An Advanced history of India, p. 495.
Al-Risala, November 1989, pp. 36–44
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک اور روایت اس سے بھی آگے جاتی ہے۔ اس کے مطابق مغل حکمراں اور نگ زیب نے ۱۶۷۹ء میں مارواڑ کو فتح کیا ۔ اس نے حکم دیا کہ اس کے باشندے اسلام قبول کر لیں ۔ کے جواب میں جودھ پور، جے پور اور اور دے پور کے راجہ متحد ہو گئے اور مسلم جوئے کو اپنے اوپر سے اتار پھینکا :
The Mughal emperor Aurangzeb invaded and plundered Marwar in 1679, ordering the conversion of its inhabitants to Islam. In reply, the princely states of Jodhpur, Jaipur, and Udaipur formed an alliance and threw off the Muslim yoke. یہ دونوں روایتیں بالکل بے بنیاد ہیں ۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ اورنگ کے زمانے میں جسونت سنگھ راٹھور جودھ پور کا راجہ تھا۔ وہ اورنگ زیب کا معتمد تھا۔ حتیٰ کہ اورنگ زیب نے اس کو کابل اور پشاور کا گورنر بنا دیا۔ یہیں ۱۶۷۸ء میں جسونت سنگھ کی وفات ہوگئی۔ اس کے بعد فروری ۱۶۷۹ء میں اس کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام اس کے گھر والوں نے اجیت سنگھ جودھ پور کے راجپوتوں کی خواہش تھی کہ اورنگ زیب اسی اجیت سنگھ کو جودھ پور کا راجہ مان لے۔ مگر اورنگ زیب نے اس درخواست کو منظور نہیں کیا۔ اس کے بجائے اس نے ناگور
کے رانا اندر سنگھ کو جودھپور کے تخت پر بیٹھا دیا۔ اور نو عمر اجیت سنگھ کی بابت اس نے حکم دیا کہ وہ دہلی میں رہے اور مغل ماحول میں تربیت پائے۔
غالباً راجپوتوں نے سمجھا کہ اورنگ زیب سنگھ کو اپنے یہاں رکھ کر اس کو مسلمان بنانا چاہتا ہے۔ چنانچہ وہ اس کو لے کر دہلی سے بھاگ گئے۔ اس کے بعد انھوں نے اودے پور کے راجہ کے ساتھ مل کر اورنگ زیب کے خلاف بغاوت کر دی۔ حتیٰ کہ خود اورنگ زیب کے لڑکے اکبر کو بھی انھوں نے اس بغاوت میں اپنے ساتھ ملا لیا۔ یہ بے فائدہ لڑائی مختلف صورتوں میں جاری رہی۔ تا ہم اورنگ زیب نے اجیت سنگھ کو جودھپور کا راجہ نہیں مانا۔ کہ ۱۷۰۷ء میں اورنگ زیب کا انتقال ہو گیا۔
اورنگ زیب کے بعد بہادر شاہ اول نے پالیسی بدلی۔ اس نے ۱۷۰۹ء میں اجیت سنگھ کو جودھپور کا راجہ مان لیا۔ مگر یہ بعد از وقت تھا۔ چنانچہ دوبارہ اس کا کوئی فائدہ مغل سلطنت کو حاصل نہ ہو سکا۔
اجیت سنگھ کے معاملہ میں اورنگ زیب کا فیصلہ یقیناً غلط تھا۔ اس کے نتیجہ میں وفادار راجپوت غیر ضروری طور پر مغلوں کے دشمن بن گئے۔ اورنگ زیب کو تقریباً ۵۰ سال حکومت کرنے کا موقع ملا۔ اس کے دور کا بیشتر حصہ لڑائیوں میں گزرا۔ یہ لڑائیاں اس کی بہادری کو ثابت کرتی ہیں۔ مگر یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ان لڑائیوں کا کوئی تعلق دانشمندی سے تھا۔ ہے کہ اورنگ زیب کی اکثر لڑائیاں صرف اس لئے پیش آئیں کہ وہ "شمشیر" کی طاقت کو ضرور جانتا تھا، مگر حکمت اور دانش مندی کی طاقت کی اسے خبر نہیں تھی۔
