چپ کی طاقت
Al-Risala, December 1989, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
پرانا مثل ہے کہ " یک چپ ہزار بلا ٹالتی ہے " یہ بہت با معنی ہے اور طویل انسانی تجربہ پر مبنی حقیقت یہ ہے کہ چپ رہنا بذاتِ خود ایک طاقت ور ہتھیار ہے ، بشرطیکہ اس ہتھیار کو اس کے تمام تقاضوں کے ساتھ استعمال کیا جائے ۔
غالباً 1966ء کی بات ہے ۔ میں لکھنؤ اور شاہ گنج کے درمیان ٹرین سے سفر کر رہا تھا ۔ یہ دہرہ دون ایکسپریس تھی اور میں پرانے نام کے مطابق تھرڈ کلاس اور نئے نام کے مطابق سکنڈ کلاس کے ایک ڈبہ میں پورے ڈبہ میں بظاہر میں اکیلا مسلمان تھا ۔
سفر کے درمیان ایسا ہوا کہ مجھے ٹائلٹ جانے کی ضرورت پیش آئی ۔ میں اپنی سیٹ سے اٹھ کر ڈبہ کے ٹائلٹ کے پاس گیا ۔ میں نے حسب عادت دروازہ آہستگی سے کھولا ۔ مگر دروازہ ذرا سا کھلا تھا کہ اندر سے کپڑے کی صورت دکھائی دی ۔ میں نے فوراً دروازہ بند کر دیا اور واپس آکر اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا ۔ واقعہ یہ تھا کہ ٹائلٹ کے اندر ایک ہندو خاتون موجود تھیں ۔ مگر انھوں نے قاعدہ کے مطابق دروازہ کا بولٹ نہیں لگایا تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ دروازہ کسی مت رد کھل گیا ۔ عورت کا ہندو شوہر میرے قریب کی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا ۔ اس منظر کو دیکھتے ہی وہ بگڑ گیا ۔ اور نفرت سے بھر کر میرے اوپر پل پڑا ۔ وہ جوش میں اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور مجھے بری طرح ڈانٹنا اور برا بھلا کہنا شروع کیا ۔ میں نے کہا کہ دروازہ اندر سے بند نہ تھا اور مجھ کو معلوم نہ تھا کہ اندر کوئی ہے ، ورنہ ہرگز میں دروازہ کھولنے کی کوشش نہ کرتا ۔ مگر میری وضاحت کا ہر لفظ اس کو اور زیادہ برہم کر رہا تھا ۔ حتیٰ کہ بظاہر ایسا معلوم ہوا کہ وہ مجھے کھڑکی کے راستہ سے باہر پھینک دے گا ۔ لمبی بوگی پوری طرح بھری ہوئی تھی ۔ مگر سارے ڈبہ میں کوئی ایک شخص بھی میری حمایت کے لیے نہیں اٹھا ۔ آخر میں میں بالکل خاموش ہو گیا ۔ میں مذکورہ شخص کی طرف دیکھ رہا تھا مگر میرے چہرے پر خوف یا اشتعال کا ذرا سا بھی اثر نہ تھا ۔ میں انتہائی غیر جذباتی انداز میں اسٹیچو کی طرح خاموشی کے ساتھ اس کو دیکھتا رہا ۔ اب وہ ٹھنڈا پڑنے لگا ، یہاں تک کہ بالکل چپ ہو گیا ۔ کو چپ کرنے کی سب سے آسان تدبیر صرف ایک ہے ۔ اپنی زبان کو ایک طرفہ طور پر بند کر لینا ۔