علی گڑھ کی مثال
Al-Risala, February 1989, pp. 14–15
By Maulana Wahiduddin Khan
فرقہ وارانہ فساد کی حقیقت کیا ہے اور اس سے کس طرح بچا جا سکتا ہے، اس کو سمجھنے کے لیے علی گڑھ کی مثال لیجیے۔ علی گڑھ کے مسلمان قائدین تحریک کے لفظوں سے (نہ کہ عمل سے) متاثر ہو کر بابری مسجد تحریک کے مسئلہ پر زبردست جوش و خروش دکھا رہے تھے۔ اس کے جواب میں وہاں کے ہندو بھی پوری طاقت سے ابھر آئے ۔ ۸ اکتوبر کو بجرنگ دل، ہندو پریشد اور رام جنم بھومی مکتی سنگھرش سمتی کی جانب سے یک روزہ علامتی ہڑتال ریاست گیر پیمانہ پر ہوئی۔ ایسے نازک مواقع پر مسلم قائدین اپنا " مارچ" ملتوی کر دیتے ہیں مگر علی گڑھ کے مسلمانوں نے اس کے برعکس اپنا " مارچ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ تناؤ اور اشتعال بڑھتا چلا گیا۔ ۸ اکتوبر 1988 کو صبح ۹ بجے سے آر ایس ایس کے رضا کار اپنے ہاتھوں میں ڈنڈے سے لیے ہوئے تمام شہر کی دکانوں کو زبردستی بند کرا رہے تھے۔ ریلوے روڈ، سبزی منڈی اور بڑا بازار میں انھوں نے مسلم اقلیت کی دکانوں کو بھی طاقت کے بل پر بند کرا دیا۔ دکانوں کو بند کرانے سے ان کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔ چنانچہ انھوں نے بند دکانوں کے اوپر بینز لگا دیے، جن پر علی گڑھ کے بجائے " ہری گڑھ " لکھا ہوا تھا۔
مسلمانوں کے لیے یہ منظر نا قابل برداشت ثابت ہوا۔ انھوں نے ان بینروں کو اپنی دکانوں سے اب بجرنگ دل اور آر ایس ایس کے رضا کاروں کا مقصد پورا ہو چکا تھا۔ وہ یہی چاہتے تھے کہ مسلمان مشتعل ہو کر کوئی کارروائی کریں۔ اور مسلمانوں نے بینر ا تار کر وہ کارروائی کر دی۔ وہ تخریب کاری پر اتر آئے۔ چند منٹوں کے اندر خنجر زنی ، لوٹ مار ، آتش زنی اور فائرنگ کا
ہنگامہ برپا ہوگیا ۔ اس فساد میں مسلمانوں کو جان و مال کا جو نقصان اٹھانا پڑا اس کی تفصیل قومی آواز کی رپورٹ ۲۷ اکتوبر ۱۹۸۸ میں دیکھی جاسکتی ہے ۔
ہندو فرقہ پرستوں کے ان "کاغذی" بیڑوں کو مسلمان اگر اپنی دکانوں کے اوپر سے خود نہ اُتارتے تو یقینی طور پر اس کے جھونجے انھیں اتار دیتے ۔ قدرت کا نظام زیادہ بہتر طور پر وہ کام کر دیتا جس کو مسلمان نہایت کم تر انداز میں انجام دینا چاہتے تھے ۔ مگر مسلمان اپنی بے شعوری اور نظام خداوندی کے بارہ میں اپنی بے یقینی کی بنا پر اس کا انتظار نہ کر سکے کہ قدرت کی طاقتیں متحرک ہو کر جھنڈوں اور بیڑوں کے اس کوڑے کو صاف کریں۔ انھوں نے مشتعل ہو کر خود یہ کام کرنا چاہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ انتہائی غیر ضروری طور پر آگ اور خون کی نذر کر دیے گئے ۔
ہندوستان کے فسادات کے سلسلہ میں اصل مسئلہ مسلمانوں کی یہی مشتعل مزاجی ہے نہ کہ اغیار کی کیوں کہ مقابلہ کی اس دنیا میں اشتعال انگیزی کے واقعات تو بہر حال ہوں گے، اوروہ ہندوستان ہی میں نہیں، بلکہ ہر جگہ ہوں گے، حتیٰ کہ مسلم ملکوں میں بھی۔ ہم ان کے وجود کو ختم نہیں کر سکتے۔ البتہ حکیمانہ تدبیر کے ذریعہ اپنے آپ کو ان کے نقصان سے بچا سکتے ہیں۔ اور وہ تدبیر ہے ۔ اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہونا۔
مسلمانوں کا اصل مسئلہ ان کی یہی بے صبری ہے۔ فریق ثانی نے اچھی طرح جان لیا ہے کہ کچھ چیزیں ہیں جن پر مسلمان فوراً بھڑک اُٹھتے ہیں۔ ہر مسلمان کا کوئی "ہری گڑھ" ہے ۔ جب بھی مسلمانوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنا ہو ، فوراً "ہری گڑھ" کا نعرہ لگا دو ۔ اس کے بعد لازماً ایسا ہوگا کہ مسلمان بھڑک اُٹھیں گے اور پھر ان کے خلاف متشددانہ کارروائی کرنے کا موقع مل جائے گا ۔ کا واحد حل یہ ہے کہ مسلمان "ہری گڑھ" پر بھڑکنا چھوڑ دیں ، اس کے بعد تمام فسادات بے زمین ہو کر اپنے آپ ختم ہو جائیں گے ۔