اورنگ زیب بلاشبہ مغل خاندان کا ایک بہادر بادشاہ تھا۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی واقعہ ہے کہ وہ مغل خاندان کا ایک بے دانش بادشاہ تھا۔ یہ اورنگ زیب ہی ہے جس نے اپنی غیر دانشمندانہ کارروائیوں سے مغل سلطنت کے زوال کے اسباب پیدا کئے۔ ۲۸ جولائی کی صبح کو فلّور ناپہنچا۔ یہاں ٹرین چھوڑ دی اور ساتھیوں کے ہمراہ بذریعہ روڈ سفر کر کے شیو گنج پہنچا۔ شیو گنج میں اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں الرساله مشن کو پھیلانے کا کام سب سے زیادہ مشتاق احمد صاحب نے کیا ہے۔ وہ الرسالہ مشن کے خاموش
کارکن ہیں اور الرسالة اور کتابیں لوگوں کو برابر پہنچاتے رہتے ہیں۔
۲۸ جولائی کو جمعہ کا دن تھا۔ نماز جمعہ سے پہلے شیوگنج کی جامع مسجد میں تقریباً پون گھنٹہ کا خطاب اس کا موضوع یہ حدیث تھی کہ المساجد بیوت المتقین (مسجد متقیوں کا گھر ہے) مختلف پہلوؤں سے اس حدیث رسول کی وضاحت کی گئی۔ اسی دن شام کو ۴ بجے ایک عمومی اجتماع ہوا۔ میں ہندو اور مسلم دونوں فرقوں کے لوگ موجود تھے۔ بستی کے معزز ہندوؤں اور ان کے مذہبی پیشواؤں کی بڑی تعداد شریک تھی۔ تقریر کا موضوع ”قومی ایکتا“ تھا۔ میں نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بتایا کہ ملک میں ایکتا کس طرح قائم کیا جاسکتا ہے۔ ۲۹ جولائی کو جامع مسجد میں نماز عشاء کے بعد ایک خطاب ہوا۔ اس کا موضوع تھا ”ایمان واسلام کی حقیقت“۔
اس کے علاوہ قیام گاہ پر لوگ بڑی تعداد میں برابر آتے رہے۔ اور مجلس کے انداز میں گفت گو اور تفہیم کا سلسلہ جاری رہا۔ شیو گنج کے علاوہ اطراف کی بستیوں سے بھی کچھ لوگ ان مجالس میں شریک ہوئے۔
۲۸ جولائی کو شیو گنج کے اجتماع میں بستی کے جو معزز افراد شریک ہوئے ان میں سے ایک پنڈت کشن لال جی بھی تھے۔
اس سال (۱۹۸۹) شیو گنج میں ایسا ہوا کہ یہاں کے چوک پر جو ہولی کھڑی کی گئی تھی، کسی نے ایک دن پہلے اس میں آگ لگادی۔ یہ بڑا نازک واقعہ تھا۔ چنانچہ بستی میں تناؤ پیدا ہوگیا۔ اندیشہ ہوا کہ کہیں فرقہ وارانہ فساد نہ ہو جائے۔ اس وقت پنڈت کشن لال جی نے ایک اہم تعمیری کام وہ برہمن ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہولی جل گئی تو کیا ہوا۔ میں دوسری ہولی لگا دیتا ہوں۔ چنانچہ لکڑیاں جمع کرکے دوسری ہولی تیار کی گئی۔ اس کے بعد پنڈت جی نے قاعدہ کے مطابق، منتر اس طرح انھوں نے بروقت مداخلت کرکے دوسری ہولی لگوادی۔ اور اس کے بعد فساد کی فضا اپنے آپ ختم ہوگئی۔
۲۹ جولائی کی شام کو شیو گنج کی جامع مسجد میں مغرب کی نماز پڑھ کر باہر نکلا تو مسجد کی سیڑھیوں پر ہندو عورتیں اپنے بچوں کو لئے ہوئے دعا کے لئے کھڑی ہوئی تھیں۔ یہ منظر پہلے سارے ملک کی مسجدوں میں دکھائی دیتا تھا۔ اب وہ بہت کم ہو گیا ہے۔ یہ اس عزت و احترام
