Al-Risala · December 1989

پرتی کریا میں جنا حب گرن پیچھے دھکیلتا ہے

Al-Risala, December 1989, pp. 19–22

By Maulana Wahiduddin Khan

یعنی رد عمل کے ذریعہ جو بیداری آئے، وہ قوم وملک کو آگے نہیں بڑھاتی، بلکہ پیچھے کی طرف لے جاتی ہے۔ جس طرح مسلمانوں میں بہت سے لوگ مسلمانوں کی رد عمل کی تحریکوں کو صحوہ اسلامیہ کا نام دیتے ہیں۔ اسی طرح ہندوؤں میں بہت سے خوش فہم لوگ ہیں جو ہندوؤں کے درمیان مسلم رد عمل کے تحت اٹھنے والی لہر کو 'ہندو بیداری کا نام دے رہے ہیں ۔ مسٹر باجپئی نے ایسے ہندوؤں کو آگاہی دی ہے کہ یہ ایک منفی بیداری ہے ، اور منفی بیداری ہمیشہ تباہی کا باعث ہوتی ہے ، وہ تعمیر کا سبب نہیں بنتی۔

کوئی شخص خواہ کتنے ہی بڑے سیاسی عہدہ پر ہو ، اس کو بھی بے قید اختیار حاصل نہیں ہوتا۔ جنرل محمد ضیاء الحق ساڑھے گیارہ سال (۱۹۸۸ - ۱۹۷۷) تک پاکستان کے مطلق حکمران رہے۔ مگر پاکستان کی جو طاقتیں ملک کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں، ان میں سے کسی ایک پر کبھی وہ ہاتھ نہ ڈال سکے ۔ مثلاً بڑے بڑے جاگیر دار، اسمگلر، منشیات اور ہتھیاروں کا کاروبار کرنے والے ، بیورو کریسی، رشوت لینے اور دینے والے ، ٹیکس کی چوری کرنے والے ، علیحدگی پسند سیاست داں ، وغیرہ میں اس کو ناممکن سمجھتا ہوں کہ کوئی وزیر یا حکمراں ہندوستان کے اس مسئلہ کو حل کر سکتا ہے جس کو نہرو نے " ہندو فرقہ پرستی " کہا ہے۔ ہندو فرقہ پرستی تمام تر مسلم فرقہ پرستی کا رد عمل ہے، اور یہ صرف مسلمان ہیں جو قرآن کے اصول کے مطابق ، صبر اور اعراض کی پالیسی اختیار کرکے اس کو ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتے ہیں ۔

ہندوستان کے مسلمان اس " ہندو فرقہ پرستی " کے جواب میں آج بھی ٹھیک وہی طریقہ

اختیار کیے ہوئے ہیں جو انھوں نے ۱۹۷۲ سے پہلے مسلم لیگی لیڈروں کی رہنمائی میں اختیار کیا تھا، یعنی ہندو فرقہ سے براہ راست لڑنا، اس کے خلاف ایجی ٹیشن کرنا، اس کی مذمت میں اپنے تمام الفاظ خرچ کر دینا۔

۱۹۷۲ سے پہلے مسلمانوں نے جو سیاست اختیار کی، اس کے تجربہ نے بتایا کہ مذکورہ بالا قسم کی جوابی تحریک صرف فرقہ پرستی کے مسئلہ کو بڑھاتی ہے، وہ کسی بھی درجہ میں اسے کم نہیں کرتی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان کے مسلمان ۱۹۷۲ سے پہلے جس درجہ کی ہندو فرقہ پرستی سے دوچار تھے، آج اس میں سوگنا زیادہ اضافہ ہو گیا ہے، ایسی حالت میں سابقہ پالیسی پر قائم رہنے کا آخر کیا کیا مسلمان ایک بل میں دوبار ہاتھ ڈال کر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ حدیث کے مطابق، ان کو مومنانہ بصیرت حاصل نہیں ، وہ سرے سے ایمان کی روشنی ہی سے محروم ہیں ۔ مدعو نہ کہ حریف مسلمانوں کو اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ ہندوستان کی فرقہ پرستی کا واحد حل وہی ہے جو قرآن میں بتایا گیا ہے۔ یعنی صبر اور اعراض ۔ مسلمانوں کو یہ فیصلہ کر لینا چاہیے کہ وہ یک طرفہ طور پر صبر اور اعراض کا طریقہ اختیار کریں گے ، وہ ہر حال میں رد عمل کی روش سے بچیں گے ۔ یہی پہلے بھی ان کے مسئلہ کا حل تھا اور آج بھی یہی ان کے مسئلہ کا حل ہے ۔ اس کے سوا وہ تدبیریں جو ان کے بے ریش اور باریش رہنما ان کو بتا رہے ہیں، وہ صرف ہلاکت کی طرف لے جانے والی ہیں ۔ ہرگز منزل کی طرف لے جانے والی نہیں ۔

مسلمان اب تک ہندوؤں کو اپنا حریف اور رقیب سمجھتے رہے ہیں ۔ ان کا یہ رویہ سراسر باطل وہ خدا کے غضب کو دعوت دینے والا ہے ۔ مسلمان کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ اس ملک میں خدا کے دین کے داعی ہیں ۔ ہندو ان کے لیے مدعو کا درجہ رکھتے ہیں ۔ مدعو اپنے داعی کا محبوب ہوتا مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ہندوؤں کے تئیں اپنے نفرت کے جذبات کو کھرچ کر نکال دیں۔ اور ان کے ساتھ محبت اور ہمدردی کے جذبہ کے ساتھ معاملہ کریں ۔ یہی ان کے سارے مسائل کی کنجی ہے ۔ یہی ان کی منزل کا آغاز ہے اور یہی ان کی منزل کا اختتام بھی ۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو جو انگریزی الرسالہ کے مستقل قاری ہیں ۔ انھوں نے اپنے چار صفحہ کے

