سفر نامہ راجستھان - ۴
Al-Risala, December 1989, pp. 33–40
By Maulana Wahiduddin Khan
اب وہ نوجوان اوزار سازی کا ماہر ہو گیا ہے اور اس کے ذریعہ اچھی کمائی کر رہا ہے۔ بہت سے مسلمان اب کو اس قسم کی منت ماننے والے ملیں گے۔ آپ ان کو منع کریں تو وہ کہیں گے کہ " ہمارا مقصد پورا ہوتا ہے تو ہم کیوں نہ کریں "۔ مگر یہ صرف غلط فہمی ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسان کے دماغ میں بے پناہ صلاحیت بھری ہوئی ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اس صلاحیت کو حرکت میں لایا جائے۔ اس کو حرکت میں لانے والی چیز یقین ہے۔ نوجوان نے " اوزار " اپنی عقل سے بنایا۔ البتہ اس کی عقل کو متحرک کرنے کے لئے یقین اور حوصلہ کی طاقت درکار تھی۔ اس نے تعزیہ پر چاندی کا اوزار چڑھانے کا ارادہ کیا تو اس نے اپنے اندر ایک نئی طاقت پیدا کر لی۔ اس کی نفسیات یہ ہو گئی کہ اب میں نے تعزیہ کو چڑھا دادیینے کی منت مان لی ہے ، آپ تو میں اس کی مدد سے ضرور یہ کام کر لوں گا۔ اس طرح چڑھاوے کی منت سے اس کو یقین اور حوصلہ کی طاقت مل گئی۔ اس کے ذریعہ اس نے اوزار بنا لیا۔ اس یقین کا حقیقی سر چشمہ اللہ کا مگر نادان آدمی دوسری چیزوں پر عقیدہ کو اپنے یقین کا سر چشمہ بنا لیتا ہے۔ عبد القيوم صاحب (۳۸ سال)، پالی کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پالی میں اتن تعصب ہے کہ اگر سڑک پر کوئی ایکسیڈنٹ ہو جائے تو لوگ سب سے پہلے یہ پوچھتے ہیں کہ ایکسیڈنٹ کرنے والا کون ہے۔ چوڑی بازار میں آگ لگ گئی تو پوچھنے والے صرف یہ پوچھتے تھے کہ آگ کس نے لگائی۔ لوگوں کو آگ بجھانے سے دل چسپی نہیں ، بلکہ یہ جاننے سے دل چسپی ہے کہ آگ لگانے والا کون ہے۔
حالت یہ ہے کہ پوچھنے والے کو اگر یہ بتایا جائے کہ آگ لگانے والا یا ایکسیڈنٹ کرنے والا مسلمان ہے تو ہند و طوفان کھڑا کر دیں گے ۔ اور اگر یہ بتایا جائے کہ آگ لگانے والا یا ایکسیڈنٹ کرنے والا ہندو ہے تو مسلمان پھر کر ہنگامہ کرنے لگیں گے۔
عبد القیوم صاحب پالی میں پینٹنگ کا کام کرتے ہیں۔ ان کا کام ۹۰ فی صد ہندوؤں میں ہوتا وہ سچائی کے ساتھ اور محنت کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ چنانچہ تمام ہندو ان کی عزت کرتے ہندوؤں کو ان پر اتنا اعتماد ہو گیا ہے کہ گھر کی کنجی انھیں دے کر باہر چلے جاتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ۱۹۸۷ میں پالی میں فساد ہو گیا۔ بہت سی دکانیں جلا دی گئیں۔ شہر میں کرفیو