کی ایک علامت ہے جو ماضی میں مسلمانوں کے لئے ہندوؤں کے دلوں میں پایا جاتا تھا۔ اس پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ ہندوستان میں مسلم تاریخ کے دو دور ہیں۔ ۱۹۴۷ "سےپہلے کا دور ، دوسرا، ۱۹۴۷ کے بعد کا دور ۔ قدیم دور میں ہمارے معاشرے پر صوفیاء کا موجودہ زمانہ میں ہمارے معاشرے پر لیڈروں کا غلبہ ہے۔ صوفیا محبت کی باتیں کرتے تھے ، اس کے مقابلہ میں لیڈروں کا حال یہ ہے کہ وہ نفرت کی باتیں کرتے ہیں۔ زمانہ میں ہندوؤں کی نظر میں مسلمانوں کی تصویر ایک قابل احترام گروہ کی تھی۔ لیڈروں کے زمانہ میں معاملہ اس کے برعکس ہو گیا ہے۔ اب ہندوؤں کی نظر میں مسلمانوں کی تصویر ایک قابل حقارت گروہ کی ہو گئی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تمام مصیبتوں کے واحد ذمہ دار ان کے نام نہاد لیڈر ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کو حدیث میں الائمۃ المضلون کہا گیا ہے۔ جھوٹی لیڈری نے خود ان کی ذات کو تو یقیناً فائدہ پہنچایا ہے مگر قوم کو صرف بربادی کے گڑھے میں ڈال دیا ہے۔ جس دن مسلمان اپنے ان جھوٹے رہنماؤں سے نجات حاصل کر لیں گے ، اسی دن ان کے مستقبل کی صبح بھی طلوع ہو جائے گی۔
ایک صاحب نے بتایا کہ میرے چار لڑکے ہیں۔ چاروں آپس میں لڑتے رہتے ہیں۔ میں ان کی طرف سے سخت پریشان ہوں۔ میں نے چاروں لڑکوں کو جمع کر کے انھیں سمجھایا۔ ان کی رضا مندی سے ایک تحریر تیار کی۔ اس میں لکھا تھا کہ" ہم چاروں بھائی آج ۲۹ جولائی ۱۹۸۹ کو یہ پکا وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اپنے بڑے بھائی کو اپنا سردار مانیں گے ۔ ساری زندگی ان کے کہے پر چلیں گے ، خواہ ہم کو پسند ہو یا نا پسند " اس تحریر پر چاروں بھائیوں نے دستخط کئے ۔ میں نے کہا کہ اتحاد اس کے بغیر نہیں ہو سکتا کہ ایک شخص کو غیر مشروط طور پر بڑا بنایا جائے۔ پھر ان کو سمجھایا کہ بڑے کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ چھوٹوں کے ساتھ محبت کے ساتھ پیش آئے۔ چھوٹوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے بڑے کا احترام کریں۔ اللہ تعالیٰ ان نوجوانوں کی مدد فرمائے۔ شیو گنج میں ایک صاحب نے اپنے یہاں کھانے پر بلایا ۔ میں نے ان کا نام پوچھا تو انھوں نے بتایاشریف (۲۰ سال)، بتایا ۔ وہ " بارہ وفات " کو پیدا ہوئے تھے ، اس لئے ان کا
