Al-Risala · December 1989

ایک موت

Al-Risala, December 1989, pp. 26–27

By Maulana Wahiduddin Khan

ویر بہادر سنگھ ۱۸ فروری ۱۹۳۵ کو ہرناہی گورکھپور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے گورکھپور یونیورسٹی سے جغرافیا میں ایم اے کیا۔ اس کے بعد وہ کانگریس میں شریک ہو گئے اور ترقی کرتے کرتے وزارت کے عہدے تک پہنچے۔

۲۵ ستمبر ۱۹۸۵ کو انہوں نے یوپی کے وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالا۔ وہ تین سال سے زیادہ عرصہ تک اس عہدہ پر رہے۔ اس کے بعد انہیں دہلی کی مرکزی حکومت میں مواصلات کا وزیر بنا دیا گیا۔ مرکزی وزیر کی حیثیت سے وہ ٹیلی کمیونی کیشن کی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لیے پیرس گیے ہوئے تھے۔ عین کا نفرنس کی کارروائی کے دوران ان پر دل کا دورہ پڑا، اور ۳۰ مئی ۱۹۸۹ کو پیرس کے اسپتال میں ان کا انتقال ہو گیا۔

یوپی میں بابری مسجد اور میرٹھ کے واقعات ویر بہادر سنگھ ہی کے زمانہ میں پیش آئے تھے۔ اس بنا پر وہ مسلمانوں کے درمیان بہت زیادہ بدنام ہوئے۔ ٹائمس آف انڈیا کے لکھنؤ ایڈیشن کے ایڈیٹر مسٹر دی ایکم با دو لانے ویر بہادر سنگھ کے حالات پر ایک مضمون لکھا ہے جو ٹائمس آف انڈیا (۳۱ مئی ۱۹۸۹) میں چھپا ہے۔ اس مضمون کا ایک پیراگراف یہ ہے:

He displayed an utter lack of political farsightedness. He never cared to look back, as he often boasted, but then, he was also incapable of looking ahead. A case in point was his handling of the Babri Masjid issue and he is said to have masterminded the opening of the locks of the disputed property at the instance of Mr. Arun Nehru, then Union minister for internal security, only to appease the Hindus. The mishandling of the Muslim problem in general and the Meerut riots in particular did not particularly endear him to the people (p. 13). انہوں نے سیاسی دور اندیشی کے کامل فقدان کا مظاہرہ کیا۔ جیسا کہ وہ اکثر پر فخر طور پر کہا کرتے تھے، وہ کبھی اس کی پروا نہیں کرتے تھے کہ پیچھے کی طرف مڑ کر دیکھیں۔ مگر اسی کے ساتھ وہ آگے کی طرف دیکھنے کی اہلیت بھی نہیں رکھتے تھے۔ اس کی ایک بہت واضح مثال بابری مسجد کا مسئلہ ہے۔ ہے کہ وہی اس کا دماغ تھے اور انھیں نے سابق مرکزی وزیر مسٹر ارون نہرو کے اشارہ پر اس متنازعہ

عمارت کا تالا کھلوایا تھا۔ صرف اس لیے کہ اس طرح وہ ہندوؤں کو خوش کر سکیں گے۔ مسلمانوں کے مسئلہ کو، خاص طور پر میرٹھ کے فسادات کو برے طریقے سے انجام دینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ عوام کے اندر مقبولیت حاصل نہ کر سکے (صفحه ۱۳)

مسٹر بادولا کے یہ الفاظ پڑھ کر میں نے سوچا کہ ویر بہادر سنگھ کے بارہ میں اتنا کھلا ہوا تبصرہ شاید کوئی مسلم دانشور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ بلاشبہ یہ انتہائی منصفانہ اور جرات مندانہ تبصرہ ہے اور مسٹر بادولا اس کے مستحق ہیں کہ ملک کے نمبر ایک انگریزی اخبار میں ایسا تبصرہ شائع کرنے پر انہیں مبارکباد

مگر افسوس ناک بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں آجکل جو لکھنے اور بولنے والے ہیں، وہ اس ملک کے بارہ میں تعصب اور ظلم کی داستانوں کے سوا اور کچھ نہیں جانتے۔ انھیں "ویر بہادر سنگھ" کی خبر ہے، مگر انھیں "وی ایم بادولا" کی کوئی خبر نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اعلان کیا ہے کہ اس دنیا میں ہمیشہ عُسر کے ساتھ یُسر بھی موجود مگر موجودہ مسلمان لیڈر "یسر بلائنڈ" ہو چکے ہیں۔ ان کو یہاں صرف عُسر دکھائی دیتا ہے، یُسر کے مناظر ان کی آنکھوں کے سامنے ہوئے ہیں مگر وہ انھیں نظر نہیں آتے۔

دوسری بات ویر بہادر سنگھ سے متعلق ہے۔ انھوں نے اپنی وفات سے صرف چند ماہ پہلے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ میں آج میں جیتا ہوں، میں کل کی پروا نہیں کرتا۔ انھوں نے "میرٹھ" اور "بابری مسجد" کے معاملہ میں جو کچھ کیا، اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ صرف اپنے آج کو دیکھتے تھے، وہ کل کی فکر نہیں کرتے تھے۔ حالاں کہ اصل حقیقت یہ تھی کہ ان کا آج چند دن بعد "۳۰ مئی" کو ختم ہو جانے والا اس کے بعد جو کل ان کے لیے مقدر تھا، وہ یہ کہ وہ ایک عام انسان کی حیثیت سے خدا کی عدالت میں جواب دہی کے لیے حاضر کر دیے جائیں۔ ویر بہادر سنگھ اگر اس حقیقت کو جانتے تو وہ آج سے زیادہ کل کے لیے فکر مند ہوتے ، اس کے بعد وہ اس سے بالکل مختلف انسان بن جاتے جیسا کہ وہ اپنی زندگی کے آخر تک بنے رہے۔ "آج" کو جاننا آدمی کو سرکش اور بے انصاف بناتا ہے، اور "کل" کو جاننا ذمہ دار اور انصاف پسند۔ لوگ صرف اپنے آج کو جانتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ سرکش اور بے انصاف بنے ہوتے ہیں۔ اگر وہ اپنے کل کو جانیں تو ان کی زندگیاں بالکل بدل جائیں۔

Printed page