Al-Risala · December 1989

Islam Regains its Voice

Al-Risala, December 1989, pp. 28–29

By Maulana Wahiduddin Khan

ان دونوں صفحات میں جو مضمون ہے ، اس کے ساتھ روسی مسلمانوں کی دینی زندگی سے متعلق تین رنگین تصویریں دی گئی ہیں۔ یہ دونوں صفحے اپنی ترتیب اور طباعت کے اعتبار سے اس قدر پر کشش اور شاندار ہیں کہ ان کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ آج ساری دنیا میں مسلمانوں کا ایک بھی ایسا میگزین نہیں جو" روس میں اسلام" کے بارے میں ایسی براہ راست اور اتنی خوبصورت رپورٹ پیش کر سکے۔ صحافت موجودہ زمانہ میں قومی تعمیر کی بنیاد ہے۔ جس قوم کے پاس طاقت ور صحافت نہیں ، اس کو قبرستان میں تو یقینا جگہ مل سکتی ہے ، مگر آج کی دنیا میں زندگی کے میدان میں اس کا کوئی مقام

یہ رپورٹ ان الفاظ کے ساتھ شروع ہوتی ہے : اللہ اکبر اللہ اکبر ، تاشقند کے مینار سے اسلامی عبادت کی پکار بلند ہوتی ہے۔ رپورٹ میں بہت سی باتیں کہی گئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ روسی گورنمنٹ آج کل اسلام کے بارے میں فراخی کا ثبوت دے رہی ہے۔ ۱۹۱۷ کے انقلاب کے بعد روس میں ۲۶ ہزار مسجدیں اور ۲۴ ہزار مذہبی مدرسے بند کر دیئے گئے تھے۔ ان میں سے ۴۰۰ مسجدیں دوبارہ کھول دی گئی ہیں۔

روسی حکومت آج کل اسلام کے بارے میں زیادہ روادار ہے۔ نئی مسجدیں کھولنے کے علاوہ حکومت نے عملی طور پر اینٹی مسلم پروپیگنڈے کو تقریباً بند کر دیا ہے۔ اسلام دوسرے مذہبوں کی طرح روس کی نئی سوچ سے فائدہ اٹھانے والوں میں ممتاز درجہ رکھتا ہے:

سویویت روس کے نظام میں یہ تبدیلی مختلف اسباب سے ہوئی ہے۔ تاہم اس نے روسی مسلمانوں کو کام کرنے کا نیا موقع دے دیا ہے۔ مگر اس موقع سے فائدہ اٹھانا اسی وقت ممکن ہے جب کہ روس کے مسلمان یہ بھی جانتے ہوں کہ موجودہ آزادی محدود ہے نہ کہ لامحدود۔ وہ حاصل شدہ کے مطابق اپنے کام کا نقشہ بنائیں نہ کہ غیر حاصل شدہ کے پیچھے دوڑنا شروع کر دیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی بربادی کا خاص سبب ان کی غیر حکیمانہ سرگرمیاں ہیں۔ پر قناعت نہیں کرتے بلکہ نا ممکن پر دوڑتے ہیں۔ وہ طے ہوئے کے بجائے نہ طے ہوئے پر اپنی نظریں جمائے رہتے ہیں۔

ان کا حال یہ ہے کہ جہاں چپ رہنا چاہیے وہاں بولتے ہیں۔ جہاں گفت و شنید کے ذریعہ مسئلہ کو حل کرنا چاہیے وہاں ایجی ٹیشن کی دھوم مچاتے ہیں۔ جہاں محبت کی فضا پیدا کرنا چاہیے وہاں عداوت کا طوفان کھڑا کرتے ہیں۔ جہاں صبر و اعراض پر قائم ہونا چاہیے وہاں لڑائی اور ٹکراؤ کی مہم شروع کر دیتے ہیں؛ وہ موقع جب کہ گھروں میں بیٹھنا چاہیے وہاں جلوس بنا کر سڑکوں پر نعرہ بازی کرنے کے لیے نکل پڑتے ہیں۔

اس دنیا میں ، ممکن" کو استعمال کرنے کا نام عمل ہے ، نہ کہ " نا ممکن " کے پیچھے بے فائدہ مگر یہی وہ سادہ سی بات ہے جس کو نہ مسلمانوں کے اصاغر جانتے ہیں اور نہ ان کے اکابر۔

Printed page