نام لغات شریف یا وفات شریف رکھ دیا گیا۔ وہ بہت معمولی پڑھے لکھے تھے۔ وہ الرسالہ جیسی کسی تحریر کا مطالعہ نہیں کرسکتے۔ اور نہ کبھی انھوں نے میرا نام سنا تھا۔ ان کی شخصیت کا اندازہ کرنے کے لئے صرف اتنا لکھنا کافی ہے کہ جب وہ مجھ کو اپنے گھر لے گئے اور دستر خوان پر کھانا رکھا گیا تو انھوں نے مجھ سے کہا کہ "پہلے فاتحہ دے دیجئے"۔ مجھے حیرانی کے عالم میں دیکھ کر میرے ایک ساتھی نے مدد کی۔ انھوں نے ہاتھ اٹھا کر " فاتحہ پڑھا " اور اس کے بعد کھانا شروع ہوا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے ۱۹۴۷ سے پہلے کا زمانہ بھی دیکھا ہے اور ۱۹۴۷ کے بعد کا زمانہ بھی۔ یہ بتائیے کہ آج کے مقابلہ میں پہلے کا زمانہ کیسا تھا۔ انھوں نے راجستھانی زبان میں کہا: " بات چیت اور ڈھنگ اچھا تھو ۔ ہر ایک اجت سے بلاڈنا "۔ انھوں نے بتایا کہ پہلے زمانے میں ہندو مسلم جھگڑے کا کوئی سوال نہیں تھا۔ سب بھائی چارہ کے ساتھ رہتے تھے۔ یہ صرف موجودہ زمانہ کی بات ہے کہ ہر معاملہ میں ہندو مسلم ، ہندو مسلم ہونے لگا ہے۔
میں نے سوچا کہ ۱۹۴۷ سے پہلے جب راجستھان (راجپوتانہ جیسی ہندو ریاست کا یہ حال تھا کہ ہندو مسلمان مل جل کر رہتے تھے۔ ہر ایک دوسرے کو عزت کے ساتھ بلاتا تھا تو وہ " ہندو ہندوستان " کہاں تھا جس کا ہوا کھڑا کر کے تقسیم پسند لیڈروں نے تمام مسلمانوں کو ورغلایا۔ ہندوستان نام نہاد لیڈروں کے اپنے خود ساختہ دماغوں میں تھا۔ چھوٹے چھوٹے معمولی واقعات کو مبالغہ اور تعمیم کے ساتھ پیش کرکے انھوں نے عام مسلمانوں کو بھڑکا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ تمام بگاڑ تقسیم کی سیاست کا نتیجہ ہے۔ مسلم لیڈروں نے دو قومی تحریک ہندو مسلم مسئلہ ختم کرنے کے لئے اٹھائی تھی۔ مگر ان کی نام نہاد تحریک نے ہندو مسلم مسئلہ کو ہزار گنا زیادہ بڑھا دیا۔ شیو گنج قدیم سروہی ریاست کا حصہ تھا۔ اس ریاست کے والی مہاراجہ سر سروپ رام سنگھ تھے۔ وہ بہت نیک نفس آدمی تھے۔ آخر عمر میں انھوں نے اسلام قبول کرلیا۔ ۲۳ جنوری ۱۹۴۶ کو دہلی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ دہلی میں وہ ۲۳ - ۲۶ علی پور روڈ پر رہتے تھے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد مہاراجہ نے اپنا نام محمد عمر رکھا تھا۔
مہاراجہ کی بیوی نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا اور اپنا نام سعید النساء رکھا تھا۔ ان کی ایک ذاتی زمین (۶۰ بیگہہ ) شیو گنج میں تھی۔ اس زمین کو انھوں نے مہاراجہ کی زندگی ہی میں ۱۸ جون
۱۹۴۵ء کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نام وقف کر دیا۔ یہ وصیت نامہ ۸، ۹ روپیہ کے اسٹمپ پر ہے۔ وہ اردو میں ہے اور اس پر سابق جارج پنجم کی تصویر بنی ہوئی ہے ۔
اس وقف نامہ کی فوٹو کاپی میں نے یہاں دیکھی ۔ اس میں درج ہے کہ اس وقف سے سروہی اور راجستھان کے مسلم نوجوانوں ، نیز دوسرے مسلمانوں کی تعلیمی امداد کی جائے ۔ وقف نامہ کے مسودہ میں مزید یہ درج ہے کہ "یونیورسٹی مذکور کو یہ بھی اختیار ہو گا کہ جائداد موقوفہ کے جزء یا کل کو فروخت کر کے اس کے حاصل سے دیگر جائدا دجس مقام پر چاہے خرید لے۔ اور جو جائداد اس طرح خرید کی جائے وہ اس وقف کی متذکرہ مد میں خرچ کی جائے۔