اس وقت وہ ہندو محلے میں تھے ۔ ہندوؤں نے ان کی پوری حفاظت کی۔ کھانے پینے کی کوئی تکلیف نہیں ہونے دی۔ " اصل چیز اپنا اخلاق ہے"۔ عبد القیوم صاحب نے اپنے سادہ لفظوں میں کہا۔ " ہم اپنا اخلاق اور اپنی بول بات ٹھیک رکھیں تو وہ ہمارا پورا احترام کریں گے"۔ ایک بزرگ نے ایک صاحب کا ذکر کیا جنہوں نے ہمارے مشن کے ساتھ غضب اور خیانت کا معاملہ کیا ہے اور کچھ لوگ " بغض معاویہ " کی نفسیات کے تحت ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ تحسبونه هيناً وهو عند ٱللَّهِ عظیم کا معاملہ ہے۔ قیامت میں یہ لوگ اپنے جرم پر اتتار و بیٹھیں گے کہ ان کے آنسوؤں کا سیلاب ہی ان کو غرق کرنے کے لئے کافی ہو جائے گا۔
راجستھان کا ایک قصبہ مکرانہ ہے جو سنگ مرمر کے لئے مشہور ہے۔ مکرانہ جانے کا اتفاق تو نہیں ہوا۔ البتہ یہاں کے بعض اصحاب سے ملاقات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ پہلی بار ۱۶۰۶ میں یہاں سنگ مرمر کی موجودگی کا پتہ چلا۔ ہندوستان میں یہ اپنی نوعیت کا واحد مقام ہے۔ جی ایل کٹا ریا اسسٹنٹ مائننگ انجینئر، مکرانہ) کے بیان کے مطابق ، یہاں تقریباً ۵۰ ملین ٹن سنگ مرمر کا ذخیرہ موجود ہے۔ یہ ذخائر ۵۰ فٹ نیچے شروع ہو جاتے ہیں اور ۲۵۰ فٹ تک یہ ذخائر تقریباً ۲ کلو میٹر کے رقبہ میں زیر زمین پھیلے ہوئے ہیں۔ اس سے ریاست کے خزانہ کو سالانہ چار کروڑ رو رو پیہ بطور ٹیکس وصول ہوتا ہے۔ شاہجہاں نے مکرانہ کے پتھروں ہی سے آگرہ کا تاج محل بنوایا تھا۔ اسی وقت سے مکرانہ کو زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ مکرانہ میں ۶۵۰ کانیں ہیں۔
پنجاب اور یوپی اگر درختوں کے باغ ہیں تو راجستھان طرح طرح کے پتھروں کا باغ ہے۔ کے جو کلمات درخت کے نازک پتوں پر لکھے ہوئے نظر آتے ہیں ، وہی کلمات پتھروں کی دنیا میں سنگی تحریروں کی صورت میں لکھے ہوئے ہیں۔ میں نے مکرانہ کے ایک صاحب سے پوچھا کہ کیا مکرانہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں جنھوں نے پتھروں کے ورق پر لکھی ہوئی خدا کی کتاب پڑھی ہو۔ اس سوال کو سن کر وہ میری طرف اس طرح دیکھنے لگے جیسے میں نے روسی یا جاپانی زبان میں ان سے کوئی سوال کر دیا ہو۔ ۳۰ جولائی کو دوپہر بعد شیو گنج سے سرو ہی کے لئے روانہ ہوا۔ سرد ہی ایک پر سکون اور
صحت بخش مقام ہے۔ اس سفر میں حاجی عبدالكريم صاحب، ظفر مسعود رضوی صاحب اور کچھ دوسرے لوگ ساتھ تھے۔
ظفر مسعود رضوی صاحب (۴۸ سال) سروہی میں رہتے ہیں۔ وہ الرسالہ کے مستقل قاری ان کے یہاں الرسالہ کے کیسٹ بھی موجود ہیں۔ وہ اوپر کی منزل میں رہتے ہیں۔ ایک روز ان کے یہاں " تعمیر ملت " نام کا کیسٹ بج رہا تھا۔ ان کے پڑوس میں مسٹر کرشن کمار نیچے کے حصہ میں رہتے ہیں۔ مسٹر کمار کے کان میں اس کی آواز گئی تو انھیں دل چسپی ہوگئی۔ انھوں نے کیسٹ کو مانگ کر دوبارہ اس کو مکمل طور پر سنا۔ اب ان کی دل چسپی اتنی بڑھ چکی ہے کہ ہر مہینہ الرسالہ (اردو) کو پڑھ ہو کر سنتے ہیں۔ اسی طرح یہاں کے کئی اور ہندو بھی۔
