ترک فاتح
Al-Risala, December 1989, pp. 4–6
By Maulana Wahiduddin Khan
ترکوں نے ۱۴۵۳ء میں قسطنطنیہ فتح کیا جو اب استامبول کہا جاتا ہے۔ یہ مسیحی دنیا کے لیے سب سے زیادہ ہلا دینے والا واقعہ تھا۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ یک یونانی کتبہ میں اس کے بارے میں یہ الفاظ لکھے گئے کہ اس سے زیادہ ہولناک واقعہ نہ کبھی ہوا اور نہ کبھی ہوگا : There has never been and there never will be a more dreadful happening (p. 336). حضرت عثمان کی خلافت (۶۵۶ - کے زمانہ میں مسلمان ترکی میں داخل ہو گئے تھے۔ کے زمانہ میں انہوں نے ترک علاقہ میں مزید پیش قدمی کی۔ مگر اس کا دار السلطنت قسطنطنیہ انتہائی محفوظ جغرافیہ اور بے حد مضبوط قلعہ کی بنا پر اتنا مستحکم تھا کہ بار بار کوشش کے باوجود مسلمان اس کو مسخر نہ کر سکے۔ تسخیر ۸۰۰ سال بعد صرف ۱۴۵۳ء میں ممکن ہوسکی۔
ترکی کا عثمانی سلطان محمد دوم جو محمد فاتح کے نام سے مشہور ہے، وہ پہلا شخص ہے جس نے اس طویل مہم کو کامیاب تک پہنچایا۔ اس نے اس مقصد کے لیے نہایت گہرا منصوبہ بنایا۔ سلطان محمد ۱۴۵۱ میں تخت پر بیٹھا جو اس وقت ادرنہ (Edirne) میں تھا۔ اس نے خاموش اور مسلسل عمل کے ذریعہ تمام ممکن سیاسی اور فوجی تدبیریں اس مقصد کے لیے مہیا کیں۔
۱۴۵۲ء کا پورا سال اس نے باسفورس کے کنارے ایک نیا قلعہ تعمیر کرنے میں صرف کیا جہاں سے جنگی کارروائیوں کو منظم کیا جاسکے۔ یہ قلعہ بعد کو قلعہ رومیل (Rameli Hisari) کے نام سے مشہور ہوا۔ اس نے ۳۱ جنگی جہازوں کا ایک طاقتور بیڑا تیار کر دیا اتاتا کہ سمندر کے راستہ سے موثر حملہ کیا جاسکے۔ نے ہنگری کے ایک استاد اربان (Urban) کو بلا کر اتنی بڑی توپ تیار کرائی جو اس وقت کے یورپ میں ایک نادر چیز تھی۔ یہ توپ سازی بے حد اہم تھی، کیونکہ اسی کے ذریعہ قسطنطنیہ کی مضبوط سنگی فصیل توڑی
اس قسم کی مختلف ضروری تیاریوں کے علاوہ اس نے مزید یہ کیا کہ بوقت جنگ یونان اور ہنگری کو غیر جانب دار رکھنے کے لیے ان سے امن معاہدے کیے جن کی شرائط ایک طرفہ طور پر ان کے مفاد میں تھیں :
یہ عین وہی تدبیر تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدہ حدیبیہ کے وقت اختیار فرمائی، اور جس کے ذریعہ آپ نے مکہ کے قریش کو خیبر کے یہودیوں سے کاٹ دیا تھا۔ اس معاہدہ کے تحت قریش اس کے پابند ہو گئے تھے کہ بوقت جنگ وہ یہود کی مدد نہیں کریں گے۔
ان تمام تیاریوں کے بعد سلطان محمد خاموش نہیں بیٹھا۔ بلکہ اس نے جنگی کارروائی کی کمان براہ راست اپنے ہاتھ میں لے لی۔ پوری مہم کے دوران وہ بذات خود اس میں شریک رہا۔ قسطنطنیہ کی مہم کی تیاری اور اس کی کارروائیوں کی تفصیل بہت لمبی ہے۔ اس کو تاریخ کی کتابوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس زبر دست منصوبہ بندی کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۱۴۵۳ء میں قسطنطنیہ فتح ہو گیا۔ باز نطینی شہنشاہیت کا آخری تاجدار قسطنطین (Constantine XI) جنگ کرتا ہوا شہر کے دروازے پر مارا گیا۔ ترکی میں مسلمانوں کی فتح تکمیل کو پہنچ گئی۔