اس موقوفہ جائداد کو میں نے خود دیکھا۔ اس وقت وہ کروڑوں روپیہ کی مالیت رکھتی ہے۔ مگر یہ قیمتی زمین ۴۵ سال سے بالکل بے کار پڑی ہوئی ہے۔ فاصلہ کی وجہ سے یونیورسٹی اگر اس اس کی دیکھ بھال نہیں کر سکتی تو وقف کے مطابق وہ اس کو فروخت کر کے دوسرا موزوں انتظام کر سکتی مگر یونیورسٹی کے ذمہ داران نے اب تک یہ بھی نہیں کیا۔ شاید اندرونی جھگڑوں کی وجہ سے انھیں یہ موقع نہیں کہ وہ یونیورسٹی کے بیرونی مسائل کی طرف توجہ دے سکیں۔ مولانا خدا بخش بلوچ (۳۵ سال، اپنے الفاظ میں، الرسالہ کے شیدائی ہیں ۔ ہر شمارہ کو کئی کئی بار پڑھتے ہیں۔ انھوں نے اپنا ایک ذاتی واقعہ بتایا۔ ہیڈ کوارٹر جنم شتادبی (فروری ۱۹۸۹) کے موقع پر شیو گنج میں ہندو نوجوانوں کا ایک جلوس نکلا۔ وہ چلتا ہوا جامع مسجد کے سامنے پہنچا جس میں مولا نا خدا بخش صاحب امام اور خطیب ہیں۔ جلوس اس وقت مختلف قسم کے اشتعال انگیز نعرے لگا رہا تھا۔ مثلاً "جس کو چاہیے پاکستان، اس کو بھیجو قبرستان" اور "بھارت میں رہنا ہوگا، وندے ماترم کہنا ہوگا" وغیرہ۔
مولانا خدا بخش صاحب اس وقت مسجد میں تھے۔ وہ شور سن کر باہر آئے۔ انھوں نے کسی بھی قسم کا غصہ یا رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ حتیٰ کہ یہ بھی نہیں پوچھا کہ تم لوگ کیا نعرے لگارہے ہو۔ اس کے بجائے انھوں نے یہ کیا کہ مجمع پر نظر ڈالی ۔ چند نوجوان انھیں اپنی پہچان کے نظر آئے ۔ انھوں نے لپک کر ان سے آداب کیا اور مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھا دئے۔ یہ دیکھ کر جلوس کے دوسرے لوگ بھی "مولوی صاحب نمستے، مولوی صاحب نمستے" کرنے لگے۔ مخالفانہ نعرہ بازی موافقانہ ملاقات میں تبدیل ہوگئی۔
ان سے میں نے پوچھا کہ اس پوری کارروائی میں آپ کا کتنا وقت لگا۔ انھوں نے کہا کہ صرف پانچ منٹ۔ مولا ناخدا بخش جب یہاں کی مسجد میں آئے تو ایک شخص سے ان کی دلچسپ گفتگو ہوئی ۔ کی روایت کے مطابق یہ گفتگو حسب ذیل تھی :
" مولانا ، آپ دیوبندی ہیں یا بریلوی "
" بھائی میں تو راجستھانی ہوں "
" نہیں ، میں عقیدہ کی بات کر رہا ہوں "
" عقیدہ کوئی مکانی چیز نہیں۔ اگر مکان کی نسبت سے عقیدہ بنتا تو مکی عقیدہ اور مدنی عقیدہ کہا اس کے بعد گفتگو اپنے آپ ختم ہو گئی۔
میں شیو گنج میں مشتاق احمد صاحب (۵۶ سال) کے ساتھ مقیم تھا۔ انھوں نے بتایا کہ شیو گنج میں ہماری مسجد کی دیوار پر کسی نے ہندی میں نعرے لکھ دئے " ہندو جاگے گا ، دیش جاگے گا " دیش کے لئے جینا سیکھو " وغیرہ۔ ان نعروں پر غصہ کا اظہار کرنے کے بجائے انھوں نے اس کو پانی سے دھو ڈالا۔ اس کے بعد سالانہ موقع پر مسجد میں سفیدی ہوئی اور قصہ ختم ہو گیا ۔ اس دنیا میں ہر برائی کو ختم کیا جاسکتا ہے ، بشرطیکہ آپ کے اندر یہ حوصلہ ہو کہ آپ لوگوں کی سیاہی کے اوپر اپنی طرف سے سفیدی پھیر دیا کریں۔
