Al-Risala · December 1989

Improving Indo-Bangladesh Relations

Al-Risala, December 1989, pp. 45–47

By Maulana Wahiduddin Khan

صدر اسلامی مرکز کو اس موقع پر اظہار خیال کی دعوت دی گئی تھی۔ چنانچہ انھوں نے اس میں شرکت کی اور موضوع سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

پاکستان کا ایک ادارہ الانصار المسلمون (لاہور), اسلامی مرکز کی کتاب " نار جہنم " بڑی تعداد میں چھپوا کر تقسیم کر رہا ہے۔ پہلی بار اس نے یہ کتاب اکتوبر ۱۹۸۸ میں چھپوائی تھی۔

بار اس نے اس کو جنوری ۱۹۸۹ میں چھپوایا ہے ۔ اس کی کتابت جدید طرز پر کمپیوٹر ٹائپ سٹنگ کے ذریعہ کرائی گئی ہے ۔

گول مارکیٹ نئی دہلی میں ۱۲ اگست ۱۹۸۹ کی شام کو ایک پروگرام ہوا۔ اس میں تعلیم یافتہ اصحاب شریک ہوئے ۔ صدر اسلامی مرکز نے اسلامی دعوت کے جدید امکانات کے موضوع پر سوا گھنٹہ کی ایک تقریر کی ۔ اس تقریر کا کیسٹ مرکز میں موجود ہے۔ ”شتم رسول کا مسئلہ نامی کتاب ۱۸۶ صفحات پر تیار ہو کر اس وقت پریس میں ہے ۔ موضوع کے ہر پہلو پر اس میں مفصل بحث کی گئی ہے ۔

ویٹیکن کے زیر اہتمام وار سا (پولینڈ) میں ایک کانفرنس ہوئی ۔ یہ کانفرنس ۳۱ اگست تا ۶ ستمبر ۱۹۸۹ جاری رہی ۔ اس موقع پر شرکت کے لیے صدر اسلامی مرکز کو مدعو کیا گیا تھا ۔ وجوہ سے وہ اس میں شریک نہ ہوسکے ۔ البتہ زیر بحث موضوع سے متعلق ایک مقالہ انہیں بھیج دیا گیا ۔ اس کا عنوان تھا : War and Peace in Islam یہ مقالہ انگریزی الرسالہ میں انشاء اللہ شائع کر دیا جائے گا ۔

بمبئی میں سیوری کے علاقہ میں ایک چال (بڑی بلڈنگ ) ہے جس میں کئی سو آدمی رہتے ہیں۔ اس بلڈنگ کے داخلہ پر ایک بورڈ لگا ہوا ہے ۔ شیخ ابراہیم انجینئر، جو خود اسی بلڈنگ میں رہتے ہیں ، انھوں نے بتایا کہ وہ اکثر الرسالہ کا کوئی فقرہ اس بورڈ پر لکھ دیتے ہیں جس کو لوگ بہت شوق سے پڑھتے ہیں اور اس سے اثر لیتے ہیں ۔ یہ طریقہ دوسرے مقامات پر بھی دہرایا جانا چاہیے ۔

ایک صاحب لکھتے ہیں : الرسالہ کے چند شمارے مرحوم نشتر ترکی کی ترغیب پر پڑھے ۔ سے قبل میں الرسالہ اور آپ کی ذات سے سوء ظن میں مبتلا تھا ۔ یہ مولانا عامر عثمانی مرحوم ایڈیٹر تجلی کی ان تحریروں سے تھا جب انھوں نے آپ کی کتاب ” تعبیر کی غلطی “ پر محفل نقد سنواری تھی۔ میں بغیر آپ کو پڑھے اور بغیر آپ سے ملے محض اس تنقید سے متاثر ہو کر سوء ظن میں مبتلا ہو گیا اب جو آپ کو پڑھا تو واللہ پڑھتا ہی چلا گیا۔ آپ کے سارے پرانے شمارے بھی مسلسل زیر مطالعہ ہیں اور اللہ گواہ ہے ، کدورت کے سارے بادل چھٹ گیے ہیں ۔ بلکہ آپ کی

عظمتِ دل پر نقش جو گئی ہے۔ کاش ایسی عبقری شخصیت سے میں پہلے ہی استفادہ کر لیتا۔ (محمد افضل لادی والا ۔

۱۱- مسٹر طارق (کراچی) نے بتایا کہ پاکستان میں الالالالالر سالہ بہت مقبول ہو رہا ہے۔ موجودہ حالات کی بناپر چونکہ وہاں زیادہ تعداد میں الرسالہ نہیں جاسکتا ہے، اس لیے لوگ ایسا کر رہے ہیں کہ زیرکس کے ذریعہ ایک شمارہ کی کئی کئی کاپیاں نکالتے ہیں اور اس طرح اس کو حاصل کر کے پڑھتے ہیں۔ پھر ایک کاپی کو بھی بے شمار لوگ مہینوں تک پڑھتے رہتے ہیں۔

۱۲ پاکستان سے ایک صاحب لکھتے ہیں: کافی پہلے ایک دوست کے توسط سے رسالہ سے واقف ان کا کہنا تھا کہ یہ رسالہ اجتماعیت کا نہیں بلکہ انفرادیت کا قائل ہے۔ میں نے پہلی مرتبہ رسالہ پڑھا تو میرا پہلا تاثر یہ تھا کہ یہ رسالہ ہندوستان کے مسلمانوں کو بزدلی کا درس دیتا ہے اور اسے حکومت کے ایماء پر اس لیے شائع کیا جاتا ہے کہ یہ مسلمانوں کو ہندوؤں کی غلامی پر ذہنی طور پر اس پہلے تاثر کے بعد میں نے رسالہ کو دوبارہ نہیں پڑھا۔ ایک دن کتابوں کی ایک دکان پر رسالہ پر نظر پڑی۔ اس کے بعض جملے دل کو لگے۔ لہذا خرید لیا اور گھر آکر ایک ہی نشست میں اس کو پڑھ ڈالا۔ میرا سابقہ تاثر فوری طور پر زائل ہو گیا۔ اب یہ کیفیت ہے کہ جب تک الرسالہ کا مطالعہ نہ کرلوں چین نہیں آتا۔ (الیاس اختر انصاری، لطیف آباد، حیدرآباد، سندھ ۱۳- الرسالہ اللہ کے فضل سے نہ صرف دینی، اخلاقی، تعمیری پہلو سے لوگوں کے لیے مفید ثابت ہورہا ہے، بلکہ اور بھی کئی پہلوؤں سے لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھایا ہے۔ مسٹر کشن جیونت راؤ پاٹل (نانڈیر) اور مسٹر راج تیواری (بھوپال) نے بتایا کہ انھوں نے الرسالہ اور اس کی مطبوعات کو اردو میں پڑھنے کے لیے اردو زبان سیکھی ہے۔ محترمہ فرزانہ (حیدر آباد) لکھتی ہیں کہ "ایک انگلش میڈیم کی طالبہ ہونے کے باوجود آج میں اردو زبان اچھی طرح لکھنے اور پڑھنے کے قابل ہو ہوئی ہوں وہ آپ کی عنایت اور الرسالہ کی بدولت ہے۔ مجھے دین سے اتنی لگن اور محبت الرسالہ کے مطالعہ سے ہوئی ۔ میں اب پوری طرح مسلمان ہوں۔ ہر نماز میں آپ کے لیے اور الرسالہ کے لیے دعا کرتی ہوں۔

۱۴- ایک نئی کتاب جلد ہی چھپنے والی ہے۔ اس کا نام " راہ عمل " ہوگا۔

Printed page