خاموشی کی طاقت
Al-Risala, February 1989, p. 2
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت عمر فاروق کا ایک بہت با معنی قول ہے۔ آپ نے فرمایا کہ باطل کو مارو اس کی طرف سے چپ رہ کر (اميتوا الباطل بالصمت عنه)
الوعي الاسلامی ، کویت ، جمادی الاولی ۱۴۰۷ھ ، جنوری ۱۹۸۷ء یہ ایک حقیقت ہے کہ بعض اوقات شر اور باطل کے بارہ میں خاموش رہ جانا اور اس کے خلاف کوئی جوابی کارروائی نہ کرنا ہی اس کو ختم کرنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ اس صمت عن الباطل کی مختلف صورتیں ہیں۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ کچھ لوگ محض ذاتی بغض کی بنا پر آپ کے خلاف جھوٹی باتیں پھیلاتے ہیں اور بیہودہ مضامین شائع کرتے ہیں۔ ایسے موقع پر اگر آپ ان کا جواب دیں تو آپ صرف اپنا وقت ضائع کریں گے۔ ایسی باتوں کا بہترین جواب یہ ہے کہ ان کا جواب نہ دیا جائے۔ قدیم مثل ہے کہ " کتے بھونکتے رہتے ہیں ، ہاتھی چلتا رہتا ہے ؛ آپ ہاتھی " والا کردار ادا کیجئے ، انٹر پسندوں کے چھیڑے ہوئے فتنے اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔
ایک شخص آپ کے اوپر کیچڑ پھینکتا ہے۔ آپ کے گھر میں گندگی ڈال دیتا ہے۔ آپ مشتعل ہو کر اس سے لڑنے لگیں تو آپ نے اس کے مقصد کو پورا کیا۔ آپ کی اشتعال انگیز کارروائی اس کو مزید موقع دے گی ۔ وہ اپنے ساتھیوں کو جمع کرکے آپ کے خلاف مکمل فساد برپا کر دے گا۔ لیکن اگر آپ اس کی اشتعال انگیزی پر مشتعل نہ ہوں تو گویا آپ نے اس کے بم کو ناکارہ کر دیا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے وہی بات ایک اور انداز سے فرمائی ہے جس کو قرآن میں اعراض کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اعراض کا مطلب ہے اوائڈ کرنا، نظر انداز کرنا۔ اعراض محض ایک سلبی فعل نہیں وہ ایک ایجابی کارروائی ہے۔ وہ خود ایک طاقت ور عمل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے مواقع ایسے ہیں جہاں نظر انداز کرنا دفع شر کی سب سے زیادہ مؤثر تدبیر جہاں سب سے بڑی کارروائی یہ ہوتی ہے کہ سرے سے کوئی کارروائی نہ کی جائے۔