتی ہے۔ اگر آپ شہر کے کنارے کھڑے ہوں تو ایک طرف آپ کو میدانی علاقہ میں شہر کی آبادی پھیلی ہوئی نظر آئے گی۔ دوسری طرف پہاڑی کے اوپر پرانے قلعہ کی عمارتیں دکھائی

دیں گی جو گویا ایک تاریخی مشاہدے کی بلندی پر کھڑے ہو کر نئے شہر کو دیکھ رہی ہیں۔ جودھ پور کے راجہ جسونت سنگھ کی وفات ۱۶۷۸ء میں ہوئی ۔ اس کے بعد ان کے یہاں فروری ۱۶۷۹ء میں ایک لڑکا لاہور میں پیدا ہوا جس کا نام اجیت سنگھ رکھا گیا۔ ایک مورخ نے لکھا ہے کہ جسونت سنگھ کے درباری اجیت سنگھ کو دہی لے گئے اور مغل شہنشاہ اور نگ زیب زیب سے درخواست کی کہ وہ اس لڑکے کو جسونت سنگھ کی جگہ جودھ پور کا راجہ تسلیم کرلے ۔ مگر بادشاہ نے کہا کہ اس کو یہاں چھوڑ دو تاکہ اس کی پرورش ہمارے محل میں ہوسکے ۔ یا ایک اور معاصر بیان کے مطابق جودھ پور کا تخت اجیت سنگھ کو اس شرط پر پیش کیا گیا کہ وہ مسلمان ہو جائے : The emperor offered to bring him up in his harem, or according to another contemporary account "the throne of Jodhpur was offered to Ajit on condition of his turning a Muslim."

Printed page