ایک مجلس میں میں نے کہا کہ اس ملک کے ہندو اور مسلمان آج اپنے اپنے مذہب پر نہیں ہیں بلکہ انگریز کے دئے ہوئے مذہب پر ہیں۔ انگریز نے اپنے مقصد کی خاطر یہاں " لڑاؤ اور حکومت کرو" کی پالیسی چلائی۔ اس نے مذہب کو محبت کے بجائے نفرت کا عنوان بنا دیا۔
میں نے اپنے بچپن میں دیکھا ہے کہ ریلوے اسٹیشنوں پر ہندو پانی اور مسلم پانی کے الگ الگ برتن ہوا کرتے تھے۔ یہ رجحان بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچا کہ ہر معاملہ میں ہند ومسلم، ہندو مسلم کیا مثال کے طور پر کسی اسکول کا نام ہندو اسکول یا کسی کالج کا نام ہندو کالج تھا ، یا وہاں ہندو ٹیچر بچوں کو پڑھاتے تو مسلمان وہاں داخلہ لینا پسند نہیں کرتے تھے۔
اس طرح کی تقسیم سراسر احمقانہ تھی۔ حتیٰ کہ وہ خود سنت رسول کے خلاف تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے نازک سفر کے لئے ایک مشرک عبد اللہ بن ارقط کو اپنا رہنما بنایا۔
کا پہلا مدرسہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قائم ہوا ، اس کے تمام کے تمام طلبہ مشرک بلکہ دشمن اسلام تھے۔ یہ مدرسہ وہ تھا جو مدینہ میں بدر کے مشرک قیدیوں کے ذریعہ قائم کیا گیا۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ صحیح حدیث کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مجھے یونس بن متی پر فضیلت نہ دو (لا تفضلونی علی یونس بن متی)، مگر تمام مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو افضل الانبیاء کہتے ہیں۔ شارحین حدیث نے اس اشکال کے جوابات دئے ہیں لیکن ان سے میری تسلی نہ ہو سکی۔
میں نے کہا کہ دو باتیں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ ایک ہے باعتبار حقیقت کسی پیغمبر کا دوسرے پیغمبروں سے افضل ہونا۔ اور دوسرا ہے، ایک پیغمبر کو دوسرے پیغمبروں پر افضل بتانا۔ حدیث میں افضل ہونے کی تردید نہیں ہے بلکہ افضل بتانے کی تردید ہے۔ علم الہی میں یقیناً پیغمبروں کے درجات ہیں۔ مگر ہمارا کام اتباع رسول ہے نہ کہ تفضیل انبیاء کی بحث چھیڑنا اور اس پر
سمیر پورالی بھی جانے کا اتفاق ہوا۔ کاروبار کے اعتبار سے یہ شیون گنج سے بڑا ہے۔ نے حال ہی میں یہاں بہت بڑی منڈی نئے طرز کی تعمیر کرائی ہے۔ یہ زرعی پیداوار کی منڈی ہے اس کی کشادہ سڑکوں پر جگہ جگہ کبوتروں کے غول بیٹھے ہوئے نظر آئے۔ غلہ اتارتے اور چڑھاتے ہوئے اس کے دانے سڑک پر گرتے ہیں۔ ان کو کھانے کے لئے یہ کبوتر یہاں جمع رہتے ہیں۔ عمل میں اتنے منہمک تھے کہ جب تک ہماری گاڑی کے پہیے ان کے سر تک نہ پہنچ جاتے، وہ وہاں سے نہ اڑتے۔
