تیر بهدف نسخہ
Al-Risala, February 1989, pp. 13–14
By Maulana Wahiduddin Khan
بابری مسجد تحریک کی نام نہاد قیادت نے پر جوش تقریروں کے ساتھ اعلان کیا تھا کہ بابری مسجد کی بازیابی کے لیے ۱۲ اگست ۱۹۸۸ کو "قیادت کا مارچ" ہوگا۔ وہ فیض آباد سے چل کر اجودھیا پہنچیں گے اور بابری مسجد میں فاتحانہ داخل ہو کر جمعہ کی نماز ادا کریں گے۔ اس اعلان کا رد عمل فریق ثانی پر ہوا۔ اور ہندو فرقہ پرست تنظیمیں پوری طاقت کے ساتھ جاگ اٹھیں۔ انھوں نے اعلان کیا کہ مسلم قائدین نے اگر مذکورہ تاریخ کو اجودھیا مارچ کیا تو ہم سوگنا طاقت کے ساتھ ان کی طرف مارچ کریں گے۔ پہلے بظاہر یہ دکھائی دینا تھا کہ اجودھیا کی طرف مارچ قائدین کی طرف مارچ مگر بعد کو نظر آیا کہ اجودھیا مارچ قبرستان کی طرف مارچ ثابت ہوگا۔ چنانچہ نام نہاد قائدین نے ایک عذر نکال کر مارچ کو ملتوی کر دیا۔
اس کے بعد اعلان کیا گیا کہ یہ مارچ ضرور ہوگا اور اب اس کی تاریخ ۴ اکتوبر ۱۹۸۸ ہے۔ بار بار اعلان کیا گیا کہ مارچ مذکورہ تاریخ کو ہو کر رہے گا۔ کسی بھی وجہ سے وہ رکنے والا نہیں ۔ اس کے بعد انتہا پسند ہندو عناصر نے اور بھی زیادہ شدت کے ساتھ اعلان کیا کہ وہ مجوزہ اجودھیا مارچ کو نہ صرف بزور روکیں گے بلکہ وہ مارچ میں شرکت کرنے والوں کو ایسا "سبق" پڑھائیں گے کہ آئندہ وہ اس قسم کی جرات ہی نہ کر سکیں ۔ اب قائدین کو اپنے سامنے موت نظر آنے لگی۔ دوبارہ بالکل آخر وقت میں اس کے التوا کا اعلان کر دیا گیا ۔ لفظ کا کریڈٹ لینے والے عمل کا کریڈٹ لینے میں ناکام رہے۔
اس سلسلہ میں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مارچ کے بھیانک نتائج سے مسلم قائدین تو بچ گئے مگر مسلم عوام اس سے بچنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ پورے یوپی میں ان کو سخت حالات کا سامنا نیز علی گڑھ ، مظفر نگر ، کھتولی اور فیض آباد وغیرہ میں باقاعدہ فسادات پھوٹ پڑے جن میں مسلمانوں کو ناقابل بیان جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
اب سوال یہ ہے کہ ایک ہی مشترک خطرہ سے قائدین تحریک کس طرح مکمل طور پر بچ گئے، اور پیروانِ تحریک کیوں کر عین اسی خطرہ کا شکار ہو گئے۔ اس کی وجہ بالکل سادہ ہے۔ قائدین کا اصول
یہ ہے کہ لفظی تقریریں کرو، مگر جب عمل کا وقت آئے تو ایک خوبصورت عذر بیان کر کے پیچھے بیٹھ جاؤ۔ اس کے برعکس پیروان تحریک اپنی نادانی یہ سمجھتے ہیں کہ جو تقریر کی جائے اس کے مطابق عمل بھی ضرور کیا جائے۔
ایسی حالت میں میں مسلم عوام کو مشورہ دوں گا کہ وہ اپنے قائدین کی ادھوری پیروی کرنے کے بجائے ان کی مکمل پیروی کریں۔ مسلم عوام اگر چاہتے ہیں کہ جس طرح ان کے قائدین کی جان و مال پوری طرح محفوظ ہے اسی طرح ان کی اپنی جان و مال بھی پوری طرح محفوظ رہے تو اس کا نہایت سادہ ساحل یہ ہے کہ قائدین کے کہے کو کرو، ان کے کہے کو بالکل نظر انداز کر دو۔