اس فتح کے بعد ترکی کی راجدھانی ادرنہ (ایڈریا نوبل) کے بجائے قسطنطنیہ قرار پائی اور آج تک وہ وہیں قائم ہے۔ اب اس کا نام استنبول ہے، قسطنطنیہ گیارہ سو سال سے زیادہ مدت تک مسیحی سلطنت کی راجدھانی تھا۔ اس کے بعد وہ مسلم سلطنت کی راجدھانی بنا۔ تقریباً پانچ سو سال تک وہ عظیم عثمانی خلافت کی راجدھانی اور پورے عالم اسلام کی سیاسی طاقت کا مرکز رہا ہے۔ اس کی یہ حیثیت پہلی بار صرف جنگ عظیم اول (۱۸-۱۹۱۴ء) میں ختم ہوئی۔
فتح مکہ (۶۳۰ء) سے لے کر فتح قسطنطنیہ (۱۴۵۳ء) تک اسلامی تاریخ کے تمام بڑے بڑے فاتحانہ واقعات گہری حکمت اور عظیم منصوبہ بندی کے ذریعہ انجام پائے ہیں۔ یہ صرف موجودہ زمانہ کی بات ہے کہ مسلمان تدبیر اور منصوبہ بندی کے بغیر محض جوش وخروش کے ذریعہ کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں، یہی واحد وجہ ہے جس کی بنا پر بالا کوٹ مارچ (۱۸۳۱ء) سے لے کر اجودھیا مارچ (۱۹۸۹ء) تک ان کے تمام اقدامات صرف ناکامی پر ختم ہو رہے ہیں۔
قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يقول : اللهم العن فلانا وفلانا ، اللهم العن الحارث بن هشام اللهم العن سهيل بن عمرو اللهم العن صفوان بن أمية - فنزلت الآية (ليس لك من الأمر شيء او يتوب عليهم او يعذبهم فانهم ظالمون) فتیب عليهم كلهم - وقال احمد حدثنا ابو معاوية المدائنی حدثنا خالد بن الحارث حدثنا محمد بن عجلان عن نافع عن عبد الله أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يدعو على اربعة فانزل الله (ليس لك من الامر شيء) قال وهداهم الله للاسلام (تفسير ابن كثير ، الجزء الاول ، صفحه (۴۰۲)
ترجمه : امام احمد نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ میں) یہ کہتے تھے کہ اے اللہ ، فلاں اور فلاں پر لعنت کر ، اے اللہ حارث بن ہشام پر لعنت کر ، اے اللہ سہیل بن عمرو پر لعنت کر ، اے اللہ ، صفوان بن امیہ پر لعنت کر ، تو قرآن میں یہ آیت اتری کہ تم کو اس معاملہ میں کوئی اختیار اللہ یا ان کو تو بہ کی توفیق دے گا یا ان کو عذاب دے گا ، کیوں کہ وہ ظالم ہیں (آل عمران (۱۲۸) پھر ان سب کو توبہ کی توفیق ملی (اور وہ ایمان لائے امام احمد نے ایک اور روایت اس طرح نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مشرکوں میں سے چار آدمیوں کے خلاف بد دعا کرتے تھے تو اللہ نے یہ آیت اتاری کہ تم کو اس معاملہ میں کوئی اختیار نہیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ اللہ نے ان چاروں آدمیوں کو اسلام کے ذریعہ ہدایت دی ۔
اس حدیث میں جن کافروں اور مشرکوں کا ذکر ہے ، انھوں نے خود قرآن کے بیان کے مطابق " ظلم " کا ارتکاب کیا تھا ۔ ان کی برائی اتنی واضح تھی کہ خود پیغمبر اسلام کی زبان سے ان کے خلاف لعنت اور بد دعا کے کلمات نکلنے لگے۔ اس کے باوجود نہ صرف ایسا ہوا کہ ان کے خلاف لعنت اور بد دعا سے روک دیا گیا بلکہ ان سب کے اندر آخر کار نیا ذہن ابھرا ، اور ان سب نے اسلام قبول کر لیا ۔