سمیر پور کی سڑکوں اور بازاروں سے چلتے ہوئے یہی منظر وہاں کے انسانوں کا بھی نظر ہر آدمی انتہائی یکسوئی سے اپنے کاروبار میں مشغول تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس کو کاروبار کے سوا کسی اور چیز کی طرف دیکھنے کی بھی فرصت نہیں ہے۔
میں نے سوچا کہ جب یہ لوگ کاروبار میں اتنا زیادہ منہمک ہیں تو آخر وہ کون ہے جو فرقہ وارانہ دنگے اور فساد کرتا ہے۔ میری سمجھ میں آیا کہ دنگا اور فساد کرنے والے یہ لوگ نہیں ہیں۔ بلکہ یہ دراصل چھوٹے طبقہ کے لوگ ہیں جو دنگا اور فساد کرتے ہیں۔ بقیہ لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ ان کے فرقہ کے
چھوٹے لوگ جب فساد کرتے ہیں تو وہ ان کی مذمت نہیں کرتے ، اس طرح ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ یہ خاموش حوصلہ افزائی فساد کو جاری رکھتی ہے۔ اگر وہ اپنے فرقہ کے فسادیوں کی مذمت کریں تو ان کی حوصلہ شکنی ہو اور فساد کی جڑ کٹ جائے۔
مگر یہاں " ایں گناہ است که در شهر شما نیز کنند " والا معاملہ ہے۔ مسلمانوں کا حال بھی یہی ہے ۔ کہ ان کے " خوش پوش " لوگ خود کبھی فساد میں شریک نہیں ہوتے ۔ جو مسلمان فساد چھیڑتے ہیں یا فساد کے اسباب پیدا کرتے ہیں وہ ہمیشہ مسلمانوں کے نچلے طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ یہاں بھی مسلمانوں کا خوش پوش طبقہ یہی جرم کرتا ہے کہ وہ ان غلط کار مسلمانوں کی مذمت نہیں کرتا۔ مثلاً ایک مقام پر ہندوؤں کے جلوس میں سے کسی شخص نے مسجد کی دیوار پر گلال پھینک دیا تو کچھ مسلمانوں نے جلوس کے اوپر پتھراؤ کیا۔ اس سے فساد برپا ہو گیا۔ ایک مقام پر ایک آدمی دیسی لکڑی کے ساتھ ایک مسلمان ملوث پایا گیا۔ اس کے نتیجہ میں فساد ہو گیا۔ مگر ان مواقع پر مسلمانوں کے نمائندہ طبقہ نے اپنے فرقہ کے غلط کار افراد کی مذمت نہیں کی ۔ وہ یا تو ایڈ منسٹریشن کو برا کہتے رہے یا ہندو فرقہ پرستوں کو۔
یہی صورت حال فساد کی جڑ ہے۔ ہندو اور مسلمان دونوں فرقہ کے اعلیٰ طبقہ کو یہ ڈر رہتا ہے کہ اگر وہ اپنے فرقہ کے غلط کار افراد کی مذمت کریں گے تو وہ اپنی قوم سے کٹ جائیں گے۔ اپنی قوم سے نہ کٹنے کے لئے حق سے کٹ جاتا ہے۔
ایک صاحب نے پالی (راجستھان) کا واقعہ بتایا۔ ایک مسلم نوجوان چوڑی کے اوزار کا کاریگر بننا چاہتا تھا۔ یہ اوزار لوہے کے ہوتے ہیں۔ نوجوان اوزار بنانا سیکھنا چاہتا تھا مگر استاد لوگوں نے اس کی مدد نہیں کی۔ نوجوان پریشان ہوا کہ استاد کے بغیر اوزار بنانا کس طرح سیکھے۔ آخر اس نے منت مانی۔ اس نے کہا کہ اگر مجھ کو اوزار بنانا آ جائے تو میں چاندی کا اوزار بنا کر تعزیہ پر چڑھاؤں گا۔
اس منت کے بعد اس نے کوشش شروع کر دی۔ یہاں تک کہ استاد کے بغیر اس نے اوزار بنانا سیکھ لیا۔ اس نے پہلا اوزار چاندی کا بنا کر اس کو تعزیہ پر چڑھایا۔ یہ دو سال پہلے کا