سروہی میں ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ میں نے مسلمانوں کے بعض اجتماعات میں شرکت وہ لوگ اجتماع کے آخر میں لمبی لمبی دعائیں کرتے ہیں۔ مگر ساری دعا صرف مسلمانوں کے لئے ہوتی ہے۔ ملک کی خوش حالی یا قوم کی ترقی کے لئے کوئی دعا نہیں کی جاتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ لوگوں کو صرف اپنے گروہ سے دل چسپی ہے۔ ملک و قوم سے آپ لوگوں کو کوئی دل چسپی نہیں۔ یہ تنقید میرے نزدیک بجا ہے۔ مسلمانوں کو اس پر دھیان دینا چاہئے۔
یہاں ایک معروف شخص ماسٹر من موہن لال ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سروہی ضلع (اور اسی طرح دوسرے مقامات پر، ملی جلی کمیٹی بنائی جائے ۔ اس میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک ہوں۔ کہیں مسلمان زیادتی کرتے ہیں تو ان کے خلاف کمیٹی کے مسلم ممبران آواز اٹھائیں۔ اور اگر کہیں ہندو زیادتی کرتے ہیں تو کمیٹی کے ہندو ممبران اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔
موجودہ حالت یہ ہے کہ ہندو بولنے والے ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف بولتے ہیں، اسی طرح مسلمان بولنے والے ہمیشہ ہندوؤں کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔ یہ بالکل بے فائدہ ہے۔ اگر ماسٹر من موہن لال کی تجویز پر عمل کیا جائے تو یقیناً فساد کی حوصلہ شکنی ہوگی اور ان میں بہت کمی آجائے گی ۔
سروہی سے آبو روڈ جاتے ہوئے پنڈ و اڑہ ملتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اگست ۱۹۸ میں فرقہ وارانہ فسانہ ہوا تھا۔ یہاں ایک مسلمان کی کرانہ کی دکان ہے۔ یہاں سے مزدور طبقہ
کے ایک ہندو نے کچھ سامان ادھار خریدا۔ بعد کو ایک روز مسلم دکان دار نے مذکورہ ہندو سے پیسہ کا تقاضا کیا۔ ہندو نے پیسہ نہیں دیا تو دکان دار نے اس کی سائیکل رکھ لی۔ ہندو نے مقامی آر ایس ایس والے سے شکایت کی ۔ وہ آئے اور دکان دار سے کہا سنا ۔ دکان دار نے سائیکل واپس کر دی۔
