یقینی حل
Al-Risala, February 1989, pp. 15–16
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات کا بلا شبہ یقینی حل ہے ۔ مگر یہ حل " انتظامیہ" کے پاس یہ خود مسلمانوں کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ مسلمان جس روز اس حقیقت کو جان لیں گے، اسی دن اس ملک سے فرقہ وارانہ فسادات اس طرح ختم ہو جائیں گے جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔
اصل یہ ہے کہ یہ دنیا مقابلہ (Competition) کی دنیا ہے۔ یہاں ہر ایک دوڑ رہا ہے۔ ایک دوسرے کا پیچھا کر کے آگے بڑھ جانا چاہتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں لازما ٹکراؤ کے مواقع پیش آتے مذکورہ قانون فطرت کی بنا پر وہ ہمیشہ اور ہر جگہ پیش آئیں گے خواہ وہ دسویں صدی ہو یا بیسویں صدی، خواہ وہ ہندوستان ہو یا پاکستان۔ غرض کہیں بھی مقابلہ اور مسابقت کی یہ حالت ختم ہونے والی ہم مقابلہ کی حالت کو ختم نہیں کر سکتے۔ البتہ ہم اپنے آپ کو اس کی زد سے بچا سکتے ہیں۔ اپنے آپ کو اس سے بچانے کا واحد نسخہ وہی ہے جس کو قرآن میں اعراض (Avoidance) کہا گیا
ہندوستان کے ہندو فرقہ پرستوں نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ مسلمانوں کی ایک کمزوری دریافت کر رکھی ہے۔ یہ کمزوری ہے ان کا مشتعل کے موقع پر اشتعال ہو جانا۔ جن مواقع پر قرآنی حکم کے مطابق اعراض کرنا چاہیے وہاں دوسروں سے الجھ جانا۔ یہ گویا مسلمانوں کا کمزور مقام (Vulnerable point) ہے۔ اسی کمزور مقام سے فریق ثانی ان پر حملہ کرتا ہے اور مسلمانوں کی بے شعوری کی بنا پر ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے۔