خط میں اپنا تبصرہ روانہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اگرچہ میں ایک پیدائشی ہندو ہوں مگر میں کسی بھی مذہب میں عقیدہ نہیں رکھتا۔ خواہ وہ ہندو مذہب ہو یا اور کوئی مذہب۔ البتہ میں انسانیت اور انسانی شرافت کا دل سے قائل ہوں۔ وہ مزید لکھتے ہیں :

ہندوؤں کی بڑی تعداد کٹر مذہبی ہے مگر وہ صبح و شام پیسہ کمانے میں مشغول رہتے ہیں، اور رسوم وروايَات کی تعمیل میں لگے رہتے ہیں تاکہ اپنے خود غرضانہ مقاصد کو پورا کر سکیں ۔ اور اسی مسٹرکے ساتھ اس کوشش میں مصروف رہتے ہیں کہ وہ دوسری دنیا میں سورگ میں اپنے لیے ایک جگہ خرید سکیں ۔ ان کے پاس وقت نہیں ہے کہ وہ فساد جیسی پرتشدد چیزوں میں حصہ لیں۔ اور چوں کہ ان کے پاس مادی سازوسامان کافی موجود ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ فسادات کے نتیجہ میں وہ بہت کچھ کھو دیں گے ۔ مگر جب وہ دوسرے فرقوں کی طرف سے آخری حد تک چھیڑ دیے جاتے ہیں تو بعض اوقات ان کی ناراضگی ابُل پڑتی ہے۔ مگر بہت زیادہ دیر تک کے لیے نہیں ۔ کے ایل دتہ کے اس نقطہ نظر سے میں متفق ہوں ۔ ہندو بنیادی طور پر ایک تاجر پیشہ اور فساد اور اس کے نتیجہ میں کرفیو کا سب سے زیادہ نقصان تاجر طبقہ ہی کو پہنچتا ہے۔ اس لیے اصولی طور پر ہندو ، بحیثیت قوم ، فساد کو پسند نہیں کر سکتے ۔ پھر فساد کیوں ہوتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندو سب کے سب تاجر نہیں ہیں ۔ ایک طبقہ غیر تاجروں اور غریبوں کا ہے ۔ یہی دوسرا طبقہ اکثر اوقات فساد کا ابتدائی سبب بنتا اس دوسرے طبقہ کا کوئی فرد ایک مسلمان کے ساتھ کوئی اشتعال انگیز کارروائی کرتا ہے، اور ایسا ہونا کسی آزاد سماج میں بالکل فطری ہے۔ اس وقت مسلمان بے برداشت ہو جاتا ہے۔ وہ اشتعال انگیزی کی صورت میں مشتعل ہو کر لڑنے لگتا ہے ۔

اس کے بعد خود مسلمانوں کی دو قومی سست کے نتیجہ میں ایسا ہوتا ہے کہ دو فرد کا مسئلہ دو قوم کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ دونوں طرف کے لوگ اپنی اپنی قوم کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ قومی شکایات جو سوئی ہوئی تھیں ، اچانک جاگ پڑتی ہیں۔ قومی ساکھ اور قومی حمیت کا مسئلہ بن جانے کی وجہ سے دونوں فرقوں میں سے کوئی شخص یہ ہمت نہیں کرتا کہ وہ اپنے فرقہ کے خلاف بولے یا تمام لکھنے اور بولنے والے یک طرفہ طور پر اپنے فرقہ کی حمایت اور دوسرے فرقہ کی مذمت شروع کر دیتے قومی حمایت کا یہی انداز ہندو بھی اختیار کرتے ہیں اور یہی انداز مسلمان بھی۔ اب فرقہ وارانہ فساد کو ختم کرنے کی تدبیر صرف ایک ہے ۔ وہ یہ کہ مسلمان پورے عزم کے ساتھ یہ فیصلہ کرلیں کہ وہ اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہوں گے۔ وہ ہر حال میں صرف اعراض کی پالیسی اختیار کریں گے نہ کہ لڑنے اور مقابلہ کرنے کی پالیسی۔

اگر مسلمان پوری طرح یہ فیصلہ کرلیں تو یقینی طور پر فساد کی جڑ کاٹ دیں گے۔ کے بعد ہر ہنگامہ کی اپنے ابتدائی مرحلہ میں سمجھ کر رہ جائے گی ، وہ فساد اور قتل و خون کے مرحلہ تک نہ پہونچے گی ۔ جہاں بھی مسلمانوں نے اعراض کا طریقہ اختیار کیا ہے ، وہاں لازمی طور پر ایسا ہی پیش آیا ہے ۔

مسلمان اگر پوری طرح اعراض کی پالیسی اختیار کر لیں تو ابتدائی اشتعال کا ہر واقعہ صرف ایک شخصی واقعہ بن کر رہ جائے گا۔ وہ دو قوموں کے وقار کا مسئلہ نہیں بنے گا۔ اس کے بعد پولیس سے بھی مسلمانوں کی شکایت ختم ہو جائے گی ۔ پولیس مسلمانوں کے لیے اس وقت ظالم بنتی ہے جب کہ مسئلہ دو قومی صورت اختیار کرلے۔ دو قومی صورت اختیار کرنے کے بعد مسلمان پولیس کی گولی کا نشانہ بنتے ہیں۔ لیکن اگر مسئلہ دو قومی نہ بنے تو وہ افراد پولیس کی گولی کا نشانہ بنیں گے جنھوں نے ابتدائی طور پر شرارت کی تھی ۔

اسلام دورِ جدید کا خالق هدیه ۱۵ روپیه

Printed page