بظاہر بات ختم ہو گئی۔ مگر ایک مسلم نوجوان جو مذکورہ دکان دار کا دوست تھا ۔ اس کو واقعہ معلوم ہوا تو اس نے مذکورہ ہندو کو بازار میں پکڑا اور اس سے تکرار شروع کی۔ مسلم نوجوان نے ایک لکڑی لے کر اس کو مار دیا۔ اب ہندوؤں نے ہندو مزدور کی طرف داری کرتے ہوئے مسلم نوجوان کو مارنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ سخت زخمی ہو کر وہ مسلمان مرگیا۔ تاہم بات اس کے بعد زیادہ آگے نہیں بڑھی۔ ایڈ منسٹریشن نے جلد ہی حالات پر قابو پالیا۔ اسی راستہ میں دوسرا قصبہ سروپ گنج آتا ہے۔ یہاں فروری ۱۹۸۹ میں فساد ہوا تھا۔ ہیڈ گوآر جنم شتابدی منائی جارہی تھی۔ اس موقع پر آدی واسی تقریباً ۵ ہزار کی تعداد میں جمع ہو گئے۔ اس سلسلہ میں ایک جلوس نکالا جانا تھا۔ جلوس کا راستہ ایک مسجد سے گزرتا تھا۔ اس پر اعتراض ہوا۔ اب تناؤ بڑھا۔ انتظامی افسران نے چند ہندوؤں اور چند مسلمانوں کو بلا کر گفتگو کی۔ ہندوؤں نے کہا کہ اگر آپ ہمارے جلوس کو اپنے علاقہ سے گزرنے سے روکیں گے تو ہم بھی آپ کا کوئی جلوس اپنے علاقہ سے گزرنے نہیں دیں گے۔ آخر کار مسلمان راضی ہوگئے اور یہ طے ہو گیا کہ ہندوؤں کا جلوس مسجد کی طرف سے گزر جائے ۔
مگر مسلم صاحبان نے واپس آکر اس سمجھوتہ کی خبر فوراً مسلمانوں کو نہ دی۔ اور نہ وہ جلوس کے وقت مسجد کے پاس موجود رہے کہ اعلان کر کے مسلمانوں کو اس کی بابت بتاتیں ۔ مسلمان سابقہ ذہن میں رہے۔ جلوس جب مسجد کے سامنے سے گزرا تو کسی مسلمان یا چند مسلمانوں نے جوش میں آکر جلوس پر پتھر پھینک دیا۔ اس پر فساد بھڑک اٹھا۔ جانی نقصان تو کوئی نہیں ہوا۔ مگر مسلمانوں کی تقریباً ۵۰ لاکھ روپیہ کی جائداد جلا دی گئی۔
آبورو ڈ کی ایک دیوار پر ہندی میں لکھا ہوا تھا " "درگھٹنا چالک کے لئے کلنک ہے “۔ حادثہ ڈرائیور کے لئے داغ ہے۔ یہ بات جس طرح ایک گاڑی کے ڈرائیور کے لئے
صحیح ہے، اسی طرح وہ قوم کے لیڈر کے بھی صحیح ہے۔ لیڈر اپنی قوم کو ایک راستہ پر دوڑائے اور قوم اس پر چل کر بربادی کے گڑھے میں جاگرے، توحساس لیڈر کے لئے ایسا کوئی واقعہ موت کا حکم بے حس لیڈر ایسے موقع پر دوسروں کو بربادی کا ذمہ دار ٹھہر کر مطمئن ہوجائے گا۔ لیڈر کے لئے وہ ایسا حادثہ ہوگا کہ اس کی زبان بند ہوکر رہ جائے۔
راستہ میں بناس ندی پر ایک قدیم پل ہے۔ اس کا نام رجو اڑہ پل ہے۔ یہ تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے کا بنا ہوا ہے۔ آج بھی وہ پوری طرح مضبوط ہے۔ مگر چوڑائی میں اتنا کم ہے کہ بیک وقت اس سے صرف ایک بڑی گاڑی گزر سکتی ہے۔ ڈیڑھ سو سال پہلے کے انسان کو "مضبوطی" کی اہمیت معلوم تھی، مگر اس کو "چوڑائی" کی اہمیت معلوم نہ تھی۔ یہ انسانی عقل کی محدودیت ہے۔ حال کو جان سکتا ہے، مستقبل کو یقینی صورت میں جاننا اس کے لئے ممکن نہیں۔ آبو روڈ سے ماؤنٹ آ ابو کا فاصلہ تقریباً ۲۸ کلو میٹر ہے۔ یہ پورا راستہ چکر دار پہاڑی سڑک پر طے ہوتا ہے۔ سڑک کے دونوں طرف اونچے پہاڑ اور گہری کھائی کے مناظر تھے۔ درختوں سے پورا ماحول ڈھکا ہوا تھا۔ یہ ۳۰ جولائی کی شام کا وقت تھا۔ ہوائیں تیز چل رہی گاڑی کی کھڑکیاں بند کر لی گئیں۔ اب شیشہ کے باہر درخت زور زور سے ہلتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ شاخیں ٹوٹ ٹوٹ کرگر رہی تھیں۔ کہیں کہیں پورے درخت گرے ہوئے نظر آئے۔ مگر ، ہم گاڑی کے اندر شیشہ کے پیچھے بالکل محفوظ حالت میں بیٹھے ہوئے چلتے رہے۔ اللہ تعالی نے اس دنیا میں اگر طوفان رکھاہے تو اسی کے ساتھ اس نے یہاں ایسے اسباب بھی رکھ دئے ہیں کہ آدمی خارجی طوفان سے محفوظ رہ کر اپنا سفر طے کرسکے۔
۳۰ جولائی کی شام کو ہم لوگ ماؤنٹ آبو پہنچے۔ ماؤنٹ آبو ایک پہاڑی مقام ہے جو ضلع سرو ہی (راجستھان میں واقع ہے۔ اس کا تعلق اراولی سلسلہ کوہ سے ہے۔ ماؤنٹ آبو میں کثرت سے جین مندر اور جین مذہب کی مقدس یادگاریں ہیں۔ یہاں پچھلے دو ہزار سال سے زائرین آتے رہے ہیں۔ ہندوستان کے سنسکرت رزمیہ مہابھارت میں بھی اس کا تذکرہ آر بوده کے نام سے موجود ہے جس کے معنی مقام دانش کے، ہوتے ہیں۔
ماؤنٹ آبو ایک مشہور پہاڑی تفریح گاہ ہے۔ یہاں ایک خاص طرح کا جین مندر ہے
جو پور سفید سنگ مرمر کا بنا ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ مندر ۱۲۰۰ء کے لگ بھگ بنایا گیا تھا۔ ماؤنٹ آلو کی سیاسی اہمیت اس وقت ہوئی جب انگریزی حکومت کے زمانہ میں "برٹش راجپوتانہ اسٹیٹس ایجنسی" یہاں قائم کی گئی۔ اس کی آبادی تقریباً پندرہ ہزار ہے۔ ہندوستان میں جو مختلف مذہبی اور روحانی تنظیمیں ہیں، ان میں سے ایک تنظیم کا نام برہما اس کے بانی دادا لیکھ راج (وفات ۱۹۶۹ء) ہیں۔ وہ حیدر آباد (سندھ) میں ہیرے کے تاجر تھے۔ ان کے پیروؤں کا عقیدہ ہے کہ شیو دیوتا دادا لیکھ راج کے اندر حلول اس کے بعد انھوں نے تجارت چھوڑ دی اور مذہبی اور روحانی تبلیغ میں لگ گئے۔ برہما کماری مشن کا ہیڈ کوارٹر ماؤنٹ آلو کی چوٹیوں پر ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں اس کی ۱۸۰۰ شاخیں قائم ہیں۔ یہ ایشیا کی واحد مذہبی تنظیم ہے جس کو اقوام متحدہ میں مشاورتی درجہ (Consultative Status) دیا گیا ہے۔ برہما کماری مشن سے وابستہ افراد تجرد کی زندگی گزارتے ہیں۔ وہ گوشت نہیں کھاتے۔ شراب اور دوسری نشہ کی چیزوں سے مکمل پر ہیز کرتے ہیں۔
اس تنظیم کے تصویری میوزیم ۵۲ ملکوں میں قائم ہیں جن کو وہ لوگ خدائی میوزیم (Godly Museum) کہتے ہیں۔ یہاں ہر روز صبح کو راجا یوگا کی تربیت دی جاتی ہے۔ یہ لوگ شیو کو پوجتے ہیں۔ ناخوشگوار موسم کے باوجود یہاں کافی چہل پہل نظر آئی۔ ان کے نظریات سے اتفاق نہ کرتے ہوئے میں نے ان کے اندر ایک زندگی دیکھی جو عام طور پر ہمارے اداروں میں نظر نہیں آتی۔ اس ہیڈ کوارٹر کے تحت ایک اسپر چول یونیورسٹی ہے جس میں دو ہزار طالب علم رہتے ہیں۔ روزانہ تقریباً ایک ہزار آدمی اس کو دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔ وسیع پیمانہ پر لوگوں کو مفت کھانا کھلانے کا انتظام ہے۔ صاف ستھرے ہالوں میں نہایت صاف ستھرا اور بہترین کھانا کھلایا جاتا ہے۔ وسیع رقبہ میں اس کے مختلف شعبے نہایت کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں۔ کارکنوں کی ایک پوری فوج پورے نشاط اور انہماک کے ساتھ ہر وقت اپنے کاموں میں مصروف رہتی ہے۔ کے سب بے معاوضہ ہیں۔ تمام کام مشن کے عورتیں اور مرد رضاکارانہ طور پر انجام دیتے ہیں جو تقریباً سب کے سب تعلیم یافتہ ہیں۔ اور اکثر خوش حال گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
جولائی کو جب میں نے اس مشن کو دیکھا ، اس وقت میرے ساتھ چار آدمی اور بھی تھے۔ برہماکماری مشن کے سنٹر میں میں نے جو کچھ دیکھا اور وہاں کے ذمہ داروں سے جو باتیں ہوئیں ، اس کی تفصیل بہت لمبی ہے۔ ان شاء اللہ آئندہ کسی وقت اس کو تحریر کیا جائے گا۔ یہ ہے کہ ہندوستان کی کئی مذہبی تحریکیں، جن میں برہماکماری اور سکھ دھرم شامل ہیں، ہندو ازم اور اسلام کے بیچ میں ایک درمیانی راہ نکالنے کی کوشش تھی۔ مگر اس کا نتیجہ صرف یہ ہوا کہ ان کو نہ ہندو ازم ملا اور نہ اسلام۔
ٹرین میں ادھیڑ عمر کا ایک ہندو جوڑ اتھا۔ بظاہر وہ خوش حال گھرانے کے افراد تھے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ وہ برہماکماری سے تعلق رکھتے ہیں اور ماؤنٹ آ بو جا رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ شادی کے بعد وہ لوگ برہماکماری تحریک سے متاثر ہوئے۔ چنانچہ ۲۵ سال سے وہ بہن بھائی کی طرح رہ رہے ہیں۔ انھوں نے پھر کبھی ازدواجی تعلق قائم نہیں کیا۔
عورت اور مرد کے درمیان ازدواجی تعلق فطرت کے عین مطابق ہے اور اس کے مقابلہ میں تجرد فطرت کے بالکل خلاف ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو اسلام میں غلو کہا گیا ہے۔ مذہب کی تاریخ بتاتی ہے کہ انسان فطری اور معتدل قسم کی مذہبی زندگی کی طرف کم رغبت کرتا ہے۔ اس کے بجائے غلو والی مذہبی زندگی میں اس کے لئے بڑی کشش ہے۔ جو لوگ اس پر عمل نہیں کرتے، وہ بھی کم از کم ذہنی طور پر اس کو بڑی چیز سمجھتے ہیں۔
اس کی وجہ حقیقۃ مذہب پسندی نہیں بلکہ ظاہر پسندی ہے۔ غلو ہمیشہ ان چیزوں میں ہوتا ہے جو دکھائی دیتی ہیں۔ ظاہری اور مقداری چیزوں میں اضافہ ہی کا نام غلو ہے۔ خود مسلمانوں میں فضائل کی موضوع روایتیں اور بزرگوں کے بارہ میں فرضی قصے تمام ترکیاتی چیزوں میں مبالغہ سے تعلق رکھتی ہیں نہ کہ کیفیت والی چیزوں میں مبالغہ سے۔ حقیقت یہ ہے کہ " فارم " کو اہمیت دینے کا نام غلو ہے، اور " اسپرٹ " کو اہمیت دینے کا نام سچی مذہبیت۔
۳۱ جولائی کو۔ انجے ماؤنٹ آ بو کی نکی جھیل دیکھی۔ پہاڑ کے اوپر پانی کے بڑے بڑے ذخیرے جو اکثر بلندیوں پر دکھائی دیتے ہیں، وہ قدرت کا حیرت ناک معجزہ ہیں۔ اس جھیل کے انز سمت میں ایک پختہ قبر ہے۔ یہ قبر احسان علی صاحب کی ہے۔ وہ لکھنؤ کے رہنے والے تھے۔
”غدر“ میں وہ یہاں آئے۔ اس وقت راجپوتانہ کا انگریز ریزیڈنٹ سر ہنری لارنس یہاں رہتا احسان علی صاحب نے لارنس کے لڑکے پر گولی چلا دی۔ مگر گولی اس کے پاؤں میں لگی۔
احسان علی صاحب ایک جھاڑی میں چھپے ہوئے پڑے لائے گئے۔ انہیں گولی مار دی گئی۔ اس کے بعد ان کی لاش شاہراہ عام پر لٹکا دی گئی۔ وہ تین روز تک وہاں لٹکی رہی۔ اس کے بعد تدفین عمل میں آئی۔ قبر آج تک جھیل کے کنارے موجود ہے اور اس پر ”احسان علی شاہ“ کا کتبہ لگا ہوا ہے۔ کی اصطلاح میں وہ ایک فریڈم فائٹر تھے۔ میرے نزدیک زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ ان کی قبر پر فریڈم فائٹر کا کتبہ لگایا جائے نہ کہ احسان علی شاہ کا۔
ماؤنٹ آبو پر مجھے ایک بلڈنگ میں لے جایا گیا۔ یہاں ۱۹۸۵ء سے ”اقبال ہوسٹل“ قائم اس میں زیر تعلیم بچوں کے لئے بورڈنگ اور لاجنگ کا انتظام ہے۔ یہ بچے انگریزی اسکولوں میں پڑھتے ہیں اور یہاں قیام کرتے ہیں۔ انگریزی تعلیم کے ساتھ ان کے لئے قرآن (ناظره) پڑھانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ میں نے مشورہ دیا کہ اس کے ساتھ اردو بھی پڑھانا چاہئے کیونکہ موجودہ حالات میں ان کو دین سے باخبر رکھنے کے لئے دوسرا کوئی ذریعہ نہیں۔
میں نے ایک گجراتی طالب علم اسماعیل گھانچی گھانچی(۱۴ سال) سے بات کی۔ وہ ذہین نظر میں نے پوچھا کہ آپ کس کلاس میں پڑھتے ہیں۔ اس نے کہا آٹھویں کلاس میں۔ اپنے اسکول کا نام اس نے روٹری اسکول (Roatry Integrated School) بتایا۔ میں نے کہا کہ اس بات کو انگریزی میں کہئے کہ میں آٹھویں درجے میں پڑھتا ہوں۔ اس نے جواب دیا: I am studying in 8th standard. اسی قسم کا ایک واقعہ کسی قدر مختلف شکل میں شیو گنج میں پیش آیا۔ ملاقات ایک مسلمان طالب علم سے ہوئی جو ”میونسپل اسکول“ میں پڑھتا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ آٹھویں کلاس کا طالب علم ہے۔ میں نے کہا کہ اس بات کو انگریزی میں کہئے کہ میں آٹھویں کلاس میں دیر تک سوچنے کے بعد بچے نے جو الفاظ کہے وہ یہ تھے :